مرکز
1 2 3

سنجیت بسواس: کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے رہنما

سنجیت بسواس میراکی کے شریک بانی اور سی ای او ہیں ۔ میراکی ایک ایسی کمپنی ہے جس نے تیزی سے ارتقا پزیر کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے شعبے میں رہنما کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔

سنجیت بسواس نے بچپن سے ہی کمپیوٹر سائنس سے متعلق اپنے والد کی کتابیں پڑھنی شروع کردی تھیں۔ سوال یہ نہ تھا کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں انہیں کامیابی ملے گی یا نہیں۔ سوال یہ تھا کہ یہ کامیابی انہیں کب ملے گی؟ اور اندازے سے کہیں قبل اس سوال کا جواب مل گیا۔

بسواس کیلی فورنیا میں پیدا ہوئے اور یہیں ان کی پرورش ہوئی۔ پندرہ سال کی عمر میں ایک کمپیوٹر انجینئر کی حیثیت سے انہوں نے ڈاٹا بیس کمپنی اور یکل میں ملازمت اختیار کرلی۔ اس میں وہ سب سے کم عمر کمپیوٹر انجینئر تھے۔ اور یکل میں ان کے ایک رفیق کارنے ۱۹۹۸ کی ایک اخباری کہانی میں تحریر کیا تھا کہ ’’ان کی کم عمری اس وقت ظاہر ہوتی تھی جب کام ختم کرنے کے بعد تیزی سے باہر جانا چاہتے تھے تاکہ ان کی والدہ انہیں گھرلے جاسکیں۔‘‘

آج ۳۰ سال کی عمر میں وہ ’’میراکی‘‘ کمپنی کے شریک بانی اور سی ای او ہیں۔ سین فرانسسکو، کیلی فورنیا کی اس کمپنی نے کلائوڈ کمپیوٹنگ کے میدان میں تیز رفتار ترقی کی ہے۔ کلائوڈ کمپیوٹنگ کا مفہوم یہ ہے کہ مشترکہ و سائل کو، خواہ ان کا تعلق سافٹ وئیر ایپلی کیشنز سے ہویا ڈاٹا منتقلی سے ہو یا پھر اسٹوریج سے ہو، کسی الکٹرک گرڈ کی طرح ایک کار مند شے کے طور پر انٹرنیٹ پر ڈالا جاسکتا ہے۔

’’میرا کی‘‘ کسی جگہ بھی آسانی سے نصب شدہ وائرلیس نیٹ ورکس مہیا کرانے کے لئے کلائوڈکمپیوٹنگ ماڈل کا استعمال کرتی ہے۔ ان میں جنوب ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ سمیت وہ تمام مقامات شامل ہیں جہاں پہلے یا تو انٹرنیٹ کا وجود نہ تھا یا پھر انٹرنیٹ تک رسائی بہت گراں تھی۔

 میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی نے ۲۰۰۷ میں بسواس کا شمار ۳۵ سال سے کم عمر کے زمرے کے بہترین موجدوں میں کیا ہے۔ ایک سال بعد، اِنک میگزین نے ان کا شمار ’’۳۰ انڈر ۳۰‘‘ مہم جوتاجرو ں میں کیا۔ اسی طرح ۲۰۱۰ میں لیپ ٹاپ میگزین نے انہیں موبائل ٹیکنالوجی کے میدان میں ۲۵ انتہائی ذی اثر افراد میں سے ایک فرد قرار دیا ہے۔

’’ہوائی موجوں کو آزاد رہنے دو‘‘

نشریے کے افق کو عوامی بنانے کے سلسلے میں جاری عوامی مہم ’’فری دی ایئر ویوز‘‘ کے ایک جز کے طور پر بسواس نے یوٹیوب پر اعلان کیا کہ ’’میراکی کا نصب العین مزید کروڑوں لوگوں کو انٹرنیٹ سے جوڑنا ہے۔ ۲۰۰۸ میں، جب بسواس اورمیراکی کے چند رضا کار سین فرانسسکو کے ایک کم آمدنی والے کمپلکس میںپہنچے تو انہوں نے وہ کچھ کر کے دکھایا جس کا وہ دعویٰ کیا کرتے تھے۔ ایک نیٹ ورک روٹر نصب کرنے کے بعد، انہوں نے پوری عمارت میں وائرلیس رپیٹرز جوڑ دئے۔ اس پورے کام میں انہیں کئی گھنٹے لگے۔ اس کے بعد انہوں نے سسٹم شروع کردیا۔ بسواس کہتے ہیں ’’چند ہی لمحوں میں، اس کمیونٹی میں جہاں انٹرنیٹ تک رسائی ممکن نہ تھی، تمام عمارتوں اور گھروں میں مفت وائی فائی کی سہولت دستیاب ہوگئی۔‘‘

بجاطور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک انتہائی مسابقت آمیز میدان میں جس پر سسکو سسٹمز جیسی دیوپیکر صنعتیں چھائی ہوئی ہوں، میراکی کو پورے امریکہ اور بیرونی ملکوں میں اسکولوں، کاروباروں، رہائش گاہوں اور سرکاری دفتروں میں اپنی ٹیکنالوجی فراہم کرنے میں غیر معمولی کامیابی ملی ہے۔

ایم آئی ٹی اور ایجاد و اختراع

اوریکل میں کام کرنے اور ایس اے ٹی کالج کوالی فکیشن امتحان میں اچھے نمبروں سے کامیابی کے بعد، بسواس نے کیلی فورنیا کی اسٹین فورڈ یونیورسٹی اور ایم آئی ٹی سے کمپیوٹر سائنس اور انجینئرنگ میں ڈگریاں حاصل کیں۔ ایم آئی ٹی میں اپنے ڈاکٹورل پروگرام کے لئے بسواس نے میش تکنالوجی کے نام سے معروف ایک پیش رونیٹ ورک ایپلی کیشن میں تحقیق کی۔ اس ’’میش‘‘ یا ’’اسمارٹ‘‘ نیٹ ورک میں، کمیونکیشنز نوڈز ازخود ڈاٹا وصول یا منتقل نہیں کرتے بلکہ نوڈز ڈاٹاکی سگنل قوت اور دوری کا تجزیہ کرتے ہیں تاکہ یہ طے کر سکیں کہ نیٹ ورک کے ساتھ کس نوڈ کو ڈاٹا منتقل کرنا چاہئے۔

عملی اصطلاح میں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ نیٹ ورک تیز رفتاری کے ساتھ بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہوسکتا ہے خواہ وہ ریڈو نشریات میں تبدیلی ہو یا کوئی اور رکاوٹ ہو، اگرچہ وہ گزرتے ہوئے سڑک سے پیدا شدہ کوئی چھوٹے سے چھوٹا خلل ہی کیوں نہ ہو۔ تیار ہارڈ وئیر کے ساتھ جوڑے جانے پر یہ نیٹ ورکس، قابل اعتماد انٹرنیٹ رسائی سے محروم نادار یا حاشیہ پر کھڑی کمیونٹیز کوسستی وائرلیس کمیونکیشنز مہیا کرسکتے ہیں۔

سن ۲۰۰۶ میں بسواس نے ایم آئی ٹی سے چھٹی لی اور اپنے ساتھی طالب علم جون بکیٹ کے ہمراہ ’’ میراکی‘‘ قائم کی جس کی بنیاد ان کے تحقیقی نتائج پر رکھی گئی تھی۔ سستی وائرلیس تنصیبات کے علاوہ میراکی، اسمارٹ فونوں، آئی پیڈز اور دوسرے موبائل آلات کے تکاثر سے پریشان نیٹ ورک منتظمین کے لئے ایک اور جاذب نظر پیش کش کر رہی ہے۔ میراکی کلائوڈ کنٹرول کے ذریعے، وہ محض ایک سادہ سی ویب اسکرین کو استعمال کرتے ہوئے ایک مرکزی جگہ سے جغرافیائی طور پر منتشر وائرلیس سسٹم کا انتظام سنبھال سکتے ہیں۔

میراکی اپنی خدمات ۱۴۰ سے زیادہ ملکوں میں واقع کم و بیش ۰۰۰،۱۸ کمپنیوں، اسکولوں اور دوسری تنظیموں کو پیش کر رہی ہے۔ اپریل میں، کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ گزشتہ سال کی سہ ماہی میں ۳۰۰ فیصد اضافۂ آمدنی کے ساتھ ساتھ اس نے ۲۰۱۱ کے پہلے تین مہینوں میں ۱۲۰۰نئے گاہکوں کا اضافہ کیا ہے۔

بسواس کے بقول ’’میراکی کے ذریعے ہم نے انٹرنیٹ تک رسائی کو ارزاں بنانے کی کامیاب کوشش کی ہے تاکہ وہ لوگ جو آن لائن ہونے کی سکت نہیں رکھتے، وہ بھی اس سے استفادہ کرسکیں۔‘‘

ہاورڈ سنکوٹا، امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے منسلک رائٹر اور ایڈیٹر ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط