مرکز

زرعی ثقافت کی قدر و منزلت

امریکی ریاست کنساس  میں قومی زرعی مرکز اورہال آف فیم شائقین کو امریکہ میں زراعت کی تاریخی اور موجودہ قدر کے بارے میں آگاہ کرنے میں مصروف ہے۔

ریاست کنساس کے شہر  بونر اسپرنگس میں واقع  نیشنل ایگری کلچر سینٹر اینڈ  ہال آف فیم اپنی نوعیت کا واحد میوزیم ہے جہاں امریکی زراعت کی عزت افزائی کی جاتی ہے۔ یہاں اس بات کو اجاگر کیا جاتا ہے کہ امریکہ کے کھانے پینے، کپڑے ،معیشت اور ثقافت کی جڑیں کھیتی باڑی میں ہیں۔ 

اسے عام طور پر  اَیگ سینٹر کے نام سے جانا جاتا ہے جو ۱۹۵۰ ء کی دہائی کے ان بے شمار زرعی تجارتی لیڈروں کی کوششوں کا نتیجہ ہے جو امریکی ثقافت کے اس اہم پہلو کو سامنے لانا اور اس پر فخر کرنا چاہتے تھے۔انہوں نے کنساس سٹی کے ٹھیک باہر واقع تقریباََ ۶۹ ہیکٹر کی اس جائداد کو چننے اور اسے خریدنے میں مدد کی۔ اس عجائب گھر کے نگہبان  کیمرون لی نے بتایا ’’ اس مرکز کو ۱۹۶۰ ء میں امریکی کانگریس اور صدر آئزن ہاور نے وجود بخشنے کا اختیار دیا ۔۵ برس بعد صدر ٹرومَیننے اس مرکز کو پہلا آرٹ کا نمونہ تحفے میں دیا ۔ یعنی میوزیم کی پہلی پوری طرح مکمل عمارت میں انہوں نے رکھنے کے لیے ریاست مسوری کے گرانڈ ویو میں واقع اپنے فیملی فارم میں زیر استعمال چلتا ہوا ہل پیش کیا۔‘‘

میوزیم کی ویب سائٹ پر اس کے قیام کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے درج ہے ’’ اس کا مقصد امریکی زراعت کی تاریخی اور موجودہ قدر کے بارے میں عوام کو باشعور بنانا اور تعلیم، اطلاع ، تجربہ اور اعتراف کے ذریعہ زرعی تاجروں اور ماہرین تعلیم کی قیادت کو اعزاز دینا ہے۔ ‘‘

عجائب گھر کا دورہ کرنے والے میوزیم کی اصل عمارت میں آرٹ کے بے شمار نوادرات ملاحظہ کر سکتے ہیں ۔ یہیں  نیشنل ایگریکلچرل ہال آف فیم اور آرٹ گیلری واقع ہے جہاں دیہی فنون کا ایک بڑا مجموعہ رکھا ہوا ہے۔ دیکھنے والے چاہیں تو کاشت کاری کا میوزیم بھی دیکھ سکتے ہیں۔یہ ۲۰ ہزار مربع فٹ کی عمارت ہے جسے تقریباََ پوری طرح کھیتی باڑی میں کام آنے والی نادرو نایاب مشینوں اور آلات کے لیے وقف کیا گیا ہے۔اس کے بعد اسمتھ ہائوس ہے جس کے بارے میں لی کہتے ہیں ’’یہ ۱۹ ویں صدی کے آخری دَور کے فارم ہاؤس کا نقش ِ ثانی ہے جس میں ایسے حقیقی فرنیچر اور آلات رکھے گئے ہیں جو اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ۱۰۰ برس پہلے خاندان کیسے رہتے تھے۔یہ فارم ٹائون یو ایس اے کے ٹھیک باہر اور پوری طرح اسٹاک سے بھرے ہوئے  چکن کوپ کے برابر واقع ہے۔‘‘

یہاں آنے والوں کو کاشت کاروں کی زندگی کا راست تجربہ کرنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ لی نے بتایا ’’ مہمانوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ چوزوں کو کھلانے کے لیے دانہ پیسیں، فارم ہاؤس کے باہر لگا ڈنر گھنٹہ بجائیں، شہد کی مکھیوں کے سرگرم چھتے دیکھیںاورزیرہ پوشی والے باغیچے بھی دیکھیں جس کی دیکھ بھال  ویان ڈوٹ کاؤنٹی کے ماہر باغباں کرتے ہیں۔ ‘‘

یہاں ایک اور اہم مقام فارم ٹاؤن ہے جو ۱۹ صدی کے اوائل کے  کنساس ٹاؤن کا پُر اثر نقشِ ثانی ہے۔ اس میںایک کمرے کا اسکول ہے جو ۱۹۱۷ ء میں تعمیر کیا گیا تھا۔ایک مرغی خانہ بھی ہے جس میں نیشنل پولٹری میوزیم قائم ہے ۔ایک جنرل اسٹور اورایک لوہار کی دکان ہے۔ اس طرح یہ پوری طرح مکمل ہے۔اس کے علاوہ یہاں آنے والے سانتا فے ڈپو دیکھنے اور جھیل کے گرد چکر کاٹنے کے لیے چھوٹی لائن والی چھوٹی  یونین پیسیفک ٹرین بھی پکڑ سکتے ہیں۔ لی بتاتے ہیں ’’ فارم ٹائون دیکھنے آنے والوں کو وقت رہتے واپسی کا سفر کروایا جاتا ہے تاکہ وہ مغرب کی طرف ہونے والی توسیع کے دوران زندگی کا نظارہ کر سکیں۔ ‘‘

ملک اور خطے میں زراعت اور اس کے حسب و نسب کی ترقی کی نشانیوں کو رکھنے کے علاوہ یہ میوزیم آج کی زرعی اور دیہی ثقافت کو نہ صرف تسلیم کرتا ہے بلکہ اس کی عزت افزائی بھی کرتا ہے۔ لی نے بتایا’’ جن افراد کو  ایگری کلچرل ہال آف فیم  میں شامل کیا جاتا ہے ان کی مقامی اور قومی دونوں طرح کی زرعی اور دیہی ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ یہاں جگہ پانے والے افراد کا تعلق مختلف پس منظر سے ہوتا ہے اور یہ پوری تاریخ میں امریکی زراعت کے ارتقا ء کی نمائندگی کرتے ہیں۔ میوزیم جن تقریبات کی میزبانی یا تائید کرتا ہے ان میں بہت سی تقریبات میں اس پہلو کی گونج سنائی دیتی ہے۔ان میںبرنیارڈ بیبیز فیملی فیسٹیول  اور  سانتاز ایکسپریس کاؤنٹی فیسٹیول شامل ہیں جو زراعت کے جشن میں شرکت کے لیے کسانوں اور ان کے خاندانوں کو اپنی جانب کھینچتے ہیں۔ان خاندان دوست تقریبات میں پالتو جانوروں کے  پیٹنگ زو(ایسا چڑیا گھر جہاں کا دورہ کرنے والے خاص کر بچے جانوروں کی نہ صرف دیکھ بھال کرتے ہیں بلکہ انہیں کھلاتے بھی ہیں )،کسانوں کی منڈیاں،  لائیو میوزک،طبقات کو بنانے اور اس کی پرورش کرنے کے موضوعات سے وابستہ نمائشوں اور کھیلوں کا اہتمام ہوتا ہے۔لی کا کہنا ہے ’’ یہ تقریبات لوگوں کو روزمرہ کی زندگی میں زراعت کی اہمیت کو سمجھانے میں اور اپنی برادریوں کے اندر کسانوں کو متعارف کرانے میں مددگار ہوتی ہیں۔ ‘‘

اس عجائب گھر کی انتہائی منفرد خصوصیات میں سے ایک ٹریکٹر کروز ہے۔یہ زرعی مرکز کے لیے ایک سودمند سفر ہے جس کا اہتمام  گریٹر کنساس سٹی ٹو سلنڈر کلبکرتا ہے۔ اس میں پورے  کنساس سٹی میٹرو ایریا کے ٹریکٹر شامل ہوتے ہیں اور  ویان ڈوٹ کاؤنٹی کے گرد ۳۹ کلو میٹر سے زائد کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس انعقاد کے لیے نیشنل ایگری کلچر سینٹر اینڈ ہال آف فیم کی مدد کے لیے ڈرائیور اور تماش بیں دل کھول کر چندہ دیتے ہیں ۔ 

ایگ سینٹر جس قدر ماضی کو تسلیم کرتا ہے اسی قدر مستقبل پر بھی نظر رکھتا ہے۔ لی نے بتایا ’’ ہم لوگ زرعی تعلیم کو احاطہ سے باہر لے جانے کے اپنے مشن کو پھیلانے کی کوشش میں کنساس سٹی تنظیموں اور دیگر قومی تنظیموں کے ساتھ فی الحال بڑی تعداد میں شراکت کر رہے ہیں ۔ ‘‘ 

ان میں سے اہم منصوبے نیشنل پولٹری میوزیم اور مرغی خانہ کو پھر سے ڈیزائن کرنے اوران کا نیا ماڈل بنانے سے متعلق ہیں تاکہ پولڑی سے متعلق تاریخی نوادرات کو بہتر ڈھنگ سے اجاگر کیا جا سکے اور ان معتبر کہانیوں کو ڈھنگ سے بیان کیا جا سکے جو وہ سناتی ہیں۔

نتاشا مِلاس نیویارک سٹی میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط