مرکز

بیابان میں خرمستی

نیو میکسیکو میں واقع کاشا ۔ کٹوو ے راکس نیشنل مونیو منٹ اپنی مخروطی چٹانی تشکیلات ، پا پیادہ گزرگاہوں اور طائرانہ زندگی کے لیے جانا جاتا ہے۔

اگر آپ نیومیکسیکو میں سانتا فے اور البو کرکی کے درمیان انٹر اسٹیٹ ۲۵پر کہیں ہیں تو  کاشا۔ کٹو وے ٹینٹ راکس نیشنل مونیو مینٹ پر ذرا دم لے لیں۔ یہ ارضیاتی حیرت کدہ متعدد تفریحی پگ ڈنڈیوں میں سے کسی ایک پر کو ہ نوردی کے دوران مخروطی شکل کی چٹانی تشکیلات کو دیکھنے اور ان کی تصویر کشی کے لیے ایک شاندار مقام ہے۔

کاشا۔ کٹو وے ٹینٹ راکس نیشنل مونیو مینٹ، بیورو آف لینڈ مینجمنٹ کے ماتحت ہے جو کہ امریکی محکمۂ داخلہ کے زیر نگرانی ایک ایجنسی ہے۔  ۲۰۰۱  ء میں صدر بل کلنٹن نے اسے امریکی قومی یادگار قرار دیا تھا۔

یہاں حیران کردینے والی مخروطی شکل کی چٹانی تشکیلات کے بارے میں گمان ہے کہ ان کی تخلیق اب سے ۶ سے ۷ ملین برس پہلے آتش فشاں کے پھٹنے سے نکلنے والے لاوے ، آتش فشانی چٹانوں کے ٹکڑوں اور جمی ہوئی راکھ سے ہوئی۔ کاشا ۔کٹووے کے معنی پیبلو(جنوب مغربی امریکہ میں پیبلو کے معنی مقامی امریکی ہیں۔ قدیم و جدید دونوں زمانوں میں اس لفظ کے یہی معنی ہیں )کی روایتی کیریسن زبان میں سفید چوٹیوں یا سفید کھڑی چٹانوں کے ہیں۔ یہ چٹانیں جیمز پہاڑوں کے پجاریٹو سطح مرتفع پر پیرالٹا درے میں کئی گروہ میں ادھر ادھر بکھری ہوئی ہیں ۔شمالی نیو میکسیکو میں ایک قدیم آتش فشاں کے پھٹنے سے یہ علاقہ پیدا ہوا جسیجیمز ماؤنٹینس کہا جا تا ہے۔ پجاریٹو پٹھار جہاں یہ یادگار واقع ہے آتش فشانی چٹانوں سے بنی ہے اور گھاٹیوں اور کھڑی چٹانوں کی سپاٹ چوٹی والی پہاڑیوں کے کٹاؤ سے ٹوٹ کر ادھر ادھر بکھری ہوئی ہے۔ 

اس یادگار اوراس کے آس پاس کی وادیوں میںآنے والا کوئی بھی سیاح ہر جگہ صاف و شفاف کالے شیشے کے ٹکڑے دیکھ سکتا ہے جن کو اپاچے ٹیئرس کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ یہ چیزیں آتش فشاں پھٹنے کی باقیات بھی ہیں۔ آتش فشاں پھٹنے سے ہی ٹینٹ چٹانوں کی تشکیل ہوئی۔

اس یادگار کے اطراف موجود خوبصورت مناظر صدیوں تک لوگوں کی کشش کا باعث رہے ہیں۔۱۴ اور ۱۵ ویں صدی میں یہاں متعدد مقامی امریکی آباد ہوگئے ۔ یہ یادگار جس جگہ واقع ہے وہ  کو چیٹی پیبلو ہے جو قرون وسطیٰ کی بستیوں کی موجودہ نشانی ہے۔ 

۱۶ ویں صدی عیسویں میں ہسپانوی سیاح  فرانسسکو واسکویز ڈی کورونیڈو نے اپنے روزنامچوں میں اس علاقے کے باشندوں کے بارے میں  پیبلو ڈی کوچیٹی کے عنوان سے لکھا ہے۔ ۱۷ویں صدی میں یہاں آکر آباد ہونے والوں نے ایک اور ہسپانوی سیاح  جو آن ڈی اوناٹیکے نقوش قدم کی  ریو گرانڈ وَیلی میں پیروی کی اور ان ہی کے ساتھ اس خطے میں تجارت ، کاشت کاری اور مویشی پروری آئی ۔

کاشا۔ کٹووے ، قومی یادگار بننے سے پہلے عوام میں کم مقبول تھا مگر قومی یادگار کا درجہ ملنے کے بعد یہ مقام سیاحوں کی دلکشی کا ایک بڑا مرکز بن گیا۔ یہاں نئی سہولتیں بھی دستیاب ہوئیں جن میں کوہ نوردی کے لیے پگ ڈنڈیوں ، پکنک ٹیبلس ، ریسٹ روم اور تحائف کی ایک دکان شامل ہے۔ 

یہاں کے خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہونے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ کسی ایک پگ ڈنڈی پر کوہ نوردی کی جائے۔اس یادگار میں ایک قومی تفریحی پگ ڈنڈی بھی شامل ہے جو صرف پیدل چلنے کے لیے مخصوص ہے ۔ اس کا نام کیو لوپ ٹریل ہے جو کہ آسان ترین پگ ڈنڈی ہے۔ بچے اور بوڑھے اس پر سفر کر سکتے ہیں۔اس کی لمبائی تقریباََ ۲ کلومیٹر ہے ۔ یہ سیاحوں کو اس مقام کی زمینی سطح سے آگے لے جاتی ہے اورٹینٹ راکس کے قریب کے مناظر دکھاتی ہے۔یہاں  کینیون ٹریل بھی ہے جو کہ گرچہ بہت دشوار پگڈنڈی ہے مگر اس پر چلنے کا فائدہ بھی زیادہ ہے۔یہ ۴ اعشاریہ ۲ کلومیٹر کی یکطرفہ پگڈنڈی ہے جو  کیو ٹریل کی ایک شاخ کے طور پر پھوٹتی ہے ۔اس پر کوہ نوردی کے دوران ایسی ڈھلوان اور پتلی گزر گاہوں پر چلنا پڑتا ہے جن کی سطح ۶۴۰ فٹ تک اٹھی ہوئی ہے۔اس پگڈنڈی سے گزرنے کے دوران سیاح کو  سنگرے ڈی کرسٹو، جیمز اور سانڈیا ماؤنٹینس کے اور ریو گرانڈ ویلی کے شاندار مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔سن رسیدہ لوگوں کے لیے بھی یہاں ایک پگ ڈنڈی ہے جس کا نام  ویٹرنس ماؤنٹین ٹریل ہے۔یہ ۶ اعشاریہ ایک کلو میٹر لمبی دائرہ دار راہداری ہے جسے آسان اور  وہیل چیئر کے گزرنے کے بھی لائق قرار دیا گیا ہے۔ 

ڈھلوان چٹانوں کے درمیان سے گزرنے کے دوران سفید اور خاکستری چٹانوں کے پس منظرمیں نباتاتی زندگی جیسے کہ منزا نیٹا جھاڑیوں ، انڈین پینٹ برش، اپاچے پلوماورڈیزرٹ میری گولڈ کو دیکھا جا سکتا ہے۔ 

کاشا۔ کٹووے ٹینٹ راکس مونیومینٹ کے ارد گرد کا علاقہ پرندے دیکھنے کے لیے بھی ایک اچھا مقام ہے۔ یہاں گوناگوں قسم کے پرندے دیکھے جا سکتے ہیںجیسے کہ لال دم والے عقاب ،روبی کے تاج پہنے کِنگ لیٹس،ہاؤس فِنچیس اور  وائلیٹ گرین سویلوز ۔ ان کے علاوہ یہاں دیگر جانور بھی دیکھے جا سکتے ہیں جیسے گوزن ، کونسلا ہرن ، جنگلی ٹرکی مرغیاں ، امریکی بھیڑیا ، امریکی گلہری اور خرگوش وغیرہ۔ قدرت اور جنگلاتی زندگی کا یہ امتزاج ان مناظر کی شاندار ارضیاتی تشکیلات کو مزید ابھارتا ہے اور اسے ایک جاندار اور بلا خطا منفرد نظارہ بنا دیتا ہے ۔

 

نتاشا ملاس واشنگٹن ڈی سی میں مقیم ایک آزاد پیشہ صحافی ہیں۔ 

 


 

چٹانوں پر نقاشیاں 

 

مہا بھارت میں پانڈو بھائیوں میں سے ایک ، طاقت ور ہیرو بھیم کی بہت سی مہم جوئیوں کا بیان ہے ۔جب ان بھائیوں کو ریاست سے جلا وطن کیا گیا تو وہ چھپنے کے لیے چٹانی پناہ گاہوں میں چلے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ بھیم بیتکا چٹانی پناہ گاہوں کو یہ نام اسی وجہ سے ملا یعنی بھیم کے بیٹھنے کی جگہ۔

بھیم بیتکا چٹانی پناہ گاہیں ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع رائے سین میں رتا پانی ٹائیگر ریزرو کے اندر واقع ہیں جو ایسی قدیم جگہ ہے جہاں برّ صغیر پاک و ہند پر انسانی بود و باش کی انتہائی ابتدائی نشانیاں ملتی ہیں۔ یہ جگہ ہوائی جہاز اور سڑک دونوں سے اچھی طرح مربوط ہے ۔ بھوپال یہاں کا قریب ترین ہوائی اڈّہ اور ریلوے اسٹیشن ہے ۔

بھیم بیتکا چٹانی پناہ گاہوں کو ۱۹۵۷ ء میں ماہر آثار قدیمہ وی ایس واکانکر نے دریافت کیا تھا ۔ اسے ۲۰۰۳ ء میں یونیسکو نے عالمی ورثہ قرار دیا ۔ یہ چٹانی پناہ گاہیں ایک لاکھ برس پہلے آباد تھیں ۔ وہاں ابتدائی انسانوں کی بود و باش اور ثقافتی ارتقا ء کے ثبوت ملے ہیں۔

بہت سی پناہ گاہوں میں ما قبل تاریخ کی نقاشیاں ملتی ہیں جن کے بارے میں اندازہ ہے کہ انہیں ۳۰ ہزار برس پہلے بنایا گیا ہوگا ۔

چٹّانی پناہ گاہوں کے اندر دستیاب ہونے والی نقّاشیاں اتنی پرانی نظر آتی ہیں جیسے کہ قدیم اور جدید تاریخ کے درمیان کے دور کی ہوں ۔ ان میں شکار اور اجتماع کے مناظر دکھائے گئے ہیں اور مقامی جانور ، لڑاکے ، رقّاص وغیرہ بھی نظر آتے ہیں۔ ان نقّاشیوں میں کئی طرح کے رنگ نظر آتے ہیں اور سب سے نمایاں رنگ سفید اور سرخ ہے ۔ انتہائی دلچسپ نقّاشیوں میں سے ایک کا نام  زو راک ہے جس میں کئی طرح کے مقامی جانور دکھائے گئے ہیں۔ 

یونیسکو کی ویب سائٹ پر اس کا ذکر کیا گیا ہے کہ اس مقام سے متصل ۲۱ مواضعات کے باشندگان کی ثقافتی روایتیں چٹّانی نقاشیوں میں دکھائی گئی روایتوں سے ملتی جلتی ہیں ۔ 

چٹّانی پناہ گاہوں کے چاروں طرف پُر امارت نباتات اور حیوانات موجود ہیں ۔ قدرتی طور پر کاٹی گئی چٹّانوں اور گھنے جنگلات کے درمیان سے گزرتے وقت جنگلاتی زندگی کے مناظر بھیم بیتکا چٹانی پناہ گاہوں کے سفر کو ایک یادگار تجربہ بنا دیتے ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط