مرکز

بحریہ کا عجائب گھر

 امریکہ کی جنوب مشرقی ریاست  ورجینیا میں واقع بحری ا فواج کا قومی عجائب گھر بحریہ کی تاریخ بیان کرنے کے ساتھ ساتھ امریکی بحریہ کے تجربات اور کامیابیوں کی عزت افزائی بھی کرتا ہے۔

 جب حکام کو امریکی بحری افواج کے لیے وقف ایک میوزیم بنانے کا خیال آیا تو ایک مسئلہ یہ درپیش ہوا کہ ایسی کسی عمارت کو کیسا نظر آنا چاہئے۔آخر کار یہ طے پایا کہ ایسی کوئی عمارت  جو روزنتھال کی دوسری عالمی جنگ کی مشہور تصویر سے مشابہہ ہو۔ مذکورہ تصویر میں ۶ امریکی فوجی جنگِ آئیووا جیما کے دوران  سوری باچی  پہاڑکی چوٹی پر امریکی جھنڈا لہراتے نظر آرہے ہیں۔

 بحری فوجی دستے کا قومی عجائب گھر ۲۰۰۶ ء میں عوام کے لیے کھولا گیا۔اس میں عوام الناس کے لیے امریکی بحری افواج کی ۲۰۰ سال سے بھی زیادہ کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ ۲ دہائی پر مبنی تاریخ کے بیان کے لیے فنِ عمارت ، مصنوعی نمونوں ، جاذب نظر اشیاء اور عوامی رسائی کا سہارا لیا گیا۔

 یہ میوزیم ورجینیا کے شہر کوانٹیکو  میں بحریہ کے اڈے کے قریب ۵۵ ہیکٹر خطۂ اراضی پر واقع ہے۔واشنگٹن ڈی سی سے اس کی مسافت ایک گھنٹہ ہے ۔ اس کا قیام امریکی بحری افواج اور  میرِن کور ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے ساتھ سرکاری اور نجی شراکت داری کے ماڈل کے تحت عمل میں آیا ۔اب یہ  میرِن کور یونیورسٹیکی تحویل میں ہے۔

 امریکی بحری افواج کا قیام ۱۷۷۵ ء میں ہوا۔سب سے پہلے انہیں جو ذمہ داری دی گئی وہ یہ تھی کہ انہیں امریکی جہازوں پر متعین کیا گیا تاکہ دشمن کی افواج ان جہازوں پر سوار ہو کر ان پر قبضہ نہ کرسکیں۔ بغاوت کی سرکوبی بھی ان کی ذمہ داری کا حصہ تھا۔

 بہت جلد بحری افواج ملک کی صفِ اوّل کی ایسی طاقت بن گئی جسے خشکی اور تری دونوں مہمات میں مہارت تھی ۔ ساتھ ساتھ اس نے مہم جوئی میں بھی اپنا لوہا منوا لیا۔ یہ چوں کہ سمندر کے راستے دشمن کے علاقے میں داخل ہونے میں ماہر دستہ ہے ، اس لیے امریکہ سے باہرہونے والی جنگوں میں سب سے پہلے اسی کو بھیجا جاتا ہے۔

 اس میوزیم میں داخلہ بالکل مفت ہے۔ ۲۰۱۸ ء میں اسے دیکھنے ۵ لاکھ افراد آئے۔اس کے وسیع مجموعے میں ۶۰ ہزار وردیاں ، ہتھیار، گاڑیاں ، تمغے ، جھنڈے ، ہوائی جہاز اور فن پارے شامل ہیں۔ شائقین یہاں توپیں ، دوسری عالمی جنگ کا ایک ٹینک، کوریا اور ویتنام کی جنگ میں استعمال کیے گئے لڑاکو ہیلی کاپٹر اور طیّارے دیکھ سکتے ہیں۔

 جاذب نظر اشیا ء کی دید کا تجربہ کافی اچھا ہوتا ہے۔میوزیم میں جہاں کوریا کے  چوسِن  ذخیرہ ٔآب کی جنگ کا منظر پیش کیا گیا ہے وہاں مثال کے طور پر لوگ منجمد کرنے والا درجہ ٔحرارت محسوس کر تے ہیں ۔ ناظرین کو اس کے علاوہ ان چینی سپاہیوں کی آوازیں بھی سننے کو ملتی ہیں جب وہ اپنے سے تعداد میں زیادہ بحری افواج پر چڑھائی کر رہے ہیں۔جنگِ ویتنام کے گوشے میں لوگوں کو  ہِل ۸۸۱ ساؤتھ پر جہاز کے ذریعہ اوپر اٹھایا جاتا ہے جہاں ان کو جنگ کی آواز یں سننے کو ملتی ہیں ۔ وہ اطراف کے اسکرین پر جنگی ویڈیو دیکھ سکتے ہیں اور شدید گرمی کا احساس کر سکتے ہیں ۔  

 نمائش کے ذریعہ اس بات کے تجزیہ کا اظہار بھی ہے کہ امریکی سماجی پالیسی کی تبدیلی (دفاعی افواج میں نسلی تفریق کے خاتمے اور حالیہ برسوں میں خواتین رضاکاروں کو دو بدو لڑائی کی اجازت وغیرہ)کے اثرات بحریہ پر کس طرح پڑے۔

 میوزیم کے عوامی امور کے سربراہ  گوین اَیڈمس کہتے ہیں ’’ہم تاریخ پیش کرتے ہیں ۔ میں آپ کو بتا نہیں سکتا کہ کتنی بار لوگوں نے میوزیم کا شکریہ ادا کیا اس لیے کہ اس کی وجہ سے انہیں اپنے خاندان کے اس فرد کے ساتھ ربط کا موقع ملا جو کبھی بحریہ میں تھا۔‘‘

 ان نمائشوں کا مقصد سیاح کو اس احساس سے دو چار کرانا ہے کہ بحری افواج کے اراکین نے دوران ِ جنگ کیا تجربہ کیا۔

 عجائب گھر کی رسائی عوام تک دوسرے واسطوں سے بھی ہے۔ہر سال موسمِ گرما میں ، مثال کے طور پر، یہاں یومِ سگ کا انعقاد ہوتا ہے اور اس سے متعلق تقریبات ہوتی ہیں۔ اس دن سیاح ملاقات کرکے ان کتوں کے بارے میں جان سکتے ہیں جنہوں نے بحریہ کے علاوہ مسلح افواج کی دوسری شاخوں ،پولس اور سی آئی اے میں بھی اپنی خدمات انجام دیں۔

 عجائب گھر میں ایک  ٹیچر اِن ریزیڈینس (یہ ایسا پروگرام ہے جو ان لوگوں کے لیے ہے جو درس و تدریس کے پیشے سے وابستگی چاہتے ہیں تاکہ ان کی پیشہ ورانہ مہارت بہتر ہو اور انہیں تدریس کی ایسی مہارت ملے جو اس پیشے کے لیے لازمی شرط ہے)ہے۔اس کا کام اسکولوں میں  پریزینٹیشن دینا ہے۔ ۲۰۱۸ ء میں ۶۵ ہزار اسکولی بچے عجائب گھر دیکھنے آئے تھے۔ عجائب گھر بہت جلد ہی ایک نیا پروگرام شروع کرنے والا ہے جس کے تحت گھر پر رہ کر تعلیم حاصل کرنے والے بچے بھی یہاںکی سیر کر سکیں گے۔ 

 اس کے علاوہ ہر برس یہاں سُورما ہمارے درمیان تقریب کا بھی انعقاد ہوتا ہے جس میں داخلہ بالکل مفت ہے۔ اس تقریب میں سبکدوش اور فعال فوجیوں اور ان کے اہلِ خانہ کو دعوت دی جاتی ہے اور ان کو ان سے متعلق مختلف پروگراموں اور خدمات کے بارے میں بیدار کیا جاتا ہے۔کچھ برس قبل عجائب گھر نے  نیچورلائزیشن سریمنی منعقد کی تھی جس میں (بحریہ میں خدمات انجام دے چکے کئی افراد نے شرکت کی)تقریباََ ۱۰۰ افراد نے سرکاری طور پر امریکی شہریت اختیار کی۔

 اَیڈمس نے بتایا ’’ ہمارا ہدف ہمیشہ یہ رہا ہے کہ ہم طبقات کے تانے بانے کا حصہ بنیں۔‘‘

 

برٹن بولاگ واشنگٹن ڈی سی میں مقیم ایک آزاد پیشہ صحافی ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط