مرکز

ایک بین ثقافتی تجربہ

آئی آئی ٹی کھڑگپور میں اسٹوری اسکالر کے عہدے پر فائز شرے یا داس نے فل برائٹ فیلوشپ حاصل کر کے بلومِنگٹن میں واقع انڈیانا یونیورسٹی کے طلبہ کو بنگلہ زبان کی تعلیم دی۔

شرے یا داس نے بلو مِنگٹن میں واقع انڈیانا یونیورسٹی میں بنگالی زبان اور ثقافت میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ کو مذکورہ زبان اور ثقافت دونوں کی تعلیم دی۔ انہوں نے ۱۸۔۲۰۱۷ء میں اس وقت  فل برائٹ فورین لینگویج ٹیچنگ اسسٹنٹ پروگرام میں شرکت کی تھی جب وہ آئی آئی ٹی کھڑگپور میں ایک اسٹوری اسکالر کے طور پر کام کر رہی تھیں۔ فی الحال وہ ایک مارکیٹ انالسِس فرم میں بحیثیت سب ایڈیٹر کام کر رہی ہیں مگر ان کا ارادہ ہے کہ وہ بہت جلد درس و تدریس کی جانب رجوع کریں ۔ 

وہ بتاتی ہیں ’’ مجھ سے امید تھی کہ میں انڈیانا یونیورسٹی میں سہ رخی کردار ادا کروں ۔ میں یونیورسٹی کے دھار پروگرام برائے مطالعاتِ ہند سے منسلک  پرائمری انسٹرکٹرتھی جہاں میری بنیادی ذمہ داری یہ تھی کہ میں بنگلہ زبان و ثقافت کی تعلیم دوں ۔ مجھے یہ بھی سہولت حاصل تھی کہ ایکسچینج گریجویٹ طالبہ ہونے کے ناطے میں ساتھ ساتھ کورس کر سکتی تھی۔‘‘

لہٰذا انہوں نے اپنی دلچسپی کے مطابق امریکی جدیدیت اور درازیِ عمر ، خواتین اور جنگ ، تحریک ِ نسواں اور انڈیا لَوسٹ اینڈ فاؤنڈ اِن ڈائسپورک فیمنِسٹ فلمس جیسے کورسیز کو چنا۔

وہ مزید بتاتی ہیں ’’ہندوستانی ثقافتی سفیر ہونے کی حیثیت سے مجھے ترغیب ملی کہ میں کثیر تعداد میں ثقافتی تقریبات کا انعقاد اور میزبانی کروں ۔ ساتھ ساتھ بین الاقوامی تقریبات میں ہندوستانی (بنگلہ) ثقافت اور وراثت کی نمائندگی موسیقی ، قرات اور مہندی ڈیزائن وغیرہ کے حوالے سے کروں ۔ ‘‘

استاد کی حیثیت سے داس تسلیم کرتی ہیں کہ شہریت یا نظامِ تعلیم سے قطع نظر زبان کے سیکھنے والوں کی فطرت یکساں ہوتی ہے۔وہ کہتی ہیں ’’طلبہ ایسے کلاس روم میں جانا پسند کرتے ہیں جہاں توجہ سکھانے پر دی جاتی ہو۔‘‘

ان کے خیال میں امریکی درس و تدریس کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ انڈر گریجویٹ طلبہ کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنے انتخاب کے ساتھ تجربہ کر سکتے ہیں کیوں کہ نظام کا لچیلا پن ان کو اس بات کی اجازت دیتا ہے۔ وہ کہتی ہیں ’’ میرے ایک شاگرد نے چینی ، جاپانی اور بنگلہ(بنیادی ) تینوں زبانیں ایک ساتھ ایک ہی سمسٹر میں پڑھیں اور ان سب میں ان کی کارکردگی اچھی رہی۔ ایک دوسرے شاگرد نے بنگلہ، موسیقی اور علم نباتات ایک ساتھ پڑھی اور اس تنوع سے کافی محظوظ ہوا۔‘‘

داس اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتی ہیں ’’ایک مدرس ہونے کی حیثیت سے مجھے ہمیشہ سے روایتی کلاس روم کی عمومیت کو توڑنا پسند ہے۔اور امریکہ کے تدریسی ماحول نے میرے خیالات کی تائید کی۔ وہاں کے اکثر اساتذہ تدریس کے لیے مثالی نمونہ ثابت ہو سکتے ہیں کیوں کہ وہ زیادہ زور علمیت پر دیتے ہیں ، نہ کہ گریڈ پر۔ ‘‘ 

داس کو اپنے کلاس روم میں مختلف ملکوں اور نسلوں کے طلبہ کے تنوع نے بھی خوب لطف اندوز کیا۔ تنوع نے کلاس روم میں انواع و اقسام کی آوازوں کو یکجا کر دیا جس نے متن کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کی صلاحیت بخشی۔ ‘‘

داس محسوس کرتی ہیں کہ فل برائٹ تجربے نے انہیں بین مضامینی مطالعات کی تفہیم میں کافی مدد کی۔ وہ کہتی ہیں ’’اس نے میرے تدریسی دائرہ نظر کو وسیع کیا اور مجھے ترغیب دی کہ میں انگریزی ادب کے بنیادی اصولوں سے بعید بھی امکانات تلاش کروں۔ مزید برآں، میرے لکھنے کی صلاحیت میں بھی مزید پختگی آئی۔‘‘

داس بتاتی ہیں کہ ذاتی طور پر فل برائٹ فیلو شپ نے ان کے اندر سیر و تفریح کی خواہش پیدا کردی ۔ اور اس نے ان کو یہ موقع بھی دیا کہ وہ پہلی بار بیرون ملک جائیں۔ وہ بتاتی ہیں ’’ میں نے ۱۰ ماہ میں تقریباََ اکیلے ہی امریکہ کے ۱۵ صوبوں کا دورہ کیا۔ صوبوں میں پائی جانے والی گوناگونیت بہت شاندار چیز ہے اور یہ وہ چیز ہے جو دریافت کیے جانے کے لائق ہے۔ ‘‘

وہ کہتی ہیں کہ ثقافتی جھٹکوں سے لے کر مختلف ثقافتوں کو گلے لگانے تک امریکہ نے انہیں دنیا کے مختلف کونوں سے ثقافتوں کا تحفہ دیا ہے۔ 

رنجیتا بسواس کولکاتہ میں مقیم ایک صحافی ہیں ۔وہ افسانوں کا ترجمہ کرنے کے علاوہ مختصر کہانیاں بھی لکھتی ہیں۔  

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط