مرکز
1 2 3

کھیلوں کی سحر انگیز دنیا

بعض اوقات آپ ایسے تمام ضابطوں کو توڑ سکتے ہیں جو کسی کھیل کو مزے دار چیز بنانے کے لئے ضروری سمجھے جاتے ہیں ۔ اس کے با وجود ہو سکتا ہے کہ یہ تجربہ کامیاب ہو اور نئے نئے گیمس تخلیق کر نے کا ہنر شاید اسی میں ہے۔ 

ویڈیو گیمس کی دنیا میں ایک بٹن کوچھوتے ہی آپ ڈریگنس کی سواری کر سکتے ہیں ،دوسرے سیاروں سے آئے ہوئے لوگوں سے دنیا کی حفاظت کر سکتے ہیں اور جادوئی خفیہ خزانوں کی دریافت کر سکتے ہیں ۔ اس طرح کے گیمس بناتے وقت جادو کا ایک لمس ضروری ہو تا ہے ، تخلیقی جادوگری کی جتنی ضرورت پڑتی ہے اتنی ہی کڑی محنت کی بھی ۔ ویڈیو گیمس میں واضح حقیقت پسندانہ کر دار ،پیچیدہ کہانیاں اور سنیمائی عظمت شامل ہو تی ہے اور اس طرح ویڈیو گیمس دل فریبی اور کمال کے ایسے مر حلوں تک پہنچتے ہیں کہ صرف گیمس بنانے کے لئے مخصوص اسٹوڈیوز بھی انہیں کبھی مہینوں میں ،کبھی بر سوں میں مکمل کر پاتے ہیں اور اکثراس پورے عمل میں سینکڑوں آر ٹسٹوں ، پرو گرامروں اور ڈیزائنروں کی اہلیتیں یکجا ہو تی ہیں ۔گیمس کی تخلیق یوں تو پیچیدہ ہے مگر اس کے با وجود مقصدسیدھا سادا ہے یعنی کوئی ایسی چیز تخلیق کر نا جو حقیقی معنوں میں نا قابل مزاحمت پر لطف کھیل ہو ۔ بالٹی مور ،میری لینڈمیں بگ ہیوج گیمس کے تکنیکی پرو ڈیوسر کرس نمکوسکی کا کہنا ہے کہ ’’اگر ہم بالکل ابتدائی مر حلے سے کام کر رہے ہیں تو ہمارا پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ ایسا بنیادی ڈیزائن تخلیق کریں جس سے کوئی گیم سچ مچ گیم بنتا ہے ۔‘‘اس طرح کی تجویز یںاکثر صورتوں میں ایک یا زیادہ سے زیادہ دو صفحات پر مشتمل تحریری دستاویزیں ہو تی ہیں جن میں مجموعی کہانی یا گیم کے نکات جیسی تفصیلات ہو تی ہے ۔ ان میں یہ بتایا جاتا ہے کہ کیا وہ گیم دو ابعاد میں کام کرے گا یا تین ا بعاد میں اور اس گیم کی تصوراتی دنیا میں کھلاڑی کیسے کھیلے گا ۔ 

نمکوسکی کا کہنا ہے کہ اس کے بعد گیم کا تکنیکی حصہ آ تا ہے ’’گیم کا انجن مکمل طور پر پرو گرامنگ کوڈ ہو تا ہے ۔یہ خصوصی طور پر کام کر نے والے آلات کا مجموعہ ہے ۔ ایک ایسا فریم ورک جو آپ کے گیم کی دنیا میں املاک پیش کرنے کی اجازت دیتا ہے۔‘‘ان املاک میں وہ تمام چیزیں ہیں جنہیں آپ گیم کھیلتے وقت دیکھتے ہیں ۔ جیسے کہ گاڑیاں ، ترتیب ،کردار ، ماڈل اور دوسرے آرٹ اور یہ تمام چیزیںصرف ڈیجیٹل آر ٹسٹ بناتے ہیں ۔ 

ایک سر کر دہ ڈیزائنر جوش روز نے، جنہوں نے کیلی فورنیا میں گیم کی کئی کمپنیاں قائم کی ہیں،بتایا کہ کوئی گیم بناتے وقت عمودی ٹکڑا بنانا اہم سنگ میل ہو تا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر آپ کے گیم میں بندوقیں ہیں ،جادوئی مناظر ہیں اور دشمن بھی ہیں تو عمودی قاشوں کی ضرورت اس وقت پڑ تی ہے جب آپ نے یہ تمام حصے تیار کر لئے ہوں اوراب آزمائش کا مرحلہ سامنے ہو۔‘‘ نمکوکسی نے کہا کہ کسی ویڈیو گیم میں نظر کو اپنی طرف راغب کر نے والی املاک آرٹسٹ بہت ہوشیاری اور باریکی سے بناتے ہیں لیکن اس بات کو یقینی بنانا گیم کے ڈیزائنر کی ذمہ داری ہے کہ ’’پورا تجربہ مزیدار ، متوازن اور تفریح بخش ہو ۔‘‘اس سے بھی زیادہ تکنیکی سطح پر پرو گرامرس آرٹ اورفعالیت کو یکجا کر تے ہیں اور کوڈ لکھنے والے یہ ماہرین اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ان ڈیزائنروں اور آر ٹسٹوں کی تخلیق کر دہ اشیا گیم کے ڈھانچے کے اندر کام کرتی رہیں ۔اس کے بعداس تیار شدہ گیم کو مکمل طور سے آزمایاجاتا ہے ۔ بیشتر صورتوں میں اسی اسٹوڈیو کے ملازمین آزمائش کر تے ہیں اور پرو گرامنگ کوڈ کو آخری شکل دی جاتی ہے ۔ پھرباضابطہ کاپیاں تیار کی جاتی ہیں اور پوری دنیا میں فروخت کے لئے بھیجی جاتی ہیں ۔ اس طرح ایک نیا ویڈیو گیم وجود میں آتا ہے ۔ روز کا کہنا ہے کہ ’’ سماجی میل جول کے ذرائع ابلاغ اور اسمارٹ فونو ں کے لئے گیم کی تخلیق کے الگ الگ ماڈلوں کا اطلاق بھی ہو سکتا ہے ۔’’اگر آپ کو فیس بک یا اینڈرائڈ یا آئی فون یا دوسرے ابھرتے ہوئے پلیٹ فارموں کے لئے گیمس بنانے ہیں تو اس میں چالاکی کی بڑی اہمیت ہے۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ’’میں نے اس سے پہلے جو گیمس بنائے تھے ان کی تیاری کے دوران ایک واحد گیم تیار کر نے میں ۱۳۰ افراد نے مل کر کام کیالیکن اب جیسے گیمس بنتے ہیں ان میں اکثر آپ کو کسی بڑی ٹیم کی ضرورت نہیںپڑتی بلکہ سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہو تی ہے کہ آپ کے پاس اچھا خیال ہو۔ ‘‘

فیس بک یا اسمارٹ فون کے لئے گیمس تیار کر نے کے دوران فلمساز اکثر بہت سخت مراحل کو چھوڑ کر آگے بڑھ جاتے ہیں جب کہ روایتی گیمس میں ایسے تمام مرحلوں کو استعمال کیا جاتا تھا ۔ اب کی صورت یہ ہے کہ گیمس بنانے والے لوگ کچھ مراحل کو چھوڑ دیتے ہیں ۔اپنے گیمس آن لائن لے آتے ہیں اور جس قدر جلد ممکن ہو استعمال کنندہ سے ہی اس کی آزمائش کر والیتے ہیںلیکن طریقہ کار چاہے جو ہو بنیادی اصول ایک ہی رہتا ہے ۔ روز کا کہنا ہے کہ’’ اہم بات یہ ہے کہ ایک گیم کے تمام اجزا کو یکجا کر کے ایک لطف دینے والا مربوط تجربہ پیش کیا جائے ۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کسی وقت کسی گیم کو مزیدار بنانے کے لئے طے کئے گئے تمام ضابطے توڑ دیں اس کے با وجود بھی آپ کا تجربہ عظیم ہو اور شاید گیم کی تخلیق کا ہنر اسی میں ہے ۔ ‘‘

ان لوگوںکے لئے جو گیمس بنانے کا ہنر سیکھنا چاہتے ہیں نمکوسکی اور روز دونوں کا مشورہ یہی ہے کہ وہ آن لائن شروع کریں ۔

نمکوسکی نے کہا کہ ’’اگر آپ کوڈنگ شروع کر نا چاہتے ہیں تو بنیادی گیمس بنانے کے طریقہ کارکی مفت تر بیت کی تلاش کریں ۔اگر آپ کو آرٹ بنانے سے دلچسپی ہے تو آر ٹ سے متعلق بلاگ پڑھیں اور یہ دیکھیں کہ دوسرے لوگ کون کون سے پرو گرام اور کون کون سی تکنیک اپنا رہے ہیں۔ اس کے بعد کچھ دوستو ں کو اکٹھا کریں اور پنگ پانگ کی طرح کا ایک سیدھا سادا گیم تخلیق کر نے کی کوشش کریں ۔ ہم میں سے بہتوں نے اسی طرح شروع کیا تھا ۔‘‘

ان کا کہنا ہے کہ گیمس بنانے کا ہنر سیکھنا بھی کوئی ساز بجانے کا فن سیکھنے کے برابر ہے اور روز اس خیال سے متفق ہیں کہ ہنر راتوں رات نہیں آتا ۔

انہوں نے ہوشیار کر تے ہوئے کہا کہ ’’ہو سکتا ہے کہ جو پہلی چیز آپ بنائیں وہ خوف ناک ہو لیکن آپ کسی نہ کسی طریقے سے یہ کام کریں ضرور ۔بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا اور کسے پتہ کیا ہو ،یہ بھی ممکن ہے کہ سونے کی کان آپ کے ہاتھ لگ جائے۔ ‘‘

مائیکل گیلنٹ، گیلنٹ میوزک کے بانی اور چیف ایگزیکٹوافسر ہیں ۔وہ نیو یارک سٹی میں رہائش پذیر ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط