مرکز
1 2 3

میٹ مولن ویگ: ورڈ پـریس کے بانی

ورڈ پریس نے بلاگنگ کو دنیا کے انتہائی ذی اثر اوپن سورس پبلشنگ سسٹم میں تبدیل کردیا ہے۔

جوشخص بھی ایک قاری،ایک قلمکار یا دونوں کی حیثیت سے بلاگ کی دنیا سے وابستہ ہوگا، شاید وہ ورڈ پریس سے آشنا ہوگا کیونکہ اس کا شمار دنیا کے مقبول ترین بلاگنگ پلیٹ فارموں میں کیا جاتا ہے۔

بیشتر لوگ اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ ورڈ پریس نے بلاگنگ کو دنیا کے انتہائی ذی اثر اوپن سورس پبلشنگ سسٹم میں تبدیل کردیا ہے۔ ہوش ربا اعداد و شمار کے جھرمٹ میں میٹ مولن ویگ کے بلاگنگ پلیٹ فارم ورڈ پریس کا اپنا ایک منفرد مقام ہے۔ آج انٹرنیٹ پر جملہ ویب سائٹوں میں کم و بیش ۱۲ فیصد سائٹیں ورڈ پریس کے ذریعے چلائی جارہی ہیں۔ ان میں متعدد کمپنیوں اور میڈیا تنظیموں کی سائٹیں بھی شامل ہیں۔

بلاگ اور اوپن سورس

ویب پر ورڈ پریس کی ترقی اس کے بانی میٹ مولن ویگ کی دو چیزوں کی لگن کی رہین منت ہے۔ اوّلاً بلاگنگ کی لگن اور دوسرے ایسے اوپن سورس سافٹ ویئر کی لگن جس میں مناسب ترمیم کی جاسکتی ہو اور جسے ہر کوئی آسانی سے استعمال کرسکتا ہو۔

ایپل کے اسٹیو جوبس یا فیس بُک کے مارک زیوکر برگ نے میڈیا کی توجہات حاصل کرنے میں کوئی دقیقہ باقی نہیں رکھا لیکن مولن ویگ اس کے برعکس گذشتہ آٹھ سالوں سے انتہائی خاموشی کے ساتھ انٹرنیٹ کی نئی صورت گری میں منہمک رہے۔ انھوں نے اپنے شہر کے ایک مقامی اخبارہوسٹن کرونیکل سے کہا تھا ’’سافٹ ویئر اگر ایک بلیک باکس کی طرح ہو تو آزادی اور شفافیت اپنا مفہوم کھو بیٹھتے ہیں۔ البتہ اگریہ اوپن سورس ہو تو یہ آزادی کا ایک وسیلہ بن جاتا ہے۔‘‘

ستائیس سالہ مولن ویگ کو بلاگنگ کا چسکا اس وقت پڑا جب وہ یونیورسٹی آف ہوسٹن میں زیرتعلیم تھے۔ یہاں انھوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ورڈ پریس کا سورس کوڈ تیار کیا جس کا اجرا ایک سادہ سی تقریب میں ۲۰۰۳ میں کیا گیا۔ ایک سال بعد، انھوں نے اسکول چھوڑدیا اور سان فرانسسکوچلے گئے جہاں انھوں نے انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی ایک فرم سی این ای ٹی کو اپنی خدمات فراہم کیں۔ ۲۰۰۵ میں، انھوں نے آٹومیٹک نام کی ایک کمپنی بنائی جو ویب سے متعلق متعدد سرگرمیوں میں حصّہ لیتی تھی۔ ورڈ پریس کا آغاز یہیں سے ہوا۔

حالانکہ ’آٹومیٹک‘ انٹرنیٹ پر ایک دیوقامت حیثیت رکھتی ہے تاہم یہ بہت چھوٹی فرموں میں سے ایک ہے۔ جہاں تک اس کی جغرافیائی وسعت کا تعلق ہے، اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ۶۲ ملکوں میں اس کے محض ۹۰ ملازمین سرگرم عمل ہیں۔ انھوں نے ٹیکنالوجی سے متعلق ویب سائٹ اسٹپنگ آف دی ایج کو بتایا کہ ’’بہترین افراد حاصل کرو خواہ وہ دنیا کے کسی گوشے میں ہوں۔ ہم کو اب فیکٹری ماڈل کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

ورڈ پریس کمیونٹی

ورڈ پریس دو نہج پر کام کرتی ہے۔ ورڈ پریس ڈاٹ کام   ایک بلامعاوضہ تکمیلی ویب پبلشنگ سروس ہے جو ۱۲۰ سے زیادہ زبانوں میں گوناگوں خدمات فراہم کرتی ہے۔ ان میں مختلف ٹیمپلیٹس اور تھیمس کا انتخاب شامل ہے۔ 

ورڈ پریس ڈاٹ کام  یکساں نوعیت کا اوپن سورس سافٹ ویئر پیش کرتی ہے جسے استعمال کرنے والے تجارتی یا دیگر مقاصد کے لئے ڈائون لوڈ کرکے اپنے ذاتی کمپیوٹروں اور سروروں میں نصب کرسکتے ہیں تاکہ انھیں آزادی سے چلا سکیں۔ وہ اپنی مرضی کے مطابق سافٹ وئیر میں ترمیم یا ’’فورک‘‘ کرسکتے ہیں۔ اس کا کمزور پہلو بس ایک ہی ہے کہ کسی بھی شخص کو ورڈ پریس کے استعمال سے روکا نہیں جاسکتا کیونکہ اوپن سورس ماڈل کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے۔

ورڈ پریس ڈاٹ کام کا استعمال حالیہ برسوں میں بڑھا ہے۔ 

دسمبر ۲۰۰۹ میں جب ورڈ پریس ورژن ۲.۹ کا اجراء ہوا تھا تو اس کا اوسط یومیہ ڈائون لوڈ تقریباً ۴۷,۰۰۰ تھا۔ لیکن ورڈ پریس فائونڈیشن کے مطابق جون ۲۰۱۰ میں ورژن ۳.۰ کے اجراء کے بعد اس کا یومیہ اوسط ڈاؤن لوڈ بڑھ کر ۲,۳۵,۰۰۰ ہوگیا۔

مولین ویگ ایک ماہر فوٹو گرافر اور جاز کے دلدادہ ہیں۔ وہ ممکنہ حد تک اپنے گاہکوں اور صارفین سے گہری وابستگی کی اہمیت و افادیت کو خوب سمجھتے ہیں۔ انھوں نے اپنے بلاگ پر لکھا ہے کہ ’’ہم ایک ایسے معاشرے کو جنم دینا چاہتے ہیں جس کے افراد آج کے مقابلے میں۰اسے ۳۰ سال آگے ہوں گے اور وہ بازار کی متلون مزاجی سے بھی  آزاد ہوں گے۔‘‘

ورڈ پریس اوسطاً ہر سال تین بڑے اجرا کرتا ہے۔مولن ویگ کہتے ہیں ’’یہ وسیع تر ورڈ پریس کمیونٹی ہی ہے جو ہم کو ترقی کی اس رفتار سے آشنا کرتی ہے۔‘‘ 

مولین ویگ مسلسل سفر کرتے رہتے ہیں۔ ان کے بیشتر دوروں کا مقصد دنیا کے گوشے گوشے میں منعقد ہونے والے ورڈ کیمپوں میں شرکت ہے جن میں ہزاروں کی تعداد میں بلاگرس، ویب ڈیولپرس اور ورڈ پریس کے استعمال کنندگان شریک ہوتے ہیں۔ فروری ۲۰۰۹ میں، ہندوستان نے اپنا پہلا ورڈ کیمپ نئی دہلی میں منعقد کیا جس میں مولین ویگ ایک خصوصی مقرر کی حیثیت سے شریک ہوئے۔

انھوں نے بتایا ’’میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ مجھے یہ بتانے آتے ہیں کہ ورڈ پریس ان کے لئے ذریعۂ معاش بن گیا ہے ۔ اب اس سے زیادہ خوشی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ آپ کی مصنوعات سے لوگ فیضیاب ہورہے ہیں، انھیں کام مل رہا ہے اور وہ اپنے کنبوں کی کفالت کررہے ہیں۔‘‘

ورڈ پریس جس کی بنیاد فیس بُک اور ٹوئٹر کے زمانے سے پہلے رکھی گئی تھی، اب  اپنے پُرشباب آغاز کی طرح نہیں ہے۔ لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہوتی آن لائن دنیا کو اب سوشل نیٹ ورکنگ سائٹوں کی نئی پود سے مسابقہ درپیش ہے، خاص طور پر فری فارم مائکرو بلاگنگ سائٹ ٹمبلر سے انھیں مقابلہ درپیش ہے۔

جب مولین ویگ سے دونوں کا موازنہ کرنے کے لئے کہا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’’ اگر آپ تصویریں حاصل کرنا یا ارسال کرنا چاہتے ہیں، یا ری بلاگ کرنا چاہتے ہیں تو ٹمبلر کا انتخاب بہترین ہوگا۔ لیکن اگر آپ اپنی آواز قائم کرنا چاہتے ہیں یا خود اپنا دائرۂ اثر بنانا چاہتے ہیں تو ورلڈ پریس ہی مناسب ہوگا۔‘‘

 بہرحال،مولین ویگ کی توجہات کا مرکز اوپن سورس سافٹ ویئر کے ذریعے ایک وسیع آن لائن کمیونٹی کی تشکیل ہے۔

ہاورڈ سنکوٹا امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے وابستہ قلمکار اور ایڈیٹر ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط