مرکز

رنگا رنگ تجربات کا جشن

سان ڈیاگو میں واقع نیو امیریکنس میوزیم میں تارکین وطن کے رنگا رنگ تجربات کی کہانیاں پیش اور محفوظ کی جاتی ہیں۔

سان ڈیاگو کا  نیوامیریکنس میوزیم (این اے ایم )نو واردوں اورامریکہ نژاد دیسی عوام کے درمیان مفاہمت اور ربط ضبط کو فروغ دینے کے علاوہ نئے شہریوں کو ایک دوسرے کے ساتھ روابط بڑھانے میں مدد دینے کی غرض سے قائم کیا گیا تھا ۔ اسے ایک بشر نواز اور سماجی کارکن  دیبورا زکلی نے ۲۰۰۱ ء میں قائم کیا ۔یہ عجائب گھر ترک وطن کرکے آنے والوں کی کئی نسلوں کی روایت کو اعزاز دیتا ہے اور اس کام کے لیے فکر انگیز ثقافتی اور تعلیمی پروگراموں ، نگہبانی میں رکھی گئی نمائشوں اور عوامی ترغیبات کا اہتمام کرتا ہے۔ مثال کے طور پر میوزیم کی ترغیب  بیونڈ والس خصوصی طور پر نمایاں پہل ہے۔ اس کے تحت میوزیم کی نمائشوں کو ایسے لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے جن کو عجائب گھر تک رسائی میں دشواریوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ رواں موسمِ خزاں میں  این اے ایم ووائسیز کی کڑی کے طور پر نمایاں علاقائی تارکین وطن کے ۷۳ شخصی کوائف اور ان کی تحریک بخش کہانیاں  لوگان ہائٹس اور  لِنڈا وِسٹا کے مقامی کتب خانوں میں دکھائی جائیں گی۔ میوزیم کی ایکزیکٹو ڈائرکٹر  لِنڈا کبالیرو سوٹیلو نے بتایا ’’ یہ ادارہ تمام امریکیوں کو یہ محسوس کرنے میں مدد دینے کی کوشش کرتا ہے کہ نیو امیریکنس میوزیم ہماری معیشت اور ثقافت کو غیر معمولی طریقوں سے مالا مال کر سکتا ہے ۔‘‘

ربط سازی

اس میوزیم کے کام کا ایک اہم پہلو طبقات تک رسائی بھی ہے۔ تقریبات ، فورم اور تعلیمی پروگراموں کے علاوہ یہ میوزیم پڑھنے لکھنے میں مدد کرنے اور متنوع برادریوں میں قیادت کی ہنر مندی پیدا کرنے کی غرض سے تخلیقی اور انسان دوست مضامین میں تکنیکی مدد کی تربیت کی پیش کش بھی کرتا ہے ۔

کبالیرو سوٹیلوکہتی ہیں ’’ ہم لوگ ہر برس نمائشوں کا اہتمام کرتے ہیں جس میں ہر ۳ ماہ میں ۲ تکمیلی یا موضوعاتی شو دکھائے جاتے ہیں ۔ اس طور پر ہر برس ہم ۸ شو ز کا اہتمام کرتے ہیں۔ ہم اپنی نمائشوں کے لیے وسائل داخلی طور پر حاصل کرتے ہیں جس کے لیے ایک نگہبانی اور پروگرامنگ کمیٹی ہے جو دعوت کے ذریعہ چنی جاتی ہے۔اس میں سفری نمائشیں ، ایسے نئے مکمل کیے گئے کام اور پروگرام شامل ہیں جن کا اہتمام عجائب گھر کے نگہبان اور تعاون کار کرتے ہیں ۔‘‘

میوزیم کے اس پروگرام کا مقصد زیادہ سے زیادہ متنوع برادریوں اور نوجوانوں تک رسائی ہے۔ مثال کے طور پر یہ میوزیم ہر سال بچوں کی شہریت کی تقریب منعقد کرتا ہے جس کا مقصد شہری معاملوں سے وابستگی کا تجربہ ہے جس میں ایک سے ۱۸ سال کی عمر کے ۱۰۰ بچوں کو نئے امریکیوں یا امریکی شہریوں کی حیثیت سے حلف دلوایا جاتا ہے ، جب کہ ان کے خاندان کے لوگ اور مقامی سیاسی لیڈران جیسے دوسرے مہمان ان تقریبات میں شرکت کرتے ہیں ۔ 

کبالیرو سوٹیلونے بتایا’’ ہم لوگ تارکین وطن اور پناہ گزینوں کو تکنیکی مدد فراہم کرنے اور ہنر سکھانے کے لیے کم سے کم متوسط آمدنی والی متعدد برادریوں میںتخلیقی زمرات ، جیسے کہ سلائی ،بُنائی اور زیور سازی میں چھوٹے اداروں کے پروگرام منعقد کرتے ہیں ۔

میوزیم میں خاندانوں کی تاریخ کا پروگرام بھی چلایا جاتا ہے تاکہ ترک وطن کرکے امریکہ آنے والے نوجوانوں میں ثقافتی افتخار پیدا کیا جائے۔کبالیرو سوٹیلوبتاتی ہیں ’’ ہم ہائی اسکول میں پڑھنے والے نوجوانوں کے لیے مضمون نویسی کے مقابلے منعقد کرتے ہیں تاکہ وہ تحقیق ، راست انٹرویو اور اپنی فکر کے توسط سے اپنے خاندانوں کے ترک وطن کی کہانی کو دستاویز بند کرسکیں۔ ‘‘

ان مضامین کا جائزہ اساتذہ اور اسکول ڈسٹرکٹ کے درمیان ربط ضبط سے لیا جاتا ہے اور نمبر دینے کا کام ممتاز ججوں کا ایک پینل کرتا ہے۔ سب سے اچھی کہانیوں پر نقد انعامات ملتے ہیں اور تمام شرکاء کا تذکرہ عزت دارانہ طور پر ہوتا ہے۔ 

کہانیوں کا تحفظ 

امریکہ آنے والوں کی تاریخ کی دستاویز بندی اس میوزیم کا ایک اہم پہلو ہے ۔ یہ زبانی اور بصری تاریخی منصوبہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے وقف ہے کہ ’’ انفرادی کہانیوں کو زبانی اور بصری تاریخوں کی لائبریری میں ایک ثقافت اور ایک قوم کی حیثیت سے تارکین وطن کی جڑوں کے پائیدار ثبوت کے طور پر محفوظ کر لیا جائے۔ ‘‘ 

کبالیرو سوٹیلونے بتایا ’’ہمارا یقین ہے کہ سب کے پاس کوئی نہ کوئی کہانی ضرور ہے ۔ ہم امریکہ کی رنگارنگی میں جس قدر قومی بیانیہ شامل کرنے کے اہل ہوں گے ، اسی قدر تمام لوگوں کے درمیان مفاہمت اور رواداری پیدا کرسکیں گے۔ کوئی خاندان یہ درخواست کر سکتا ہے کہ اس کی کہانی کا آن لائن اشتراک کیا جائے یا اسے میوزیم کے زبانی کہانی سے متعلق محفوظ شدہ دستاویزات میں شامل کیا جائے ۔یہ منصوبہ عوام کو اس کا حوصلہ دیتا ہے کہ وہ اس میوزیم کے ثبوتوں کے مسلسل بڑھتے ہوئے آرکائیو میں اپنی یا اپنے خاندان کی کہانی شامل کریں ۔کہانی جمع کرانے کا عمل سادہ ہے اور اس میں ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ سوالات کا فوراً جواب دیا جائے اور اس پر بھی رضامندی ظاہر کی جائے کہ میوزیم کا اسٹاف،تفتیش شدہ یا تربیت یافتہ رضاکار انٹرویو لے گا یا ریکارڈ کرے گا۔ 

اس میوزیم میں سال بھر لوگ مسلسل آتے رہتے ہیں اور ان کو حوصلہ دیا جاتا ہے کہ وہ ترک وطن کر کے آنے والوں کے تجربہ سے متعلق امور کے بارے میں مختلف سوالات کو کُریدیں۔ کبالیرو سوٹیلو کہتی ہیں ’’ نمائشیں جیسی لگی ہوں انہیں کی بنیاد پر ، اکثر لوگ تارکین وطن کے بیانیہ پر زیادہ سوالات کرتے ہیں اور اپنی پسند اور تفاخر کے احساسات کا اظہار کرتے ہیں ۔ ان کو اس کا حوصلہ دیا جاتا ہے کہ وہ ہمہ گیری ، نسل،رواداری اور رنگا رنگی کے بارے میں بات شروع کریں ۔‘‘

میوزیم میں داخلہ مفت ہے اور میوزیم ہفتے میں ۶ دن کھلا رہتا ہے۔ عجائب گھر کا عملہ یہاں آنے والوں کو بتاتا ہے کہ انہیں کون سی چیز ضرور دیکھنی چاہئے۔ جاری نمائش کے علاوہ انہیں بتایا جاتا ہے کہ لبرٹی اسٹیشن کے دونوں نگارخانوں کو دیکھیں کیوں کہ ہم عصر موضوعاتی تجربات لہجہ طے کردیں گے۔ گیلری اٹنڈنٹ اور گرافک ڈیزائنر ٹموٹھی آل نَٹ نے بتایا ’’ مہمانوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ ہمارے ریکارڈنگ اسٹوڈیو آنے کے لیے وقت بُک کریں تاکہ وہ یا تو اپنے خاندان کی تاریخ بتا اور محفوظ کر سکیں یا کسی دوسرے فنکار کو بات کرتے ہوئے دیکھ سکیں ۔ ‘‘ 

وہ ایک معلم کی قیادت میںمستقل نشانہ بند ٹور کی بھی سفارش کرتی ہیں۔آل نَٹ مزید کہتی ہیں ’’ افتتاحی شب کے استقبالیہ کو دیکھنے کا بھی اپنا ایک لطف ہے کیوں کہ وہاں مہمان مقرر ہوتے ہیں۔ ایک آرٹسٹ اپنی بات کرتا ہے اور نگہبان بھی حاضرین سے خطاب کرتا ہے۔ ‘‘ 

پارومیتا پین رینو میں واقع یونیورسٹی آف نیواڈا میں گلوبل میڈیا اسٹڈیز کی معاون پروفیسر ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط