مرکز
1 2 3

فیس بک کا جنون

سماجی میل جول کے مشہورسائٹ پر ایک فکر


بعض اوقات یہ سوچ کر پریشان ہوجاتی ہوں کہ ہمارے معاشرے میں ’’ایف‘‘ورڈ کتنارائج ہوگیا ہے۔ یہ اتنا عام ہوگیا ہے کہ جو لوگ فیس بک استعمال نہیں کرتے، ان کو غیر مہذب سمجھا جاتا ہے۔ میں سماجی میل جول کے سائٹ ’’فیس بک‘‘ کی بات کررہی ہوں۔ جی ہاں، فیس بک! وہ سائٹ جسے آپ نے س مضمون کو جس لمحے پڑھنا شروع کیا ہے شاید ا سی لمحے اپنے موبائل فون کے دوسرے ونڈو پر کھول رکھا ہو۔
آخراس ’’ایف‘‘ ورڈ کے بارے میں اتنی اہم چیز کیا ہے جس نے لوگوں کے ایک دوسرے کے ساتھ ر بط ضبط کے طریقے کو انقلاب سے دوچار کردیا ہے؟ لوگ اس کی لت میں کیوں مبتلا ہیں؟
لوگوں،خاص کر کالج کے طلبا پر فیس بک کے زبردست اثرات اس سچائی سے ثابت ہوجاتے ہیں کہ یہ کالجوں‘ کلبوں اور تنظیموں کی تقریبات کو مشتہر کرنے کے بنیادی فورموں میں سے ایک فورم بن گیا ہے۔ہروہ کلب ، جس کی میں رکن ہوں ، فیس بک گروپوں یا کسی واقعہ کو اپنی بازاریابی کی حکمت عملی کے طور پر استعما ل کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی سائٹ ہے جس کے بارے میں ضمانت دی جاسکتی ہے کہ آپ کے کالج کے احاطے میں ہر شخص کم سے کم ایک بار ضرور اسے کھول کر دیکھ لیتا ہے کہ اس پر کیا نیا آیا ہے اور اس طرح یہ تشہیر کا ایک بہت بڑا پلیٹ فارم ہے۔
امریکی یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے کے آرزو مند ممکنہ درخواست دہندگان کیلئے سماجی میل جول نمایاں اہمیت کی حامل چیز ہے۔ ڈبلیو ڈبلیوڈبلیو آل فیس بک ڈاٹ کام (www.allfacebook.com) پر شائع شدہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’کالجوں میں داخلہ کے جتنے بھی دفاترہیں، ان میں سے ہر پانچ میں چار دفاتر طلبا و طالبات کو داخلہ دینے کیلئے اس سماجی نٹ ورک کو استعمال کرتے ہیں۔‘‘ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’یہ اعداد و شمار ٹیسٹ کیلئے طالب علموں کو تیار کرنے والی ایک کمپنی کپلان ٹیسٹ پریپ کے زیراہتمام ۲۰۱۰کے کالج داخلہ افسران کے سروے سے حاصل ہوئے ہیں ۔ اس کمپنی کے سینئر کمیونی کیشن منیجر رسل شیفر نے ایک ای میل میں وضاحت کی ہے کہ ’’ہم نے یہ دیکھا ہے کہ داخلہ افسروں میں سے 82فی صد نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ طلبا کو بھرتی کرنے کیلئے ان کا اسکول فیس بک کو استعمال کررہا ہے۔‘‘
اس رپورٹ میں مزید لکھا گیا ہے کہ ’’اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی فیس بک پروفائل (تعارف) کے مندرجات کسی طالب علم کو داخلہ دینے یا نہ دینے کے فیصلہ پر اثرا نداز ہوتے ہیں لیکن ہم لوگوں کو شبہ ہے کہ زیادہ مسابقتی تعلیمی ادارے درخواست دہندہ کی سماجی ذرائع ابلاغ پر موجودگی کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں۔‘‘
فروری میں اپنے بلاگ پر ایک اندراج میں اسٹوڈنٹ ایڈوائزر ڈاٹ کام (studentadvisor.com)کے ایڈیٹر ان چیف ڈین سوویلاس نے اس سلسلے میں بڑے مفید مشورے دےئے کہ درخواست دہندگان اس سماجی نیٹ ورک کو اپنے فائدہ کیلئے کس طرح استعمال کرسکتے ہیں۔سوویلاس نے مشورہ دیا کہ جن درسگاہوں میں کوئی طالب علم داخلہ کی درخواست دینا چاہتا ہے، ان سے متعلق اس سماجی ذریعہ ابلاغ میں ملنے والی اطلاعات پروہ نظر رکھے‘ اچھی تحریر کی ہنر مندی کا مظاہرہ کرنے کیلئے بلاگنگ کے آلات کو استعمال کرے اور اس سلسلے میں رازداری برتنے کا طریقہ اپنائے کہ کالج کے داخلہ افسران انھیں محدود معلومات کو دیکھ سکیں جو وہ دکھانا چاہے۔ ساتھ ہی وہ یو ٹیوب پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کرے جس میں بتائے کہ وہ کسی خاص تعلیمی ادارے میں داخلہ میں آخر کیوں چاہتا ہے ۔ان کوششوں سے طالب علم اپنا مقصد حاصل کرسکتا ہے ۔
فیس بک، اسٹیٹس کو اپ ڈیٹ کرکے یعنی پروفائل میں تازہ ترین تبدیلی کے ذریعہ، تعلقات کے بارے میں تازہ ترین معلومات شامل کرکے لوگوں کو ایک دوسرے کے ربط میں رہنے کی سہولت دیتاہے ۔ میں جویہ بات جانتی ہوں اس کا واحد سبب یہ ہے کہ مجھے اپنی ہائی اسکول کی ایک سہیلی کے بارے میں ، جو کہ مجھ سے ۱۱۰۰۰کلومیٹر کی دوری پر رہتی ہے اور جس سے میں شاید ہی کبھی بات کرتی ہوں، معلوم رہتا ہے کہ اس کے بوائے فرینڈ کے ساتھ تعلقات منقطع ہوچکے ہیں یا کہ اس نے ایک حیرت انگیز فلم دیکھی ہے یا اس نے کوئی لذیذ چاکلیٹ کھایا ہے اور یہ ساری معلومات مجھے فیس بک سے ملتی ہیں۔ تاہم بعض اوقات اسٹیٹس اپ ڈیٹ سے عملی مقاصد حل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر میری ایک سہیلی تصویروں کو یکجا کر کے سالگرہ آرٹ کیلئے ۱۵۰فوٹو پرنٹس بنوانا چاہتی تھی‘ اس کیلئے اس نے اپنے اسٹیٹس پر لکھ کر دوستوں سے جاننا چاہا کہ اسے مفت پرنٹ کہاں ملیں گے۔ اس حیرت انگیز فیس بک فورم کی مدد سے مجھے ٹھیک ٹھیک معلوم ہوگیا کہ مجھے اگر فوٹو پرنٹس کی ضرورت ہوتو کیا کرنا درست ہوگا لیکن جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ اسٹیٹس صرف بعض اوقات کار آمد ہوتے ہیں ورنہ بیشتر دیگر موقعوں پر جو بھی اندراج آتا ہے، وہ کسی کی زندگی کے بارے میں یااس کے پسندیدہ نغمات کے بارے میں غیر ضروری تفصیل سے زیادہ کا نہیں ہوتا۔
جہاں تک فیس بک کا چسکا لگنے کا معاملہ ہے، اس کے اسباب میں ایک یہ ہے کہ فیس بک پر مفت آن لائن گیمز دستیاب ہیں جنہیں آپ اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ آپ اگر ٹیٹرس ٹیبل کے چمپئن ہوجائیں تو اس سے زیادہ بہتر اور کیا ہوسکتا ہے کہ آپ اپنے دوستوں کے ساتھ مقابلہ کریں اور ہر کسی کے نیوز فیڈمیں اپنے چمپئن ہونے کو دکھاسکیں۔ شاید اس سے زیادہ مزید ار اور کچھ نہیں ہے۔
گزشتہ سمسٹر کے آخری ہفتے تھے۔ میں اسٹڈی روم میں داخل ہوئی جو طلبہ سے بھرا ہوا تھا۔ وہ لوگ کسی خاص چیز پر ساری توجہ مرکوز کئے نظر آئے۔ میں نے بیٹھ کراپنی نوٹ بک نکالی ہی تھی کہ جوش بھرے شور سے میرے کان بہرے ہونے لگے۔ میں نے غلطی سے یہ سمجھ لیا تھا کہ کسی علمی معاملہ میں سرگرم یہ طلبا و طالبات ساری توجہ مرکوز کئے بیٹھے ہیں۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ پورے انہماک سے لگے ہو ئے یہ لوگ سہل پسند ہیں اور کمپیوٹر اسکرین کے سامنے یکجا ہوکر ایک دوسرے کے ساتھ کریزی ٹیکسی کھیل رہے ہیں۔
مان لیں کہ آپ فیس بک کے نوٹی فیکیشنس پر دھیان دینے والے یا دوستی کے خواہش مندوں کی درخواست پر توجہ دینے والے یا چٹ پٹی افواہوں سے مزہ لینے والے شخص نہیں تو بھی آپ پسندیدہ گیمز کی لت میں مبتلا ہوجائیں گے۔
ابھی چند روز کی بات ہے۔ میں کلاس کی طرف جارہی تھی۔ راستہ میں دو لڑکیوں کو بات کرتے سنا۔
’’تم نے سنا‘ کیٹی اور جان میں علیحدگی ہوگئی‘‘۔
’’ارے نہیں‘ دونوں ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔ تمہیں کس نے بتایا‘‘۔
’’کسی نے نہیں۔ فیس بک پر آیا ہے‘‘۔
’’اوہ! اس لئے اب ’فیس فیشیل‘ہوگیا‘‘۔
مجھے یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ اگر اب کسی چیز کو قابل یقین بنانا ہوتا ہے تواس کا فیس بک پر پوسٹ ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ملٹی میڈیا نیوز فیڈس پر اس کی تشہیر اور اس پر کئی لوگوں کی رائے زنی بھی ضروری ہوتی ہے۔ بعض لوگ ’’اٹ از ناٹ آفیشیل‘‘ اٹ از فیس فیشیل‘‘ محاورہ کو بڑی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔
مجھے غلط نہ سمجھیں۔ میں یہ جتانے یا بتانے کی کوشش میں نہیں کہ میں فیس بک کو پسند نہیں کرتی یا فیس بک کی دنیا کے حیرت کدے کی زد میں نہیں آئی ۔ سچ تویہ ہے کہ اس پورے عمل کو زیادہ سے زیادہ تفریحی بنانے کیلئے میں نے اس کا شمار رکھا کہ فیس بک پر جانے کے لئے میں نے رائیٹرس بلاک جانے کابہانہ کیا۔ اکیس بار۔۲۱بار فیس بک پر جانے کے دوران میں نے پانچ بار ٹیٹرس کھیلا۔اب تک کا بہترین گیم۔ اس مضمون کے لکھنے میں مجھے جتنا وقت لگا، اس کے درمیان میں نے وقفہ وقفہ سے فیس بک چیک کرنے میں ڈیڑھ گھنٹے کا وقت لگایا۔
لیکن آپ ’’فیس بک کے جنون‘‘ کو اس بات کا موقع نہ دیں کہ وہ آپ پر قابو پالے۔

بھا ؤنا مرلی اوہائیوویسلیان یونیورسٹی میں ایک جونیئر ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط