مرکز

عجائب گھروں کی تجدید

آل انڈیا میوزیم سمِٹ ۲۰۱۹نے ہند اور امریکی ماہرین کو میوزیم کی جدید کاری کے لیے نظریات اور بہترین طریقوں کا اشتراک کرنے سے متعلق ایک پلیٹ فارم مہیا کیا۔ 

نئی  دہلی میں منعقد  آل انڈیا میوزیم سمِٹ ۲۰۱۹ اصل میں عجائب گھر سے متعلق پیشہ ور افراد کا ایک اجتماع تھا جس میں تمام ملک سے عجائب گھر کے کیوریٹرس، منتظمین ، محافظین اور معلمین بھی شامل ہوئے۔ جولائی میں ۳ دن کے دوران انھوں نے عوامی زندگی میں عجائب گھروں کے کردار کو تقویت بخشنے کے طریقوں،ذخیروں اور وسائل کے نظم و نسق کے لیے ادارہ جاتی صلاحیتوں کی تعمیرسے متعلق ذرائع کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔ہند اور امریکی ماہرین کی قیادت میں منعقد اس سربراہی اجلاس نے عجائب گھر کی تجدید کاری کے لیے مہارت اور بہترین طریقۂ کار کا اشتراک کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کیا۔ سربراہی اجلاس کے انعقاد کے بعد منتظمین نے حکومت ہند کی وزارت ِ ثقافت کو ایک قرطاسِ ابیض پیش کیا جس کے تحت ایسی کاروائیوں کی سفارش کی گئی جو مستقبل میں ملک کے سرکردہ عجائب گھروں کی شکل سازی میں مددگار ہوگا۔ 

امیریکن انسٹی ٹیوٹ آف انڈین اسٹڈیز کے زیر اہتمام نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے کے مالی تعاون سے منعقدہ اس سربراہی اجلاس میں ہند کے نئے عجائب گھروں کے لیے چیلنجوں اور حکمت عملیوں ، ناظرین تک رسائی اور احتیاطی دیکھ بھال اور تحفظ جیسے موضوعات پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس سربراہی اجلاس کا خیال  سوزن بین کی اختراع تھا جو امیریکن انسٹی ٹیوٹ آف انڈین اسٹڈیز کے آرٹ اینڈآرکیالوجی سینٹرکی صدر ہیں۔اس کا صدر دفتر شکاگو یونیورسٹی میں ہے اور اس کے دفاتر نئی دہلی اور گروگرام میں ہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی میں  پی باڈی میوزیم آف آرکیالوجی اینڈ ایتھنولوجی کی ایسوسی ایٹ بین ایک آزاد اسکالر اور کیوریٹر بھی ہیں جو جدید جنوبی ایشیاکے بصری فنون میں مہارت رکھتی ہیں۔پیش ہیں سربراہی اجلاس اور ہندوستانی عجائب گھروں کے بارے میں ان کے ساتھ ہوئی بات چیت کے اقتباسات۔

 

آل انڈیا میوزیم سمٹ کا منصوبہ کیسے تیار ہوا؟

ہم نے عجائب گھروں میں کام کا تجربہ رکھنے والے بہت سارے ساتھیوں کے ساتھ بات چیت کرکے اس کی شروعات کی۔ ان افراد میں زیادہ تر کا تعلق انڈیا سے جب کہ بعض کا تعلق امریکہ سے ہے جنہیں عجائب گھروں کا تجربہ بھی ہے۔ اس بات چیت کی بنیاد پر ہم نے ایک منصوبہ بندی کمیٹی تشکیل دی جو ہند کے عجائب گھروں کے تنوع (بڑے اور چھوٹے ، شمال و جنوب میں واقع ، فن اور ثقافت وغیرہ)کی نمائندگی کرتی ہے۔ کمیٹی کے اراکین میں نئی دہلی کی جواہرلال نہرو یونیورسٹی میں ہندوستانی فن اور فنِ تعمیر کے پروفیسر نَمَن آہوجہ ،شکاگو کے آرٹ انسٹی ٹیوٹ میں ہند ، جنوب مشرقی ایشیا ، ہمالیائی اور اسلامی فن کی  اَیلسڈورف ایسوسی ایٹ کیوریٹر مدھوونتی گھوش، نئی دہلی میں واقع  ایکا کلچرل رسورسیز اینڈ ریسرچ کےمینیجنگ ڈائریکٹر پرمود کمار کے جی،ممبئی کے چھتر پتی شوا جی مہاراج واستو سنگھرالے کے ڈائریکٹر جنرل سبیا ساچی مکھرجی ، نئی دہلی کے  نیشنل میوزیم انسٹی ٹیوٹ کے تعلیمی امور کے ڈین مانوی سیٹھ حکومت کیرل کے سیاحت کے پرنسپل سکریٹری اور نئی دہلی کے نیشنل میوزیم کے سابق ڈائریکٹر جنرل وینو واسودیون شامل تھے۔منصوبہ بندی کے ایام کے دوران ان افراد کی اسکائپ، فیس ٹائم اور واٹس اَیپ پر کئی میٹنگ ہوئی جن میں موضوعات اور ممکنہ پیش کشوں پر گفتگو کی گئی۔ 

 

سہ روزہ سربراہی اجلاس میں کن معاملات پر توجہ مرکوزرہی؟

اس کا مقصد پیشہ ور افراد کی ایک ایسی تنقیدی جماعت کو ایک ساتھ لانا تھا جس کے اراکین کو عجائب گھروں کو چلانے اور ان میں کام کرنے کا تجربہ تھا۔ ان افراد نے عجائب گھروں کی صورت حال اور مستقبل سے متعلق امنگوں کے بارے میں بات کی تاکہ میوزیم کے کاموں کے ایک وسیع دائرے کا احاطہ کرسکیں اور اس امر پر غور کرسکیں کہ کارکردگی کے لحاظ سے اسے کیسے وسعت دی جائے۔اس سربراہی کانفرنس کا عنوان ’’ نئے ہزارے میں ہند کے عجائب گھر ‘‘  تھا ۔ہند اور اس کے عجائب گھر رواں دواں ہیں ۔ لہٰذا یہ ملک کے شہریوں کی زندگیوں میںمیوزیم کے مستقبل کے کردار کے لیے خواہشات ، امیدوں اور خوابوں کا اندازہ لگانے اور ان کے بیان کرنے کا ایک اچھا لمحہ ہے۔ 

بہت سارے لوگ، جس میں مَیں بھی شامل ہوں، عجائب گھروں کو عوامی مقامات کے طور پر قابل قدر سمجھتے ہیں۔عجائب گھر عام طور پر ہماری روز مرہ کی زندگی سے پوشیدہ چیزوں کو دیکھنے اور اس کے بارے میں سوچنے کے مواقع پیش کرتے ہیں کہ اصل وقت اور مقام سے ان کی مراد کیا ہے ، وہ کسی عجائب گھر میں نمائش کے لیے کیسے آئے اور یہاں، اب اور مستقبل میں ان کی اہمیت کیا ہے۔ 

سر براہی اجلاس کے ہر دن کے لیے ایک الگ موضوع رکھا گیا تھا ۔ اس کی شروعات ’’ ۲۱ ویں صدی کے عجائب گھروں کی تعمیر نو‘‘سے ہوئی۔ ہر دن کا آغاز عجائب گھروں کے قیام میں سرگرم عمل بہت سے لوگوں کی جانب سے  پریزینٹیشن کے ساتھ ہوتا۔یہ اس بات کو جاننے کا بہت عمدہ طریقہ تھا کہ عجائب گھر دراصل کس کو کہتے ہیں ، یہ عوام کے سامنے کیا پیش کرتے ہیں ، ان سے کیا حاصل ہونے کی امید ہے، ان کے قیام میں کن رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان پر قابو پانے کا طریقہ کیا ہے۔ دوپہر بعد اس بات پر توجہ کی جاتی کہ عجائب گھروں کی مالی اعانت کے لیے کیا چیزیں درکار ہیں۔ عجائب گھروں کے قیام میں سرکاری اور نجی سرمایہ، انسان دوست دلچسپی اور شراکت ، عالمی روابط اور ایک تربیت یافتہ پیشہ ور عملہ کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ 

اگلے دو روز میں ہم نے اس پر تبادلۂ خیال کیا کہ نمائشوں کو تصوراتی اور حقیقی شکل کیسے دی جائے، فن اور ثقافتی تاریخ کے حامل عجائب گھروں کے شاہکار فن پاروں کی طرف لوگوں کو کیسے راغب کیا جائے، انہیں کیسے ایک دوسرے کے ساتھ دیکھنے ، سوچنے اور بات چیت کے لیے تیار کیا جائے۔ ہم نے مختلف حلقوں جیسے بوڑھے اور نوجوان، تعلیم یافتہ اور نئے سیکھنے والوں، اساتذہ اور دکانداروں وغیرہ سے رابطہ قائم کرنے کے طریقوں پر بھی دھیان دیا۔تیسرے اور آخری دن ہم نے فن اور بصری ثقافت کے ذخیروں کو برقرار رکھنے کی ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز کی۔ اس میں اشیاء کی جسمانی دیکھ بھال اورجس دنیا اور حالات کی نمائندگی وہ کرتے ہیں اس کا ان لوگوں تک ترسیل کے لیے استعمال کرنا جو انہیں دیکھتے ہیں۔ ہم نے میوزیم کے ذخیروں پر نظر رکھنے اور انہیں عوام کے ساتھ مشترک کرنے کے لیے برقی ذرائع تیار کرنے پر بھی توجہ دی جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو صرف آن لائن میوزیم ہی دیکھ سکتے ہیں۔ 

 

اس سربراہی اجلاس کے کچھ اہم نتائج کیا تھے؟

مجھے امید ہے کہ یہ سربراہی اجلاس، میوزیم پیشہ ور افراد کے مابین ملک بھر میں زیادہ مضبوط مکالمے کا آغازثابت ہوگا۔اسے شریک عجائب گھروں کے وسائل کے استعمال کے طریقے تلاش کرنے کی غرض سے مجوزہ عوامی فورم کی تشکیل میں استعمال کیا جائے گاتاکہ عوام اسے انڈیا کی فنکارانہ عظمت اور ثقافتی حصولیابیوں کی تفہیم کے لیے اور نتیجے کے طور پر اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے کر سکیں۔ 

 

کیا آپ ہمیں ان ہندوستانی عجائب گھروں میں سے کچھ کے بارے میں بتاسکتی ہیں جہاں جا کر آپ لطف اندوز ہوئی ہوں؟

مجھے بچپن سے ہی عجائب گھر جانا پسند ہے۔ مجھے ایسے میوزیم پسند ہیں جہاں شائقین ایک دوسرے سے باتیں کریں، اشیاء کی نشاندہی کریںاور معلومات طلب کریں ۔مجھے ایسے عجائب گھر اچھے لگتے ہیں جہاں سرگرمی اور مصروفیت ہو۔ جنوری میں ایک عجائب گھر کا دورہ کرتے ہوئے میں نے ایک بہت ہی روایتی طور پر ملبوس بوڑھے شخص کو اپنے چھوٹے سے پوتے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے شیشے کے اندر سجے فن پاروں کو دیکھتے ہوئے دیکھا۔ میں یہ تو نہیں سن سکی کہ وہ کیا باتیں کر رہے تھے مگر ان کے جسمانی حرکات و سکنات سے یہ پتہ چلتا تھا کہ جو چیزیں وہاں موجود تھیں ان میں ان کی دلچسپی تھی۔ 

حال ہی میں مَیں نے خاص طور پر اختتام ہفتہ چنئی کے دکشن چترا  اور جے پور کے  سٹی پلیس میوزیم میں اپنے دوروں کا لطف اٹھایا۔ وہاں میں نے ان ذخیروں اور نمائشوں میں دلچسپی لینے اور ان کا اشتراک کرنے والے بے شمار کنبوں کو دیکھا۔ مجھے ممبئی کے چھترپتی شیواجی مہاراج واستو سنگرہالیہ اور ڈاکٹر بھاؤ ڈاجی لاڈ میوزیم جانا پسند ہے جہاں دیکھنے کے لیے ہمیشہ کچھ نیا اور دلچسپ ہوتا ہے۔ دونوں عجائب گھر اپنے مستقل ذخیروں کی نمائش پرہی اکتفا کر سکتے تھے لیکن اس کے بجائے انہوں نے اپنی پیش کش کو رواں اور بر وقت رکھنے کے طریقے تلاش کر لیے۔ میں نئی دہلی کے سنسکرتی میوزیم جیسے خصوصی مجموعوں والے چھوٹے میوزیم سے بھی لطف اندوزہوتی ہوں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط