مرکز
1 2 3

عجیب و غریب امریکی اشیائے دلکشی

امریکہ میں لبِ سڑک موجود انوکھی اور نرالی پُرکشش دنیا۔


یہ بات تو سب کے علم میں ہے کہ امریکہ بے فکروں کی سرزمین ہے مگر کیا یہ بات بھی سبھی جانتے ہیں کہ امریکہ عجیب و غریب اشیائے دلکشی کابھی مسکن ہے؟ اس وسیع وعریض ملک کی بہت سی شاہراہوں اوردیہی سڑکوں پر سفر کے دوران سڑکوں کے کنارے موجود دلچسپ مناظر کی دید کے بعد آپ محسوس کریں گے کہ امریکہ میں عجائب کا مشاہدہ دورانِ سفر بھی بخوبی کیا جاسکتا ہے۔

کیبازن ڈائناسور:کیبازن، کیلی فورنیا
جنوبی کیلی فورنیا کے بڑے حصے کا احاطہ کرنے والے ریگستان کے درمیان سے ہوکرگزرنے والی ایک شاہراہ انٹر اسٹیٹ ۱۰ کی ایک مخصوص سنسان پٹی پر خشک ،چٹخی ہوئی زمین اورریت کے رنگ کی پہاڑیوں کے بر خلاف ایک عجیب وغریب منظر ابھرتاہے۔یہاں ایک نہیں دو مناظر ہیں مگر دونوں انوکھے ہیں۔ایک توایپیٹو سورس اوردوسرا ٹی ریکس۔آپ کا اندازہ درست ہے ۔ یہ دوبہت بڑے سائز کے ڈائناسورہیں۔ ریت کی فرش سے ابھرتے ہو ئے یہ اپنی جانب اٹھنے والی ہر آنکھ کو اپنا محکوم بنا لیتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ یہ حقیقی یازندہ ڈائناسورنہیں بلکہ اس کے مجسمے ہیں لیکن انھیں بھی دیکھ کر سکتے کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔

مس ڈِنی نامی ا یپیٹو سورس اور مسٹر ریکس کے نام سے معروف ٹی ریکس کی تعمیر تقریباً ۳۰ سال قبل لبِ سڑک دلکشی کے طور پر کی گئی تھی۔مس ڈِنی کے شکم میں تحفے تحائف رکھنے کی جگہ بنائی گئی جب کہ مسٹر ریکس کے دانتوں میں موجود لُک آؤٹ پوائنٹ تک رسائی کے خواہش مند بہادر اور توانا انسانوں کے لئے اندر اندر سیڑھیوں کی تعمیر کی گئی ہے تاکہ وہ لوگ آسانی کے ساتھ لُک آؤٹ پوائنٹ تک پہنچ سکیں۔ 

http://www.cabazondinosaurs.com

دنیا کا سب سے بڑا پستہ: الیمو گورڈو،نیو میکسیکو
امریکہ کی شہرت انسانی ہاتھوں کی بنی دنیا کی سب سے بڑی اور انوکھی چیزوں کے لئے بھی ہے۔ ان میں ڈور والی سب سے بڑی گیند، سب سے بڑا تھرما میٹر،یہاں تک کہ سب سے بڑا گوشت یا مچھلی کاقتلہ بھی شامل ہے۔ لیکن کیا آپ نے سب سے بڑے پستہ کا بھی ذکر سناہے؟دنیا کے سب سے بڑے پستے کا فخریہ مسکن، نیو میکسیکو کے الیمو گورڈو سے گزرنے والی شاہراہ نمبر ۵۴ کے کنارے دیکھا جا سکتا ہے۔ 

یہ ۳۰فٹ اونچا پستہ ۲۰۰۹ء میں ٹِم میگین نے تعمیر کرایا۔یہ یادگار انھوں نے اپنے والد ٹام میگین کے اعزاز میں بنوائی جو ۲۰۰۷ میں راہیء ملکِ عدم ہوئے۔ ٹِم کا خاندانی کاروبار پستوں کا ہے۔وہ ایک دن پستوں کی اپنی تازہ ترین فصل دیکھنے گئے اوروہاں انھوں نے انتہائی مکمل شکل میں اگاہوا ایک پستہ دیکھا۔انھوں نے لوہے کو گرم کرکے جوڑنے کا کام کرنے والے ، مصور اور استرکاری کے ماہروں کو ملازم رکھا تاکہ ان کی مدد سے والد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جائے۔ 

اس یادگار کا سب سے زیادہ دل کو چھو لینے والا پہلو یہ ہے کہ ٹِم کے والد اپنے خاندان کوساتھ لے کر سڑکوں پر دوردراز کا سفر کرتے تھے اورتمام سفر میں لبِ سڑک نصب یا تعمیر شدہ دلکش چیزوں کو تلاش کرتے تھے۔ اس لئے ان کے بیٹے نے فیصلہ کیا کہ اپنے والد کی یاد کوہمیشہ تازہ رکھنے اوراعزاز بخشنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ انھیں خود لبِ سڑک دلکشی کا ایک موضوع بنا دیا جائے تاکہ لوگ آئندہ متعدد برسوں تک اپنے کنبے کے ساتھ اسے دیکھ اور لطف اندوز ہو سکیں۔ 

http://mcginns.mybigcommerce.com/worlds-largest-pistachio/

فوم ہینج: نیچرل برج، ورجینیا
لوگ کہتے ہیں کہ جنون بہت سی شکلوں میں اظہارکا راستہ تلاش کرلیتاہے۔ مارک کلائن کے معاملے میں مجسمہ سازی کاان کاجنون برطانیہ کے اسٹون ہینج کے بھرپورسائز کی نقل بنانے پر مکمل ہوا۔صرف کلائن کا ہی بنایا ہوا یہ اسٹون ہینج مکمل طورپر فوم سے بناہواہے۔اسی لئے اس کا نام فوم ہینج رکھا گیا۔ یہ دیہی ورجینیا میں شاہراہ نمبر ۱۱کے کنارے واقع ہے۔

کلائن کو اس کا خیال ۱۵ برس سے زائد قبل اس وقت آیاجب ایک گودام کو دیکھتے وقت انھوں نے اصل جسامت سے بہت بڑی جسامت والے فوم بلاک دیکھے۔ اور خیال فوراً تشکیل پا گیا۔ اسے وہ سب سے بڑی کامیابی قرار دیتے ہیں۔ کلائن نے خاص طور پر اس بات کا خیال رکھا ہے کہ ہر ٹکڑا اصل ساخت کی شکل کا ہو۔صحیح معنوں میں لگن اسی کا نام ہے۔

http://enchantedcastlestudios.com/foamhenge.htm

دی بِگ ڈک: فلینڈرس، نیویارک
نیویارک سٹی میں مین ہٹن سے ۱۲۰کلومیٹر کی دوری پر واقع لانگ آئی لینڈ میں انٹراسٹیٹ ۴۹۵ پر ایک ۲۰فٹ اونچا اور۳۰فٹ لمبا بطخ کا مجسمہ ہے۔اسے بِگ ڈَک کہتے ہیں۔اس کے علاو ہ اسے کوئی دوسرا نام دیا بھی نہیں جا سکتا۔ بطخ پروری کرنے والے کاشتکار مارٹن ماؤہا نے اس کی تعمیر ۱۹۳۱ میں کروائی تھی۔اس بِگ ڈَک کی آنکھوں کی جگہ ایک ماڈل ٹی کار کی عقبی روشنیاں لگی ہیں ۔اس کے شکم میں کبھی انڈوں کا بازار ہوا کرتا تھا۔تعمیر کے بعد اس بطخ کا ڈیزائن ایسا خلاف معمول نظر آیا کہ ماؤہا نے اسے پیٹنٹ کروا لیا۔ 

اس بطخ کے ڈینے خواہ کنکریٹ کے بنے ہوئے ہوں مگر اسے سفر پسند ہے۔ جس زمین پر اسے بنایا گیا ہے اس کی نشاندہی گزشتہ برسوں میں کئی منصوبوں کی تکمیل کے لئے کی گئی ۔یوں بطخ کی جگہ تین بار تبدیل ہوئی مگر آخر کار وہ فلینڈرس میں اپنے حقیقی گھر واپس آ گئی۔ اسے آپ ایک الگ قسم کی نقل مکانی کی مثال سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ 

گو کہ ا ب آپ بطخ کے شکم میں پہلے کی طرح انڈے کی خریداری نہیں کرسکتے،مگر اب بھی لانگ آئی لینڈ میں واقع اس کے گھونسلے میں واقع گفٹ اسٹور سے بہت سے لوگ تحفہ خریدتے ہیں ۔ اس بطخ کا اندراج امریکہ میں تاریخی مقامات کے قومی رجسٹر میں بھی ہے۔یہ بطخ مقامی باشندوں کے لئے اپنی چھٹیوں کے جشن کی میزبانی کرتی ہے ۔جب سانتا آرائشی قمقموں میں ملبوس ہلتا ڈولتایہاں پہنچتا ہے تو ہر شخص جان لیتا ہے کہ واقعی خوش کُن چھٹیاں گزارنے کا وقت آچکا ہے۔

http://www.bigduck.org

دی شو ٹری: بیلڈنگ، مشی گن
یہ عجوبہ اصل میں لبِ سڑک واقع دلکشی کے ایک بڑے سلسلے کی کڑی ہے کیونکہ مشی گن کے بیلڈنگ میں زہم روڈ پرجوتوں کا جو درخت کھڑاہے ویسے درختوں کی دید پورے ملک میں کی جا سکتی ہے۔صرف مشی گن میں ایسے ۱۰سے زائد جوتاپیڑوں کا اندراج ہے۔پورے ملک میں ایسے بہت سے جوتاپیڑوں کا وجود ہے جن کے بارے میں وقتاً فوقتاً جانکاری ملتی رہتی ہے۔ بیلڈنگ کے شوٹری کے تاسیس کی بھی ایک داستان ہے۔دراصل کساد بازاری کے زمانے میں ایک لڑکے کے پاس جوتے خریدنے کے پیسے نہیں تھے ۔ ٹھنڈکی زیادتی کی وجہ سے اس کے پاؤں ماؤف ہونے لگے۔اس کیفیت سے پریشان لڑکے نے پیڑ کو برا بھلا کہنا شروع کیا کہ وہ جوتے نہیں اگاتا۔ دلچسپ بات ہے کہ لڑکے کی موت کی پہلی برسی پر ایک جوڑا جوتا اس پیڑ کی شاخو ں پر لٹکاہوادیکھا گیا۔اسی طرح نواڈامیں بھی ایک جوتا پیڑ تھا جسے بعد میں کاٹ ڈالا گیا۔ اس پیڑ کے ساتھ بھی ایک کہانی وابستہ ہے کہ اس کے نیچے ایک نو بیاہتا جوڑے کی لڑائی ہو گئی۔ بیوی نے دھمکی دی کی وہ شوہراوراس کی کار کو چھوڑ کر وہاں سے چلی جائے گی۔شوہر نے بیوی کے تیور دیکھے توبڑی چابکدستی سے اس کے جوتے اتارے اور درخت کی شاخوں کی طرف اچھال دئے۔جوتے وہیں اٹک گئے۔اس واقعہ کے برسوں بعدجب دونوں کا رویہ تبدیل ہوا اور ان کے گھر ایک بچہ پیدا ہوا تو دونوں میاں بیوی اپنے شیر خوار بچے کے ساتھ پیڑ کے نیچے آئے اور اس بچے کے جوتے کے جوڑے کو پیڑ کی جانب اچھالا ۔

آج کی صورت حال یہ ہے کہ ایسے کسی جوتا پیڑ کے پاس آکر مسافر اپنی گاڑی روکتے ہیں اوراپناایک جوڑا جوتا اس کی شاخوں میں اٹکانے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ کام بڑا آسان معلوم ہوتا ہے مگر مشکل ہے کیوں کہ اپنے جوتوں کاجوڑا درخت پرپھینکنے کے بعد آپ کو صرف موزے پہنے ہوئے اپنی کارتک جانے کی زحمت اٹھانی پڑے گی۔

http://www.roadsideamerica.com/tip/31914

 


اَین والس لاس اینجلس ،کیلی فورنیا میں مقیم قلم کار اور فلم ساز ہیں۔

تبصرہ کرنے کے ضوابط