مرکز
1 2 3

شمع کبانی:کامیابی کی بلندیوں پر

اسکول آپ کو پڑھنا سکھاتے ہیں لیکن یہ آپ کی ذمّہ داری ہے کہ آپ اپنی تعلیم کو حاصلِ زندگی بنائیں، خاص طور پر جب سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا جیسے دور جدید کے میدانوں کا تعلق ہو۔


سوشل میڈیا گرو اور معروف مصنفہ شمع کبانی ایک طویل عرصے سے تجارتی مہم جو رہی ہیں۔ محض نو سال کی عمر میں ہی انھوں نے اپنا پہلا کاروبار گِفٹ ریپر فروخت کرکے شروع کیا تھا۔

کبانی کہتی ہیں ’’کاروبار تو ٹھپ ہوگیا لیکن مجھے خاصہ تجربہ دے گیا۔ بڑے ہوکر میں ایک ساتھ کئی کام کرنا چاہتی تھی۔ میں ایک صحافیہ، ایک ٹیچر یہاں تک کہ بالی ووڈ کی ایک اداکارہ بننا چاہتی تھی۔ میری ماں چونکہ خود ایک اداکارہ ہیں، اس لئے انھوں نے قدم قدم پر میرا ساتھ دیا۔ میرے والد مجھے ایک ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے۔ آج میں جو کام کررہی ہوں وہ صحافت، ٹیکنالوجی اور میڈیا جیسے پیشوں کا امتزاج ہے۔ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ میرا کیریئر میرے تین پسندیدہ پیشوں کا ایک حسین گلدستہ ہے۔‘‘

مہم جو تاجروں کے لئے ایک اعلیٰ وسیلے کی حیثیت رکھنے والی ویب سائٹ fastcompany.com نے کبانی کو ’’دنیا کی ماسٹر َالف سعادتی‘‘ اور ’’آن لائن مارکیٹنگ شمَن‘‘ قرار دیا ہے۔ بزنس ویک میگزین نے ۲۰۰۹ میں انھیں امریکہ کے ۲۵ سال سے کم عمر کے ۲۵ اعلیٰ ترین مہم جو تاجروں میں شمار کرتے ہوئے انعام و اکرام سے نوازا تھا۔

’’دی زین آف سوشل میڈیا‘‘ (۲۰۱۰) کی مصنفہ کبانی دنیا کے گوشے گوشے میں خطاب کے لئے جاتی رہتی ہیں۔ وہ بزنس ویک اور دی وال اسٹریٹ جرنل جیسی متعدد اشاعتوں میں ایک ماہر کی حیثیت سے اپنی خدمات فراہم کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ خود اپنا ویب پر مبنی ٹیلی ویژن شو shama.TV بھی چلاتی ہیں۔

کبانی اپنی کامیابی کو مشرقی اور مغربی علمی اور ثقافتی قدروں کے ایک غیر معمولی امتزاج کی رہین منت قرار دیتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں ’’میری پیدائش گوا میں ہوئی لیکن میری پرورش و پرداخت بنگلور میں ہوئی۔‘‘ ان کا بچپن بہت ہی پُرسکون گزرا۔ کھیلوں میں شرکت، ٹیلنٹ شوز میں حصّہ داری، ننوں کی تربیت اور اقامت گاہ کے فادر کی نگرانی میں ان کا بچپن گزرا۔ وہ کہتی ہیں ’’جیساکہ بیشتر کیمبرج طرز کے ہندوستانی اسکولوں میں دیکھا گیا ہے، یہاں بھی نظم و ضبط پر بہت زیادہ زور دیا گیا تھا۔ یہاں میں محنت شاقّہ اور سرگرم عمل رہنے کی برکتوں سے آشنا ہوئی۔ میری ایک چھوٹی بہن بھی ہے۔ میں نے بچپن کا خوب لطف اٹھایا۔ بارش میں کھیلنا، داداجان کے ساتھ ٹہلنے جانا اور گھر سے ہی بوٹیک کا کاروبار کرنے والی اپنی ماں کی مصروفیات کو دیکھنا میرے مشاغل میں شامل تھا۔‘‘

کبانی نو سال کی عمر میں ٹیکساس، امریکہ منتقل ہوگئیں۔ وہ کہتی ہیں ’’ثقافتی فرق کی وجہ سے یہ منتقلی خود اپنے آپ میں ایک چیلنج تھی۔ یہاں یونیفارم کی پابندی، وہاں جینز پہننے کی اجازت عام، یہاں نصابی کتابوں پر اصرار شدید اور وہاں ناولوں پر نقد و تبصرے۔ زمین و آسمان کا فرق تھا۔ کبھی کبھی میں سوچنے لگتی ہوں کہ میری ابتدائی ہندوستانی تعلیم اور ثانوی امریکی تعلیم کے امتزاج کے سر ہی میری کامیابی کا سہرا بندھتا ہے۔ میں امریکی کلاس روم میں داخل ہوئی تو ہندوستان کی آب و ہوا میں رچی بسی اعلیٰ قدریں، آداب اور سنسکار میرے رفیق تھے۔ امریکہ میں، میں نے تخلیقیت اور ٹیم ورک کا سبق سیکھا۔ چونکہ میرے والدین پورے وقت کام کرتے تھے، اس لئے وہ جب تک گھر نہیں لوٹتے تھے تب تک میں گھر میں تنہا رہتی تھی۔ یہ صورت حال ہائی اسکول تک جاری رہی۔ میں اپنی ٹیچروں کی بہت احسان مند ہوں جنھوں نے مجھے اپنا بھرپور تعاون دیا اور میری تربیت پوری ذمّہ داری کے ساتھ کی۔ تحریر اور ٹیکنالوجی میں میری دلچسپی پیدا کرنے میں میرے اساتذہ کا زبردست رول رہا ہے۔‘‘
کبانی نے آسٹن میں واقع یونیورسٹی آف ٹیکساس سے کارپوریٹ کمیونیکیشن میں بیچلرز ڈگری اور آرگنائزیشنل کمیونیکیشن میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔

اسکولی تعلیم کے دور میں اپنے مثبت تجربات کے باوجود، کبانی مشورہ دیتی ہیں کہ وہ افراد جو اس ڈیجیٹل دور میں ان کے نقش قدم کی پیروی کرنا چاہتے ہیں، انھیں اپنی تعلیم کی ذمّہ داری خود لینی چاہئے۔ وہ کہتی ہیں ’’میں اکثر دیکھتی ہوں کہ طلبہ اسکولوںاور کیریئر مراکز پر کچھ زیادہ ہی بھروسہ کرنے لگتے ہیں۔ اسکول آپ کو پڑھنا سکھاتے ہیں لیکن یہ آپ کی ذمّہ داری ہے کہ آپ اپنی تعلیم کو حاصلِ زندگی بنائیں، خاص طور پر جب دور جدید کے میدانوں مثلاً سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا کا تعلق ہو۔ آج جو کیریئر رائج ہیں، پانچ سال پہلے ان کا وجود بھی نہ تھا اور ہم کو یہ بھی نہیں معلوم کہ آئندہ ۱۰ یا ۱۵ سالوں میں کون کون سے کیریئر منظرعام پر آنے والے ہیں۔۔۔‘‘ وہ کہتی ہیں ’’اب کیریئر کی راہوں کی واضح تعریفیں متعین نہیں کی جاسکتیں اور کوئی کیریئر بھی ۱۰۰ فیصد محفوظ نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ڈاکٹروں اور انجینیئروں کو بھی حالات حاضرہ کے تقاضوں کے تحت خود کو بہتر از بہتر بنانا ہوگا وگرنہ ان کے حاشئے پر چلے جانے کا اندیشہ لاحق ہوگا۔‘‘

کبانی کا ارادہ ہے کہ وہ ۲۰۰۹ میں اپنی قائم کردہ کمپنی ’’دی مارکٹنگ زین گروپ‘‘ کو پروان چڑھائیں گی کیونکہ اس کی رفتارِ ترقی انتہائی تیز ہے۔ وہ کہتی ہیں ’’میرے منصوبے میں یہ بھی شامل ہے کہ میں ٹی وی اور ویب کے ذریعے سامعین کی نسبتاً بڑی تعداد سے ٹیکنالوجی کے تئیں اپنے جذبات کا اظہار کرتی رہوں۔‘‘

 


کینڈس یکونو، جنوبی کیلی فورنیا میں اخبارات ورسائل کی رائٹر ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط