مرکز

امریکی آرٹ میوزیم کی سیر

اسمتھ سونین امیریکن آرٹ میوزیم کا دورہ کریں اورامریکہ کے صدیوں پرانے خواب، چیلنج اور تخلیقیت کے گواہ بنیں۔ 

امریکی ہونے کے معنی کیاہیں۔یہ وہ سوال ہے جس کا جواب واشنگٹن ڈی سی میں واقع ایک میوزیم لفظوں میں نہیں دیتا بلکہ رنگ و روغن، پنسل، تصویر، کولاژ(ایک قسم کا فن جس میں مختلف اشیاء کو ترتیب دے کر خوشنما طریقے سے سجایا جاتا ہے)، مجسمہ، ٹیکنالوجی اور دیگر اشیا ء کے ذریعے دیتا ہے۔

امریکی دارالحکومت کے قلب میں واقع  اسمتھ سو نین امیریکن آرٹ میوزیم (ایس اے اے ایم )میں امریکی فن پاروں کی بے مثال قسمیں موجود ہیں جو صدیوں کا احاطہ کرتی ہیں۔ یہاں نمائش میں جدیدعوامی فنون لطیفہ سے لے کر ٹیلی ویژن سٹوں سے تیا ر کمرے کے جسامت کی تنصیبات اور مخصوص افریقی ۔امریکی فنون لطیفہ،یہاں تک کہ ویڈیو گیم بھی رکھے گئے ہیں۔  

یہ عجائب گھر فن پاروں کے اپنے ان مجموعوں کو دنیا میں سب سے بڑے اور سب سے زیادہ مختلف اشیاء سے آراستہ مجموعوں میں سے ایک قرار دیتا ہے۔عجائب گھر تصویروں اور دیگر فن پاروں کے ایک وسیع سلسلے پر مشتمل ہے جو امریکہ کی ۱۶۰۰ عیسوی کے اواخر سے آج تک کے دور کی مالامال ثقافتی تاریخ کو پیش کرتا ہے۔یہ فن پارے دیکھنے میں یوں تو کافی خوبصورت ہیں مگر یہاں نمائش میں رکھی گئی ہرشئے کی اپنی منفرد اہمیت ہے ، ہاں بعض اوقات کسی فن پارے پر تنازعہ بھی ہوجاتا ہے۔ 

یہاں کا لوک اور خود آموز فن پاروں کا مجموعہ ان غیر تربیت یافتہ امریکی فنکاروں کے تخلیقی کاموں کو پیش کرتا ہے جنہوں نے ہاتھ سے سلے ہوئے خوبصورت توشک اور لحاف سے لے کر چونا پتھر اور لکڑیوں جیسے مادّوں کی چھوٹی اور بڑی اشیا ء کو بنانے جیسے خصوصی کام ہی کیے ہیں ۔ یہ تمام چیزیں تاریخی اعتبار سے ذاتی تحقیق، جدو جہد اورتبدیلی کے امریکی خیال و فکر کی عکاسی کرتی ہیں۔ 

  یہاں کی نمائش  الیکٹرانک سُپر ہائی وے بھی یکساں طور پر علامتی اہمیت کی حامل ہے۔ اس میں بر اعظم امریکہ، الاسکا ، ہوائی سب کچھ ہے .....یہ دراصل ایک بہت بڑی برقیاتی تنصیب ہے جو امریکہ کے نقشے کی طرح نظر آتی ہے۔ نیون لائٹ ، اسٹیل،لکڑی اور ۳۰۰سے بھی زیادہ ٹی وی سیٹ پر مشتمل اس تنصیب میں ایک ساتھ ویڈیو کے ۵۱ مختلف چینل بھی شائقین کو دستیاب ہوتے ہیں۔کوریا سے تعلق رکھنے والے تارک وطن فنکار  نام جون پائک نے امریکہ کے بین ریاستی شاہراہ نظام(جو امریکیوں کے درمیان پائے جانے والے وسیع تنوع کو اجاگر کرتا ہے)اور ڈیجیٹل میڈیا کی انقلاب انگیز طاقت سے تحریک پاکر اپنے نئے آبائی ملک کے معنی اور شناخت کی تلاش کی خاطر اسے بنایا۔

عجائب گھر میں مصوّری کے بڑے مجموعوں کی نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا ہے جو اپنی  شکل و صورت اور مادّوں کے اعتبار سے زیادہ روایتی ہوسکتے ہیں لیکن تخلیقی اعتبار سے اوّلین خیال کیے جاتے ہیں۔ان میں اَیڈورڈ ہوپر کی امریکی عمارتوں اور دیگر اداروں کی معروف پُر فکر مصوّری اور فن شناس اور عوامی فنون لطیفہ سے متاثر افریقی۔ امریکی مصوّر  ولیم ایچ جانسن کے فن پاروں کے علاوہ دیگر اشیا ء بھی شامل ہیں۔ 

عجائب گھر کی بہت ساری نمائشیں حال اور مستقبل کے متاثر کن تصورات پر توجہ دیتی ہیں۔یہاں ڈیوڈ لیونتھل کی تصویروں کی ایک نمائش میں نگارخانے کی دیواریں  باربی ڈَول، بیس بال کھلاڑیوں اور کاؤ بوائز جیسی امریکی ثقافت کی معروف نمائندہ تصویروں اور شبیہوں سے بھری پڑی ہیں۔ اپنی شوخ باہری سطح سے قطع نظر ویب سائٹ پر اس بات کا اندراج ہے کہ میوزیم کی نمائش سیاحوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ ان کہانیوں کے بارے میں غور کریں جو عجائب گھر اپنے بارے میں سناتا ہے.....یعنی یہ کہ توانا، خوبصورت، مردانہ ، نسوانی اور حتمی طور پر امریکی ہونے کا مطلب کیا ہوتا ہے۔

 عجائب گھر کی  رین وِک گیلری(میوزیم کی وہ شاخ جو وہائٹ ہاؤس کے سامنے سڑک کے پار واقع ہے)کو دیکھنے کے لیے آنے والے سیاح ایک ایسی نمائش کا بھی تجربہ کر سکتے ہیں جو روایتی دستکاری میں مکمل حقیقی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتی ہے ۔ اس میں قدرتی دنیا میں حیرت و استعجاب کا احساس کرانے کے لیے چکنی مٹی ، کانچ اور دھات سے تیار منفرد مجسمے اور دیگر اشیا ء شامل ہیں۔اسی گیلری میں جنوری ۲۰۱۹ء تک نیواڈا کے صحرا میں ہر سال منعقد ہونے والے غیر روایتی برننگ مین تہوار کے لیے تیار کی گئی تصویروں اور دیگر اشیا ء کی نمائش نواسپیکٹیٹرس: دی آرٹ آف برننگ مینکا اہتمام کیا گیا۔نمائش میں تمام گیلری میں اندرونی چھت سے نکلنے والے ذروں سے بنائے گئے مجسمے اور فیشن پر مبنی ایک قسم کی انوکھی پوشاک اور فیسٹیول کے لیے تیار زیورات کی نمائش کا اہتمام بھی کیا گیا ۔عجائب گھر اس نمائش کو ادارے کے لیے کافی اہمیت کا حامل خیال کرتا ہے۔ اسی لیے اس نمائش کا اہتمام فی الحال تمام امریکہ کے دیگر عجائب گھروں میں کیا جا رہا ہے۔  

 دلچسپ نمائشوں اور روایتی قصوں کے مجموعوں کے علاوہ میوزیم مختلف قسم کے پروگراموں کا بھی اہتمام کرتا ہے جو امریکی فنونِ لطیفہ کی وراثت کو توسیع بخشتے ہیں اور اس کی حمایت کرتے ہیں۔مثال کے طور پر میوزیم میں معروف امریکی فن کاروں اور میوزیم کے محافظوں کے خطاب کے پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ فلمی میلے اور فنون ِ لطیفہ سکھانے والے عملی ورکشاپ کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے۔عجائب گھر کے منصوبوں میں ان کی نمائشوں اور ان کے پروگراموں تک بینائی اور سماعت سے محروم سیاحوں کے لیے سہولت فراہم کرنا بھی شامل ہے۔  

میوزیم ہی میں لُنڈر کنزرویشن سینٹر بھی واقع ہے جو ۵ تجربہ گاہوں اور اسٹوڈیو کا ایک مجموعہ ہے۔ سیاحوں کو یہاں اسمتھ سونین امیریکن آرٹ میوزیم اور نیشنل پورٹریٹ گیلری کی بحالی اور اسے برقرار رکھنے سے متعلق تصاویر ، فریم اور دیگر اشیاء کے تحفظ سے متعلق ماہرانہ کاموں کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ میوزیم اس مرکز کو اپنی قسم کا ’’ چیزوں کو محفوظ رکھنے والا پہلا مستقل اور مکمل طور پر نظر آنے والی تجربہ گاہ ‘‘  قرار دیتا ہے۔یہیں  ریسرچ اینڈ اسکالر سینٹر بھی واقع ہے جو امریکی فنونِ لطیفہ کے مطالعے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ کالج کے طلبہ میوزیم میں انٹرن شپ کر سکتے ہیں جب کہ فنکار اور فنونِ لطیفہ کے تاریخ داں ایک رہائشی فیلو شپ پروگرام میں شرکت کر سکتے ہیں۔ انعامات کا دیا جانا،تحقیق سے متعلق محافظ خانے اور نئے وظائف کے لیے ہم رتبگان کی جانب سے تبصرہ شدہ جرائدعجائب گھر کی جانب سے کیے گئے دیگر اقدامات ہیں۔ 

خواہ آپ امریکی تاریخ سے متعلق فنون لطیفہ کا گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہتے ہوں یا مستقبل کا خواب دیکھنے میں ہماری حوصلہ افزائی کرنے والی تنصیبات دیکھنے کے خواہشمند ہوں یا بیش بہا کاموں کے تحفظ کے گواہ بننا چاہتے ہوں ، آپ اس خصوصی میوزیم کو دیکھنے کا موقع نہ گنوائیں۔ 

 

مائیکل گیلنٹ، گیلنٹ میوزک کے بانی او ر سی ای او ہیں ۔ وہ نیو یارک شہر میں رہتے ہیں۔  

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط