مرکز

موسیقی کا عجائب گھر

موسیقی میں دلچسپی رکھنے والے لاس اینجلس کے گریمی میوزیم میں امریکی موسیقی کی تاریخ، فن، تخلیقی صلاحیت اور اس کی تکنیک کے بارے میں سیکھ سکتے ہیں۔

یلوِس پریسلے سے  ٹیلر سوئفٹ اور  لوئی آرم اسٹرانگ سے  جے زیڈ تک امریکی موسیقی کی تمام نامور ہستیوں نے اپنے الفاظ اوراپنی آواز سے پورے امریکہ میں کروڑوں لوگوں کو نہ صرف محظوظ کیا ہے بلکہ انہیں تحریک بھی دی ہے۔ یہ اصل میں ایک طاقتور میراث ہے اور کیلی فورنیا کے لاس اینجلس میں واقع  گریمی میوزیم اس کی ایک مثال ہے جس کا مقصد موسیقاروں اور سامعین کی نئی نسلوں کے لیے اسے یکساں طور پر تحفظ فراہم کرنا ہے۔

میوزیم کے کارگزار ڈائریکٹر مائیکل اسٹِکا کہتے ہیں ’’یہ عجائب گھر ایک دلچسپ اور تفاعلی ثقافتی ادارہ ہے۔یہاں کا دورہ موسیقی کے کسی شائق کے لیے اپنی طرح کا انوکھا تجربہ ہے جو دلفریب ہونے کے ساتھ ساتھ علمی نوعیت کا ہے۔اس کے علاوہ یہ تحریک دینے والا بھی ہے۔ ‘‘

اسٹِکا اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بتاتے ہیں ’’ اس میوزیم کے قیام کا بنیادی مقصد موسیقی کی تعلیم دینا ہے جس کے بارے میں ہم سب کو معلوم ہے کہ یہ لازمی ہے خاص طور سے اس لحاظ سے کہ موسیقی کی زبان حقیقی طور پر ایک بین الاقوامی زبان ہے۔ ‘‘ 

۲۰۰۸ ء میں قائم شدہ یہ میوزیم موسیقی کے ذریعہ اتحاد ، امنگ اور موسیقی کی تاریخ پھیلانے کا کام انجام دیتا ہے۔ یہ ریکارڈنگ اکیڈمی کے لیے، جو ایک امریکی ادارہ ہے اور فن کاروں کے حقوق کی وکالت اور پیشہ ور موسیقاروں کی حمایت کرتا ہے ،کوئی چھوٹا کام نہیں ہے بلکہ اس کا فرض عین ہے۔ عجائب گھر ہر برس منعقد کیے جانے والے پروگرام گریمی ایوارڈس کی میزبانی بھی کرتا ہے جس کے ذریعہ موسیقی کی دنیا کی سب سے بڑی اور بااثر ہستیوں کو وقار بخشا جاتا ہے۔

اپنے مقاصد کی حصولیابی کے لیے گریمی میوزیم ایسی نمائشوں اور پروگراموں کااہتمام اور ایسے اقدام کرتا ہے جن میں امریکی موسیقی جیسا تنوع پایا جاتا ہے اور جہاں موسیقی کا جشن منایا جاتا ہے۔ ان میں ٹیک می آؤٹ ٹو دی بال گیم:پاپولر میوزک اینڈ دی نیشنل پاس ٹائم شامل ہیں۔یہ ایک دلکش نمائش ہے جو امریکی ثقافت میں بیس با ل اورمقبول موسیقی کے درمیان ایک بہت ہی گہرے اور طویل رشتے کا پتہ دیتی ہے۔یہاں کی نمائش میں لگی خصوصی اشیاء میں مشہور نغمہ ٹیک می آؤٹ ٹو دی بال گیم کی  شیٹ میوزک(موسیقی کے ہاتھ سے لکھے گئے یا مطبوعہ اشارے)، بیس بال کے موضوع پر مبنی دیگر کلاسیکی نغموں کی ہاتھ سے لکھی گئی موسیقی اور وہ تاریخی گٹار اور مائکرو فون شامل ہیں جنہوں نے بیس بال پر مبنی موسیقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس میوزیم کادورہ کرنے والے سیاحوں کومنفرد فوٹوگرافی کی نمائش دیکھنے کا موقع ملتا ہے جو گلوکار اور نغمہ نگار  جَونی کیش کے جیلوں میں منعقد مشہور متنازع پروگراموں کی سرگزشت ہے۔۱۹۶۰ ء کی دہائی کے اواخر میں انہوں نے دو مختلف جیلوں کے قیدیوں کے لیے مختلف  کنسَرٹسکا اہتمام کیاتھا تاکہ وہ قیدیوں کو درپیش حالات کو منظر عام پر لاسکیں۔افسانوی شہرت کے حامل فوٹو گرافر  جِم مارشل نے کنسَرٹ سے پہلے ، اس کے درمیان اور بعد کی تصویریں اپنے کیمرے میں قید کیں۔یہاں نمائش میں لگی ان کی بہت ساری تصویریں اس کے پہلے کبھی بھی عوامی نمائش کے لیے نہیں رکھی گئی تھیں۔ 

بہت سارے میوزیم کی نمائشوں میں صرف تاریخی اعتبار سے ہی اہم اشیاء اور تصویروں کااستعمال نہیں کیاجاتا بلکہ موسیقی کی تخلیق کے عمل میں سیاحوں کی شمولیت میں مدد کرنے کے لیے جدید دور کی تکنیکی اختراعات کو بھی بروئے کار لایا جاتا ہے۔۱۹۹۰ ء کی دہائی کے اواخر میں بہت زیادہ مقبول امریکی  پَوپ گروپ بیک اسٹریٹ بوائز کا حوالہ دیتے ہوئے اسٹِکا کہتے ہیں ’’فی الحال مجھے  بیک اسٹریٹ بوائز :دی ایکسپیرینس ایکزیبیشنبہت زیادہ پسند ہے کیوں کہ یہ حقیقی طور پرہمیں ہماری تکنیکی پیش کش کی توسیع کی سہولت فراہم کرتا ہے۔مثال کے طور پر ہمارے یہاں ہولوگرام تجربے کا اہتمام کیا جاتا ہے جو سیاحوں کو گانے، رقص کرنے اور بینڈ کے ساتھ کھڑے ہونے کا موقع دیتاہے اور انہیں ہولوگرام کے اندر کھڑے ہونے کی سہولت فراہم کرتا ہے جسے وہ اپنے فون میں بھیج سکتے ہیں اور پھر اپنے دوستوں کے ساتھ اسے شیئر کر سکتے ہیں ۔‘‘

یہ میوزیم گرچہ وسیع طور پر بیک اسٹریٹ بوائز کی ہی طرح کے عوامی طور پر مقبول فن کاروں کی عزت افزائی کرتا ہے اور انہیں وقار بخشتا ہے مگر اسٹِکا بتاتے ہیں کہ اس کے مقاصد کا اہم پہلوصرف مقبول ترین موسیقی کو ہی نہیں بلکہ تمام قسم کی موسیقی کو گلے لگانا اور انہیں یاد رکھنے کا عزم ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’گریمی میوزیم میں مختلف اقسام کی موسیقی اس طرح سے مربوط ہے کہ ہمارے سیاحوں کو دیہی موسیقی، راک، جَیز، ہِپ ہَوپ، پَوپ  اور بہت ساری دیگر اقسام کے بارے میں تجرباتی طور پر معلومات حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ ‘‘

گریمی میوزیم اپنے لاس اینجلس کے احاطے میں اور پورے ملک کے علاوہ مختلف بحر اعظموں کے درمیان نمائشوں کے ذریعے اپنے اصولوں پر عمل در آمد کرتا ہے۔اپریل ۲۰۱۹ ء میں میوزیم نے بنگالورو میں واقع انڈیا کے پہلے تفاعلی میوزیم  انڈین میوزک ایکسپیرینس (آئی ایم ای)کے ساتھ شراکت داری کااعلان کیا۔ اسٹِکا کہتے ہیں کہ آئی ایم ای اور گریمی میوزک شراکت میں نمائشوں کے اہتمام کے لیے ، تعلیمی تبادلہ پروگرام میں آسانی کے لیے اور ’’ بین الاقوامی سطح پر کلاس روم کے اندر اور باہر دونوں مقامات پر موسیقی اور پیش کیے جانے والے فنون لطیفہ کو فروغ دینے کے نئے طریقوں کی تلاش کے لیے دو درجن سے بھی زیادہ ملحق اداروں کے ساتھ مل کر کام کر یں گے۔ ‘‘ 

وہ مزید کہتے ہیں ’’ ہم لوگ پوری دنیا میں مختلف تنظیموں کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دینے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔خاص طور سے آئی ایم ای کے لیے میں موسیقی کی تمام شکلوں کی عزت افزائی کرنے والی سفری نمائشوں کے تعلق سے کافی امکانات دیکھ رہا ہوں۔‘‘

مقامی سطح پر گریمی میوزیم،موسم گرما میں منعقد کیے جانے والے کیمپ ،گریمی سمر سیشنس جیسے تعلیمی پروگرام کے ذریعے طلبہ کو تحریک دینے کی خواہاں ہے۔اس کیمپ میں طلبہ کو نغمہ نگاری کا فن سکھایا جاتا ہے۔ اسٹِکاکہتے ہیں کہ اس کے علاوہ معروف گریمی کیمپ کا بھی اہتمام ہوتا ہے جو ’’ ہفتے بھر جاری رہتا ہے۔ یہ ان طلبہ کے لیے ایک پروگرام ہے جو دنیائے موسیقی میں کریئر بنانے کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں ۔ دونوں ہی پروگراموں سے ہمارے طلبہ کی حوصلہ افزا ئی ہوتی ہے ۔ اور یہاں سے فراغت کے بعد طلبہ موسیقی کی تخلیق کے لیے بالکل تیار ہوتے ہیں ۔ ‘‘

وہ ان تمام کوششوں کو ایک آغاز کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ آئندہ برسوں میں اضافی اختراعی پروگرام کے ذریعہ موسیقی سے متعلق اس میوزیم کی تعلیمی کوششوں کی مزید توسیع ہوگی۔ 

 

مائیکل گیلنٹ، گیلنٹ میوزک کے بانی اور سی ای اوہیں ۔ وہ نیو یارک سٹی میں رہتے ہیں ۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط