مرکز

نقل وحمل کے قصّے

نیویارک ٹرانزِٹ میوزیم شہر کے عوامی نقل و حمل کے نظام اور عوام کی زندگیوں پر اس کے اثرات کی کہانی پیش کرتا ہے۔

عوامی نقل و حمل کے نظام نے کس طرح نیویارک شہر کو بدل کر رکھ دیا، اسی کے بیان اور اسی کی تفصیلات کے تحفظ کے لیے ۱۹۷۶ ء میں نیویارک ٹرانزِٹ میوزیم کی بنیاد رکھی گئی۔اس دلچسپ کہانی کو زندگی بخشنے کا کام خود میوزیم نے کیا ہے ۔ کہانی اس اندازسے پیش کی گئی ہے کہ یہ سیاحوں کو ایک عمیق اور انقلاب پذیر تجربے سے دوچار کرتی ہے۔ 

نیویارک شہر میں رہنے والے لوگوں کی زندگی یہاں کے موجودہ نقل و حمل کے نظام کے بغیر یکسر مختلف ہوتی۔میوزیم کی ڈائریکٹر  کونسیٹا بینسی وینگا کا کہنا ہے ’’ اگر آپ نیو یارک علاقے میں رہتے ہیں تو عوامی نقل و حمل کی قربت کی وجہ سے آپ جس طرح چاہتے ہیں اسی طرح زندگی بسر کرتے ہیں۔‘‘

بہت سے عالمی شہرت یافتہ عجائب گھر والے شہر میں ٹرانزِٹ میوزیم ایک انوکھا تجربہ فراہم کرتا ہے۔بینسی وینگا کہتی ہیں ’’اس عجائب گھر میں میوزیم کے دلدادہ سیاح ایسے وقت میں عالمگیر تجربے سے دو چار ہوتے ہیں جب زندگی انتہائی منقسم لگنے لگی ہے۔ یہاں کا تجربہ میوزیم کا ایک عمدہ ابتدائی تجربہ ہے۔ ‘‘ 

نیویارک ٹرانزِٹ میوزیم بروکلِن میں اندرونِ شہر واقع ایک ایسے سب وے اسٹیشن میں زیر زمین ہے جو ۱۹۳۶ ء سے بند پڑا ہے۔اس کی گھومنے والی نمائشیں اور خوردہ اسٹور گیلری گرینڈ سینٹرل ٹرمنل میں واقع ہیں۔میوزیم میں ۲۰ منتخب زمین دوز محوِ گردش راستے اور متعدد ایستادہ کاریں بھی موجود ہیں جن کی قدامت ۱۹۰۷ ء تک کے زمانے کی ہے۔ سیاح یہاں قدیم کاروں کی سواری کرسکتے ہیں ، کوئی سٹی بس چلا سکتے ہیں اور یوں گزرے ماہ وسال کو محسوس کر سکتے ہیں۔ یہاں موجود نمائش عوامی نقل و حمل کے نظام کی ثقافتی ، معاشرتی اور تکنیکی تاریخ تو پیش کرتی ہی ہے، اس کے مستقبل کی بھی جھلک دکھاتی ہے۔ان سے انجینئرنگ کے غیر معمولی کارناموں، ۱۰۰ برس پیشتر سرنگوں میں کام کرنے والے مزدوروں اور ان طبقات کی کہانیوں کی نمائندگی ہوتی ہے جن کی زندگیاں نقل و حمل کی وجہ سے یکسر بدل گئیں۔ میوزیم ایسے پروگراموں کا بھی اہتمام کرتا ہے جن کی بدولت سیاح آگہی کی کیفیت سے دوچار ہوتے ہیں اور عوامی نقل و حمل کے نظام کی مختلف جہتوں کے بارے میں جانتے ہیں ۔ 

میوزیم کا خرچ مختلف ذرائع سے حاصل شدہ رقومات سے چلتا ہے۔ یہ دراصل میٹرو پولیٹن ٹرانسپورٹیشن اتھارٹی (ایم ٹی اے) اور  فرینڈ ز آف دی نیویارک ٹرانزِ ٹ میوزیم کی عوامی اور نجی شراکت داری کا ثمرہ ہے۔مزید برآں، اسے بنیادی تعاون کے علاوہ انفرادی مالی تعاون بھی ملتا ہے۔ 

بینسی وینگا کہتی ہیں ’’ بچے ہمیں بے حد پیار کرتے ہیں۔ عجائب گھر میں موجود پرانی زیر زمیں چلنے والی کاروں کا تاریخی ذخیرہ بچوں کو نقل و حمل کے توسط سے تاریخ کے ساتھ وابستگی کا نا قابل ِ یقین موقع فراہم کرتا ہے۔ ‘‘

میوزیم میں ہر برس ۳۰ ہزار سے زائد اسکولی بچے آتے ہیں ۔ میوزیم کے فیملی پروگراموں اور سرگرمیوں میں پورے سال اتنے ہی بچے اور ان کے اہل خانہ شرکت کرتے ہیں ۔ بینسی وینگا بتاتی ہیں ’’ ان سے نوجوانوں میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ہم واقعی ایسے کمیونٹی میوزیم ہیں جو خاندان کا حصہ بن جاتے ہیں ۔‘‘

میوزیم میں قدیم ٹرینوں کے درمیان چلنے اورنوادرات کو دیکھنے کے علاوہ یہ جانکاری بھی ملتی ہے کہ نقل و حمل کے اس نظام کے گرد اور اس کے ساتھ شہر اور اس کے مضافات میں ترقی کیسے ہوئی۔ بینسی وینگا باخبر کرتی ہیں ’’ عوامی نقل و حمل کی ٹیکنالوجی کے شعبے میں نا قابلِ یقین پیش رفت ہوئی ہے۔ مگر جو چیز مجھے دلچسپ لگ رہی ہے وہ یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے ارتقاء کے دوران اصل میں یہ انسانی رویہ ہے جس نے سب سے بڑی تبدیلی اور چیلنجوں کو جنم دیا ہے۔ ‘‘

اور یہ ارتقا ء ہنوز جاری ہے۔ 

بینسی وینگا اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتی ہیں ’’ اب جب کہ نسلیں شہروں اور مزید شہری طرز زندگی کو دوبارہ اپنا رہی ہیں ، تو بہت سے لوگ عوامی نقل و حمل پر زور دے رہے ہیں اور اسے مختلف طریقوں سے استعمال کر رہے ہیں۔ہمیں اس بات کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ یہاں منصوبہ ساز اور نقل و حمل کے ماہرین اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اس انسانی رویے کا اثر عوامی نقل و حمل کے نظام پر کیا ہور ہا ہے۔ ‘‘

انسانوںاور شہری منصوبہ بندی کے مابین اور وسیع نیٹ ورک اور شہر کے مکینوں کے مابین یہ تعلق پوئٹری اِن موشن پروگراممیں شامل ہے جس میں دورانِ سفر مسافروں کے پڑھنے/تفکرکے لیے زیر زمیں کاروں میں نظموں کی نمائش کی گئی ہے ۔ 

بینسی وینگا بتاتی ہیں ’’ ۲۰۱۸ ء میں ہم نے پوئٹری اِن موشن کا ۲۵ سالہ جشن منایا تھا۔یہ پروگرام  ایم ٹی اے آرٹس اینڈ ڈیزائن اور  پوئٹری سوسائٹی آف امیریکا کے مابین ایک زبردست اشتراک عمل ہے جس کی وجہ ہی سے نیویارک کے زیر زمیں راستوں اور یہاں بس کی سواری کرنے والوں کے لیے یہ انتظام ہو سکا ہے کہ وہ نظموں سے لطف اندوز ہوں۔ ‘‘

ان نظموں کے منتخب حصوں کی نمائش کا بھی نظم کیا گیا ہے۔اس میں جن شعراء کی نظمیں شامل کی گئی ہیں ان میں  والٹ وِہٹ مین، جان اشبیری اور  مایا اینجیلو جیسی مشہور شخصیات شامل ہیں۔ بینسی وینگا کہتی ہیں ’’ میں  بلی کولِنس کی نظم  سب وے کے تئیں ذرا جانبدار ہوں۔ کیوں کہ یہ واقعی زیر زمیں راستے کے ماضی اور حال کو منسلک کرتی ہے اور اس کی وسعت کی دست رس میں خود نیو یارک شہر بھی ہے۔‘‘

 

ٹریور لارینس جوکِمس نیو یارک یونیورسٹی میں تحریر ، ادب اور معاصر ثقافت کی تدریس کرتے ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط