مرکز

ترغیب، تعلیم اور تفریح کے لیے وقف ایک میوزیم

سنہ ۲۰۲۰ ء میں کھلنے کے لیے تیار اکیڈمی میوزیم آف موشن پکچرس شائقین کو ترغیب دینے ، انہیں باخبر کرنے اوران کو تفریح کا سامان بہم پہنچانے کے لیے فلموں کے فن اور اس کی سائنس کی مدح سرائی کی راہ  ہموار کرے گا۔ 

آئندہ برس کھلنے کے لیے تیار  اکیڈمی میوزیم آف موشن پکچرساپنی نوعیت کے سب سے حوصلہ مند منصوبوں میں سے ایک ہے۔میوزیم کا قیام لاس اینجلس میں واقع  اکیڈمی آف موشن پکچرآرٹس اینڈ سائنسیز کی ایما پر عمل میں آیا ہے۔ دنیا بھر میں معروف آسکر ایوارڈ اسی تنظیم کی جانب سے دیے جاتے ہیں۔  دی وِزارڈ آف اوزکی  ڈوروتھی کی لعل جڑی جوتی سے لے کر کسابلینکا کے رِکس کیفے امیریکین کے دروازوں تک اور فلمسازی کے لیے سب سے پہلے استعمال کیے گئے  اسٹیڈی کَیم اور آسکر کے بے شمار چھوٹے مجسموں سمیت میوزیم کے ذخیرے میں ایسی کئی چیزیں ہیں جو شائقین کی گوناگوں دلچسپیوں اور ذوق کی سیرابی کا باعث بنیں گی۔ 

میوزیم کی تعمیر بصری فنونِ لطیفہ اور تعمیرات کے لیے معروف ایک عمارت میں کی جارہی ہے جہاں کبھی  وِل شائر بول ورڈ میں معدوم ہوچکی  مے کمپنی کا  ڈپارٹمنٹ اسٹور ہوا کرتا تھا۔مذکورہ عمارت شہر کے میریکل میل  علاقہ کا حصہ ہے جس میں  لاس اینجلس کاؤنٹی میوزیم آف آرٹ اور  لا برے یو ٹار پِٹس اینڈ میوزیم جیسی ثقافتی عظمتیں بھی شامل ہیں۔

کئی تنظیموں اور افراد نے میوزیم کو گراں قدر عطیات دیے ہیں ۔ ان میں ہالی ووڈ کے بعض سب سے بڑے نام بھی شامل ہیں۔  دی والٹ ڈزنی کمپنی کے چیئر مین اور سی ای او  بَوب ایگر میوزیم کے لیے سرمایہ دینے والے افراد اداکار ٹَوم ہینکس اورانیٹ بیننگ کے ساتھ شامل فہرست ہیں۔

میوزیم کے ایک ترجمان نے بتایا ’’ اکیڈمی میوزیم کے قیام کا مقصد ایک منفرد اور بے مثال میوزیم قائم کرنا ہے۔اس مقصد کے حصول کے لیے ایک انتہائی پیچیدہ تعمیراتی کاوش درکار ہے۔ یعنی ۱۹۳۹ ء کے لا س اینجلس کے امتیازی نشان کی تجدید نو کرنا ، ایک نئے کروی ڈھانچے کی تعمیر کرنا جس میں شیشے کے۰۰ ۱۵ پینل والا گنبد اور ۳ لاکھ مربع فٹ کے شاندار عوامی اور نمائشی مقام کی تعمیر کے لیے انہیں ایک ساتھ ملانا بھی شامل ہے۔ ‘‘

میوزیم کی جانب سے ذرائع ابلاغ کے لیے جاری ایک بیان میں اس کا مقصد بتاتے ہوئے کہا گیا ’’فلموں کی طاقت بیان کرنا، ناظرین کو پردے کے پیچھے کا نظارہ کرانا کہ فلمیں کس طرح بنائی جاتی ہیں اور ہماری ثقافت اور زندگیوں پر فلموں کے اثرات کا پتہ لگانا ہے۔‘‘ 

میوزیم کا فلمسازی کے لیے دنیا کے اعلیٰ ترین اداروں میں سے ایک بننا طے ہے ۔ گرچہ میوزیم پردۂ سیمیں کی فنی اور سائنسی تاریخ کا پتہ لگائے گا ، مگر اس کے نگارخانے ابتدائی خاتون ہدایت کاروں، بین الاقوامی خاموش فلموں اور انڈیا کی آزاد فلموں سمیت دیگر موضوعات پر توجہ مرکوز کریں گے۔ ماہر تعمیرات  رینزو پیانو جو لندن کے  دی شارڈ، پیرس کے  سینٹر پومپیڈو اور نیویارک کے  وہائیٹنی میوزیم آف امیریکن آرٹ جیسی تعمیرات کے لیے جانے جاتے ہیں ، انہوں نے بھی اکیڈمی میوزیم کے لیے ایک دائرہ نما عمارت تعمیر کی ہے جس میں ایک تھیٹر بھی ہوگا۔ وہاں ایک مستقل نگارخانے کے ساتھ ساتھ عارضی نمائشوں، راست پرفارمنس ، فلمی نمائش کے لیے دو تھیٹر، ایک ایجوکیشن اسٹوڈیو اور پروگرام کے لیے جگہ ہوگی۔  

اکیڈمی میوزیم نے فلمسازی کی صنعت سے متعلق مشہور اشیاء مثلاََ کیمروں اور دیگر صنعتی تکنیک سے لے کر تشہیری مواد ، ملبوسات اور سیٹ کے لوازمات جیسی مختلف چیزوں کو جمع کرنے میں ۱۰ برس سے زیادہ عرصہ صرف کیا۔ یہاں  اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسیز کے ۱۲ ملین تصویروں کے ذخیرے میں سے لی گئی تصاویرکے علاوہ ایک لاکھ ۹۰ ہزار فلمیں اور ویڈیو ، ۸۰ ہزار منظر نامے، ۶۱ ہزار پوسٹر اور ایک لاکھ ۴ ہزار پروڈکشن آرٹ مجموعے بھی عوام کی توجہ کا باعث ہوں گے۔ 

میوزیم بنانے والوں کے لیے یہ چیز انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ یہاں تک سب کی رسائی ہو۔ جارج لوکاس فیملی فاؤنڈیشن کے گراں قدر عطیہ کی وجہ سے یہ بات ممکن ہو سکی ہے کہ ۱۷ برس اور اس سے کم کے تمام شائقین کو یہاں بلا معاوضہ داخل ہونے کا موقع ملے۔ اس سے متعلق اعلان رواں سال کے شروع ہی میں کر دیا گیا تھا۔

میوزیم کی جانب سے اس کے ڈائریکٹر  کیری بروگر کے حوالے سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ’’ اکیڈمی میوزیم میں ہم اپنے کم عمرشائقین ، بچوں اور نو عمر افراد کو تعلیم دینے میں مدد کے لیے پُر عزم ہیں جن کا تعلق فلمسازوں ، مصنفین اور بصری فنکاروں کی اگلی نسل سے ہوگا۔‘‘

میوزیم جلد ہی اپنے افتتاح کی تاریخ کا اعلان کرے گا۔ میوزیم کے ترجمان کہتے ہیں ’’ ایسے میں جب کہ ہم اجازت حاصل کرنے کے عمل سے گزر رہے ہیں اور اپنی تکمیل کے قریب ہیں توہم اپنے افتتاح کے لیے ۲۰۲۰ء میں اپنی صنعت سے جڑے بڑے پروگراموں کی تاریخوں پر بھی نظر رکھ رہے ہیں۔ اسی لحاظ سے ہم میوزیم کے رسمی افتتاح کے لیے بہترین لمحات کا انتخاب کریں گے۔ ‘‘ 

 

کینڈِس یاکونو جنوبی کیلی فورنیا میں مقیم قلمکار ہیں جو جرائد اور روزناموں کے لیے لکھتی ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط