مرکز

زبانوں کا سیکھنا

امریکی طلبہ  مقامی زبانوں کے ذریعہ ہندوستانی ثقافت کا تجربہ کرنے میں مصروف ہیں۔

امریکہ کے کالجوں میں پڑھنے والے جو طلبہ ہندوستانی ثقافت اور یہاں بولی جانے والی زبانوں کی معلومات کے لیے گہری اور محنت طلب تحقیق کے خواہش مند ہیں ان کے لیے  کریٹیکل لینگویج اسکالرشپ (سی ایل سی ) ایک بڑا موقع فراہم کرتی ہے۔یہ پروگرام خواہش مند طلبہ کو اس بات کا موقع دیتا ہے کہ وہ زبان کی بھر پور تربیت اور خصوصی طور پر تیار شدہ ثقافتی افزودگی کا تجربہ کرنے کے لیے اس میں اندراج کرائیں ۔

امریکی محکمۂ خارجہ اس پروگرام کی کفالت کرتا ہے جب کہ اس کا انتظام و انصرام امریکی کونسل برائے بین الاقوامی تعلیم سنبھالتی ہے۔یہ پروگرام طلبہ کو روز افزوں مسابقت کے لیے اور عالم گیر افرادی قوت کا حصہ بننے کے لیے تیار کرنے میں اہم کردار نبھاتا ہے۔اس پروگرام میں ان زبانوں پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے جو امریکہ کی قومی سلامتی اور اقتصادی خوشحالی کے لحاظ سے قطعی اہمیت کی حامل ہیں۔ان میں وہ زبانیں بھی شامل ہیں جن کی نمائندگی تعلیمی اداروں میں کم ہے جیسے کہ آذر بائیجانی ، انڈونیشیائی اور کوریائی زبانیں اور وہ زبانیں بھی شامل ہیں جن کی نمائندگی امریکی یونیورسٹیوں میں بہتر طور پر ہے جیسے کہ سواحلی ، عربی ، فارسی ، روسی ، جاپانی اور چینی ۔ مگر یہ زبانیں اتنے بڑے پیمانے پر پڑھائی نہیں جاتیں کہ ان کی تدریس کو مثالی قرار دیا جائے۔ انڈیا کی بات کریں تو سی ایل ایس پروگرام چار زبانوں .....بنگلہ، ہندی، پنجابی اور اردو کا احاطہ کرتا ہے۔  

یہ پروگرام اپنے بیرونی اداروں میں شرکت کے خرچ کا بیشتر حصہ خود برداشت کرتا ہے۔ اس کا وظیفہ کافی مسابقتی نوعیت کا ہوتا ہے۔ درخواست دینے والے طلبہ کو ممتحن کو قائل کرنے کے لیے وہ اسباب بتانے کی ضرورت پڑتی ہے کہ ان میں سے کسی مخصوص زبان کے پڑھنے اور ان زبانوں والے خطوں میں سے کسی ایک میں رہنے سے ان کی دلچسپی اور تعلیمی شعبہ کیسے پُر امارت ہوگا۔ اس پروگرام کے سابق درخواست دہندگان میں عام طور پر اقتصادیات ، بشریات ، آرٹ کی تاریخ اورانگریزی ادب کے شعبوں میں کام کرنے والے طلبہ شامل رہے ہیں۔

 

ہندی کی تعلیم

ہندی انڈیا اور دنیا میں بہت زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں سے ایک ہے۔تجارت ، ٹیکنالوجی ، تفریح اور مزید شعبوں میں اپنی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی اہمیت کے سبب یہ ایک اہم زبان بن کر ابھری ہے۔ تاہم امریکی یونیورسیٹیوں میں اس کی نمائندگی اب بھی کم ہے۔ 

اس زبان کے لیے سی ایل ایس پروگرام کا مرکز صوبہ راجستھان کی راجدھانی جے پور ہے۔ یہاں ہر برس موسم ِ گرما میں اس کی تدریس ہوتی ہے۔ فنونِ لطیفہ کی تاریخ میں برکلے میں واقع یونیورسٹی آف کیلی فورنیا سے گریجویٹ کرنے والی اور اس پروگرام سے ہندی زبان کے توسط سے استفادہ کرنے والی  ایریانا پیمبرٹن نے بتایا ’’ ہندی وہ پہلی غیر ملکی زبان ہے جسے میں نے سیکھا ۔ سی ایل ایس پروگرام سے واپسی کے بعد میں نے اسے اپنی روز مرہ کی زندگی میں کار آمد پایا ۔ میں ہر روز کام پر اپنے ساتھی کارکنوں اور گاہکوں ساتھ ہندی میں بات کرتی ہوں ۔ اس زبان کی بدولت میں اپنے دلچسپی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کی بھی اہل ہوئی ہوں۔ ‘‘

اس پروگرام کے تحت ایسی کامیابی عام ہے اور یہ اس امر کی عکاس ہے کہ یہ پروگرام حصول زبان کے عملی اور عالمانہ اطلاقات کی خلیج پاٹنے کا اہل ہے۔ پیمبرٹن نے مزید بتایا’’ انڈیا میں دوران تعلیم اکثر میرا سابقہ بہت سے ایسے مقامی لوگوں سے پڑتا تھا جو امریکہ اور امریکیوں کے بارے میں بہت سے سوال کرتے تھے ۔ اس سے مجھے امریکہ میں ہندوستان اور ہندوستانیوں کے بارے میں مفروضوں پر غور کرنے کی تحریک ملی۔ اب میں امریکہ میں اپنے آس پاس کے طبقات سے رجوع کر رہی

ہوں اور انڈیا کے بارے میں بہت سی غلط فہمیوں اور تصورات کو ختم کرنے کی مقدور بھر کوشش کر رہی ہوں۔ ‘‘ 

 

اردو کی تعلیم

پاک و ہند میں ہندی اور اردو بولنے والوں کی مجموعی تعداد ایک ارب ہے۔مرکزی اور شمالی ہند سمیت ملک کے مختلف حصوں میں اور پاکستان میں بولی جانے والی اس زبان کے بین الاقوامی اثرات کی وجہ سے عالمی طور پر اس کے وقار میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ علاوہ ازیں اس کی پُر امارت ادبی تاریخ اور مذہب و فنون سے اس کی وابستگی نے غیر ملکی زبانیں بولنے والوں کو ہمیشہ اس زبان کی جانب متوجہ کیا ہے۔ 

سی ایل ایس کے اردو پروگرام میں نام لکھوانے والے طلبہ کو موسم گرما میں دو ماہ کے لیے لکھنؤ کا سفر کرنا پڑتا ہے۔  جیسیکا گیروس ایسی ہی ایک طالبہ ہیں جو  یونیورسٹی آف ارکنساس سے فارغ ہیں ۔گیروس نے بین الاقوامی تجارتی اقتصادیات میں بیچلرس ڈگری حاصل کرنے کے علاوہ عربی زبان بھی پڑھی ہے ۔انہوں نے بتایا ’’ میرا یقین ہے کہ زبان دوسری ثقافت سے واقفیت کا انتہائی بے تکلف راستہ ہے۔اردو پڑھنے سے مجھے لفظیات اور قواعد کے علاوہ بھی بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ اس نے نہ صرف مجھے نیا دنیاوی تناظر دیا بلکہ ہندوستانی ثقافت کی نئی تفہیم عطا کی۔ ‘‘

گیروس نے مزید بتایا کہ میری میزبان ماں اور میں ، ہم دونوں ہند ۔ امریکی ثقافت کے امتیازات اور مماثلتوں کے بارے میں اکثر باتیں کیا کرتے تھے۔ ہم نے ایک ساتھ وقت گزار کر اور سوالات پوچھ کر بہت کچھ سیکھا۔ 

 

بنگلہ کی تعلیم

  بنگلہ زبان خاص کر بنگلہ دیش اور مغربی بنگال سمیت ہر اس جگہ بولی جاتی ہے جہاں بنگالی بولنے والے رہتے ہیں۔اس کی ادبی روایات بہت زرخیز ہیں۔ اس زبان کو پڑھنے کی خواہش رکھنے والے طلبہ کو ہر برس موسم گرم میں دو مہینے کولکاتہ میں گزارنے پڑتے ہیں۔

یونیورسٹی آف میری لینڈ سے عوامی پالیسی میں ماسٹرس ڈگری یافتہ اور بنگلہ سی ایل ایس پروگرام کی سابق طالبہکیری برگوٹ نے بتایا ’’ بنگلہ امریکہ میں حتیٰ کہ واشنگٹن ڈی سی جیسے عالمی شہر میں بھی عام طور پر پڑھائی جانے والی زبان نہیں ہے۔ سی ایل ایس پروگرام نے مجھے استغراق والے ماحول میں اس زبان کو سیکھنے کا موقع دیا۔اس کے علاوہ مغربی بنگال میں اس زبان کو سیکھنے کی وجہ سے جو ثقافتی ربط ضبط پیدا ہوا وہ سچ مچ گراں قدر تھا۔‘‘  

انہوں نے یہ بھی بتایا  ’’کولکاتہ میں اس زبان کو سیکھنے کی ایک بہترین بات یہ تھی کہ لوگ بڑے پُر جوش تھے کہ ایک غیر ملکی بنگلہ زبان سیکھ رہی ہے۔‘‘

 

پنجابی کی تعلیم 

پنجابی زبان انڈیا اور پاکستان کے صوبہ پنجاب کے علاوہ سکھ فرقے سے تعلق رکھنے والوں میں بکثرت بولی جاتی ہے۔حکومت ، غیر منافع خیز اداروں ، تعلیم ، سائنس اور ٹیکنالوجی کے زمرات میں اپنے نمایاں مقام کی وجہ سے بھی یہ ایک اہم زبان بنتی جا رہی ہے۔  

پنجابی کا مرکز چنڈی گڑھ ہے جہاں اسے وسط جون سے لے کر وسط اگست تک پڑھایا جاتا ہے۔سان فرانسسکو یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں فارغ اور چنڈی گڑھ میں سی ایل ایس پروگرام کے سابق طالب علم  اَیڈم متویانے اپنے دوروں کو درخشاں لفظوں میں یوں بیان کیا ’’ مجھے اپنے پروگرام کے دوران ایک گراں قدر تجربہ یہ ہوا کہ میں چنڈی گڑھ کے مضافات کے ایک گاؤں میں گیا۔اس کا نام مانک پور شریف ہے۔ یہ جگہ حقیقت میں پنجاب شہر کا ہیرا ہے۔ یہاں مجھے ریاستی اور قومی زرعی پالیسیوں کے بارے میں قیمتی معلومات حاصل ہوئیں ۔ اور مجھے یہ معلوم ہوا کہ ان کا مقامی کاشت کار برادری پر کیا اثر پڑا ہے۔ مجھے ایک تاریخی صوفی درگاہ کی دیکھ ریکھ میںایک سکھ خاندان کے کردار کا بھی علم ہوا۔ چوں کہ پنجاب میں تقسیم ِ ہند کا ترکہ پُر تشدد ہے ، اس لیے بین مذہبی ہم آہنگی اور زائرین کے لیے وہاں کے باشندوں کے دلوں میں گنجائش دیکھ کر میں متاثر ہوا۔‘‘

یہ واضح رہے کہ سی ایل ایس پروگرام ثقافتی اور لسانی دوریاں پاٹنے کے لیے پُل بنانے میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے جو روابط پیدا ہو رہے ہیں وہ اس پروگرام کے اہم اثرات کی بدولت فروغ پاتے رہیں گے۔ 

 

نتاشا ملاس نیویارک سٹی میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط