مرکز

چاند زمین پر

شمال مغربی امریکی ریاست آئیڈاہو میں واقع کریٹرس آف دی مون نیشنل مونیومینٹ اینڈ پریزرومیں سیاح منفرد اور خوبصورت وسیع زمینی مناظر سے محظوظ ہو سکتے ہیں۔

مرکزی آئیڈاہو کے اسنیک ریور پلین میں واقع اور  روڈ آئی لینڈکی ہی وسعت کے برابر علاقے میں پھیلا  کریٹرس آف دی مون نیشنل مونیومنٹ اینڈ پریزرو کا قیا م ۱۹۲۴ ء میں عمل میں آیا تھا ۔یہ ایک بہت اہم علاقہ ہے جو تقریباََ ۱۵۰۰۰ برس قبل بہت زیادہ لاوا کے بہائو کے نتیجے میں بنا ۔ آتش فشاں سے لاوا نکلنے کا سب سے حالیہ واقعہ ۲۰۰۰ برس قبل پیش آیا تھا۔ کریٹرس آف دی مون کا لاواسے پُر یہ علاقہ دراصل کافی وسیع ہے جو تقریباََ ۱۶۰۰ مربع کیلو میٹر کا احاطہ کرتا ہے۔ اس کی تخلیق  گریٹ رِفٹ آتش فشاں کے پھٹنے کے بعد جمے ہوئے لاوا کے ۶۰ نمایاں بہاؤ کے نتیجے میں ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ایک حیران کن خطۂ ارض وجود میں آ چکا ہے اور ایک بستی بھی قائم ہو گئی ہے۔ 

اس مقام کو یہ نام چاند کی سطح سے یکسانیت کے نتیجے میں ملا ہے۔ دراصل ۱۹۶۹ ء میں اپولو ۱۴ کے خلاباز  اَیلن شیفرڈ جونیئر،ایڈگر مِچل ، یوجین سرنن اور  جو اینگل نے چاند پر اپنے دورے کی تیاری کے لیے لاوا سے بنے قدرتی مناظر کی تحقیق اور آتش فشانی سے متعلق ارضیات کی بنیادی باتوں کو سیکھنے کے لیے اس علاقے کا دورہ کیا تھا ۔ ناسا کو یقین تھا کہ یہ لوگ جو مستقبل میں چاند کی سطح پر گھوم پھر سکتے ہیں، اگر اسی طرح کی سطح کا مشاہدہ کریں تو یہ ان کے لیے فائدے کی بات ہوگی اور خاص طور سے یہ لوگ چاند پر بے ربط ماحول اور وہاں کی منفرد سماوی خصوصیات کو سمجھنے کے لیے بہتر طور سے تیار ہوں گے اوراس سے معلومات کی بنیاد پر چاند کی سطح سے انہیں پتھروں کے نمونے کو زمین پر لانے میں آسانی ہوگی۔ ۱۹۹۹ء میں اس کے قیام کی ۷۵ ویں سالگرہ کے موقع پر ان میں سے زیادہ تر خلا بازایک بار پھر اس علاقے کے دورے کے لیے یکجا ہوئے ۔ 

یہاں آنے والے صرف لاواہی دیکھنے اور معلومات حاصل کرنے ہی نہیں آتے بلکہ یہاں آنے والے سیاحوں کو اپنے علاقے کی منفرد حیاتیاتی اور نباتاتی زندگی کا تجربہ کرنے کا موقع بھی ملتا ہے۔حقیقت میں اس علاقے کے خصوصی پہلوئوں میں سے ایک اس کے سخت ماحول میں پنپتی قدرتی موافقت کی پیچیدگیاںبھی ہیں۔

  یہاں پودوں کے ۷۵۰ سے بھی زیادہ اقسام پائے جاتے ہیں جن میں جنگلی پھول، لامبار دیودا ر کے درخت، صنوبری جھاڑیاں، چیڑ اور مروا کی جھاڑیاں شامل ہیں۔ تمام پودوں نے اس علاقے کے سخت حالات سے نمٹنے کے لیے منفرد مطابقت پیدا کر لی ہے۔ان میں سب سے عام مطابقت خشک سالی سے نمٹنے کے طریقے ہیں جس میں پتیوں کا نئی شکل میں تبدیل ہونا ہے ۔ یہ ایک عضویاتی تبدیلی ہے جو پودوں کو نمی کے کم ہونے کی صورت میں بھی انہیں تحفظ دیتی ہے اور انہیں لاوا کے درمیان پڑے شگاف میں اگنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ 

اس علاقے میں جانوروں نے بھی مطابقت پیدا کی ہے ۔ ماہرین حیاتیات نے حشرات کی ۲۰۰۰ سے بھی زیادہ اقسام، پرندو ں کے ۲۰۰ سے زیادہ اقسام اور تھن دار جانوروں کی ۶۰ اقسام کی فہرست بنائی ہے ۔ یہاں رہنے والے جانور ریگستانی مخلوق کی طرح ہی رات میں نکلتے ہیں جن میں الو، چمگادڑ، امریکی کرم خور پرندہ اور امریکی تیندوے اور بن بلائو شامل ہیں۔ 

اس علاقہ اور اس کے اطراف کی سیاحت کے بہت سارے متبادل ہیں۔ان میں پارک رینجر کی رہنمائی میں گھومنا پھر نا شامل ہے جن میں پھولوں سے لے کر ارضیات تک بہت سارے موضوعات پر معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ یہاں آنے والے سیاح خود ہی گھوم پھر سکتے ہیں یا پھر لوپ ڈرائیو روٹ  کا متبادل اختیار کر سکتے ہیں جس میں سیاحوں کی مدد کے لیے بہت ساری معلوماتی نمائشوں کا اہتمام ہوتا ہے ۔یہ راہ اختیار کرنے والے سیاحوں کو اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ وہ اس کی آخری منزل کو بھی دیکھیں جو ایک غار والا علاقہ ہے جس میں لاوا ٹیوب کے مجموعے کو دکھایا گیا ہے۔ یہاں آنے والے سیاح ان تمام ارضیاتی کرشموں سے محظوظ ہو سکتے ہیں ۔لاوا کے بہائو کی سطح اور دیواروں کے سخت ہونے سے بنا یہ غاراپنی شکل تب حاصل کرتا ہے جب جب اندر بہنے والا سیال پھیلتا ہے اور بہہ نکلتا ہے ۔ ان سب کو فلیش لائٹ کے استعمال سے دیکھا جا سکتا ہے۔ انہیں زندگی میں کم از کم ایک بار ضرور دیکھنا چاہئے ۔

  یہاں ۴۲ کیمپ سائٹ ہیں۔ان کی بکنگ پہلے سے کروائی نہیں جا سکتی ۔ یہ پہلے آؤ اور پہلے پاؤ کی طرز پر دستیاب ہوتے ہیں۔ ان کیمپ سائٹ میں پانی، بیت الخلا، پکنک ٹیبل اورکوئلے کے سیخدا ر چولہے دستیا ب ہوتے ہیں۔بھیڑ بھاڑ والے دنوں میں اس کے لیے ۱۵ ڈالر (تقریباََ ۱۰۶۰ روپے)او رجب کیمپ گرائونڈ میں پانی بند کر دیا جاتا ہے تو فی سائٹ ۸ ڈالر (تقریبا ۵۷۰ روپے)اداکرنے ہوتے ہیں۔اضافی فائدے کے طور پر کیمپ گرائونڈکا اَیمفی تھیٹر موسم گرما میں شام کے پروگرام اور لونر رینجرپروگرام کا اہتمام کرتا ہے جو بچوں کے لیے تفریحی اور تعلیمی پروگرام ہوتے ہیں۔پیدل لمبا سفر کرنے کے دلدادہ حضرات کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ ان کے لیے کئی متبادل ہیں جن میں دو ایسی پگڈنڈیاں بھی ہیں جو ویران علاقے تک جاتی ہیں ۔ ۱۹۷۰ ء میں تقریباََ ۱۷ ہزار ۵۰۰ ہیکٹر علاقے کو وِلڈرنیس ایکٹ ۱۹۶۴ کے تحت  کریٹرس آف دی مون نیشنل وِلڈرنیس ایریا قرار دیا گیا تھا۔ یہ ویران علاقہ کئی کیلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے جس کے بعد پیدل سفر کے دلدادہ شاذ و نادر ہی دورہ کیے جانے والے آتش فشاں سے بنی مختلف شکلوں کو دیکھنے کے لیے گریٹ رِفٹ تک جا سکتے ہیں۔ 

ٹریور لارینس جوکِمس نیو یارک یونیورسٹی میں تحریر، ادب اور معاصر ثقافت کی تدریس کرتے ہیں۔ 


 

کیچڑ اچھالنے والا آتش فشاں او ر دیگر اشیا ء 

انڈمان جزائرکے جزیرہ باراتنگ میں خوبصورت ساحل، مدارینی علاقے کی جھاڑیوں سے پُر کھاڑیاں،  چونا پتھر کے غار اور کیچڑ اچھالنے والے نایاب آتش فشاں ملتے ہیں جو اس علاقے کو جغرافیائی طور پر منفرد اور حیران کن جزائر میں سے ایک بناتے ہیں۔ یہ جزیرہ پورٹ بلیئر سے تقریبا 100 کیلومیٹر دور ہے جہاں تک پہنچنے کے لیے سیاحوں کو پہلے سڑک اور پھر کسی نائو سے ایک کھاڑی کو عبور کرنا ہوتا ہے۔

کیچڑ اچھالنے والے آتش فشاں کیچڑ ، پانی اور گیس کے پھٹنے سے بنتے ہیں۔لاوا اگلنے والے آتش فشاں کے برعکس ان آتش فشانوں سے پگھلی ہوئی چٹانیں نہیں نکلتیں بلکہ کیچڑنکلتا ہے جس کا بہاؤ بھی زیادہ تیز نہیں ہوتا ۔پھٹنے کے بعد ان آتش فشانوں سے کیچڑ مادوں کی طرح بہتا رہتا ہے جو اسے اس کے قد و قامت کو قائم رکھنے میں نہ صرف مدد کرتا ہے بلکہ اسے گنبد نما شکل بھی فراہم کرتا ہے۔ ان مخصوص آتش فشانوں کے قد و قامت میں بھی کافی فرق ہوتا ہے ۔ یہ صرف ایک میٹر سے لے کر ۷۰۰ میٹر تک اونچے ہو سکتے ہیں۔

باراتنگ جزیرے میں چونے کے پتھر کے ان غاروں کو دیکھنے کے لیے سیاحوں کو ماحولیات و جنگلات کے محکمے سے خصوصی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔ باراتنگ جزیرے سے اس غار تک پہنچنے میں کشتی سے ایک بڑی کھاڑی کا سفر کرنا ہوتا ہے جو نیاڈیرا جیٹی تک پہنچاتی ہے اور پھر اس کے بعد استوائی جنگل سے ڈیڑھ کیلو میٹر کا پیدل سفر بھی کرنا ہوتا ہے۔ ان میں سے کچھ غار اتنے تاریک ہیں کہ سیاحوں کو کسی بھی چیز کو دیکھنے کے لیے ٹارچ کی ضرورت پڑتی ہے۔ انہیں ان غاروں تک پہنچنے کے لیے جزیرے کی ایک اور کشش یعنی مدارینی علاقے کی جھاڑیوںوالے جنگل سے گزرنا پڑتا ہے۔

ٹی ایل جے ۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط