مرکز
1 2 3

امریکی صدر کا انتخاب

امریکی رائے دہندگان اپنے صدر کا انتخاب راست طور پر خود نہیں کرتے بلکہ وہ صدر کے انتخاب کرنے والوں کو چنتے ہیں جو الیکٹورل کالج میں ووٹ ڈالتے وقت ان کی نمائندگی کرتے ہیں۔

امریکی شہری جب ہر چار برس بعد اپنے اگلے صدر کو چننے کے لیے ووٹ ڈالتے ہیں تو وہ براہ راست اپنے پسندیدہ امیدوار کے لیے ووٹ نہیں کرتے۔اصل میں وہ اپنی ریاستوں کے انتخابی حلقے کے اراکین کو چننے کے لیے ووٹ ڈالتے ہیں جو الیکٹورل کالج  کے ذریعہ صدر کے لیے چنے جانے والے امیدوار کا فیصلہ کرتے ہیں۔

انتخاب کے اس عمل کو امریکہ کے بانیان کے دستخط کے بعد ۱۷۸۷ ء میں امریکی آئین میں شامل کیا گیا۔ اس عمل کے ذریعے یہ خاکہ پیش کیا گیا کہ امریکہ میں حکومت سازی کس طرح ہوگی اور حکومتیں کس طرح کام کریں گی۔ الیکٹورل کالج عمل اصل میں صدر کو عوامی رائے دہی کے ذریعے براہ راست چننے یا امریکی کانگریس(حکومت کی قانون ساز شاخ جو ایوان نمائندگان اور ایوانِ بالا پر مشتمل ہے)کے ذریعہ سیدھے چنے جانے کے درمیان ایک سمجھوتے کی شکل میں سامنے آیا۔

الیکٹورل کالج عمل کے تین مراحل ہیں۔ ان میں انتخابی حلقے کے اراکین کا انتخاب ، صدر اور نائب صدر چننے کے لیے انتخابی حلقے کے اراکین کی میٹنگ اور ووٹوں کی گنتی شامل ہیں۔

 

انتخابی حلقے کے اراکین کا انتخاب

الیکٹورل کالج کے اراکین کی تعداد ۵۳۸ ہے۔ ہر ریاست کے علاوہ  ڈسٹرکٹ آف کولمبیا  میں امریکی کانگریس میںایوان بالا کے اراکین او ر ایوان نمائندگان کے اراکین کی تعداد کے برابر ووٹ ہوتے ہیں۔ امریکی ایوان بالا (سینیٹ)میں اپنے نمائندوں کے لیے ہر ریاست کو دو ووٹ ملتے ہیں۔اس کے علاوہ کسی ریاست کوامریکی ایوانِ نمائندگان(ایوانِ زیریں)میں اس کے اراکین کی تعداد کے برابر ووٹ ملتے ہیں۔مثال کے طور پر ریاست کیلیفورنیا کے ایوان ِ نمائندگان میں۵۳ اراکین ہیں اور سینیٹ میں دو رکن ہیں ۔ لہٰذا اس کے اراکین کی تعداد ۵۵ ہوئی۔ واشنگٹن ڈی سی کو تین الیکٹرس دیے گئے ہیں حالاں کہ امریکی کانگریس میں اس کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔

انتخابی عمل شروع کرنے کے لیے ہر ریاست میں موجود سیاسی جماعتیں پہلے الیکٹورل کالج کے لیے ممکنہ اراکین کے ایک گروپ کو نامزد کرتی ہیں۔ہر ریاست میں یہ عمل الگ الگ طرح سے انجام پاتا ہے۔ بعض اوقات یہ عمل پارٹی کے ریاستی کنوینشن میں انجام پاتا ہے یا پھر اس کی تکمیل مرکزی کمیٹی کے ایک ووٹ کے ذریعہ ہوتی ہے۔ ممکنہ اراکین ریاست میں منتخب ہوئے عہدیدار ہو سکتے ہیں، پارٹی رہنما ہو سکتے ہیں یا وہ افراد ہو سکتے ہیں جن کے پارٹی کے صدارتی امیدوار سے ذاتی تعلقات ہیں یا پھر وہ ہوتے ہیں جنہیں پارٹی ان کی خدمات کے اعتراف میں شناخت فراہم کرنا چاہتی ہے۔ اس عمل کے ذریعہ صدارتی امیدواراپنے اراکین کی نامزدگی حاصل کرتے ہیں۔

صدارتی انتخابات کے عمل کی اگلی کڑی کے طور پر انتخابات کے دن عام رائے دہندگان صرف اپنے چنے ہوئے صدارتی امیدواروںکے مد نظر اپنی ریاستوں کے انتخابی حلقے کے اراکین کو چنتے ہیں۔ اس طور پر جیتنے والے امیدواروں کے لیے نامزد اراکین ریاستوں کے مقرر کردہ انتخابی حلقے کے اراکین بن جاتے ہیں۔ریاست نیبراسکا  اور  مین اس سے مستثنیٰ ہیں کیوں کہ ریاست میں جیتنے والوں کو دواراکین ملتے ہیں جب کہ ہر ایک حلقے سے جیتنے والے صدارتی امیدوار کو ایک رکن ملتا ہے۔ عام انتخابات کے بعد ہر ریاست کا گورنر ایک  سرٹیفکٹ آف اَیسرٹینمینٹ تیار کرتا ہے جس میں رائے دہندگان کے ذریعے چنے گئے اراکین کے نام اور حاصل ووٹوں کی تعداد ہوتی ہے۔اس کے علاوہ اس فہرست میں دیگر تمام امیدواروں کے نام اور ان کے ذریعہ حاصل ووٹوں کی تعداد بھی شامل کی جاتی ہے۔

 

انتخاب کے لیے میٹنگ

امریکہ میں صدارتی انتخابات ہر چا ر برس میں نومبر کے مہینے میں پہلے پیر کے بعدوالے منگل کو منعقد ہوتے ہیں۔مگر حقیقت میں اس کا فیصلہ دسمبر میں پڑنے والے دوسرے بدھ کے بعد آنے والے پہلے سوموار کو اس وقت کیا جاتا ہے جب انتخابی حلقے کے اراکین اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے اپنی ریاستوں میںاکٹھا ہوتے ہیں۔صدر اور نائب صدر گرچہ مشترکہ ٹکٹ پر چناؤ لڑتے ہیں مگر یہ اراکین دونوں امیدواروں کے لیے الگ الگ  بیلٹ پیپر پر ووٹ ڈالتے ہیں۔انتخابی حلقوں کے یہ اراکین  سرٹیفکٹ آف ووٹ پر اپنا ووٹ ڈالتے ہیں جسے ہر ریاست امریکی کانگریس اور نیشنل آرکائیوس اینڈ ریکارڈس ایڈ منسٹریشنکو روانہ کر دیتی ہے جسے انتخابات کے سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔

امریکہ کا آئین او ر وفاقی قانون انتخابی حلقوں کے اراکین سے کسی امیدوار کے لیے ڈالے گئے ووٹوں کی مجموعی تعداد یا ووٹ فی صد کے نتائج کے مطابق ووٹ کرنے کے بارے میں نہیں کہتا ہے تاہم بعض ریاستی قوا نین اس کا مطالبہ کرتے ہیں۔ دوسرے معاملات میں سیاسی جماعتیں اپنے نامزد امیدواروں کے لیے ووٹ کرنے کے عزم کا مطالبہ کرتی ہیں ۔اس قسم کے

 نا قابل ِ اعتبار اراکین جو ریاستی قانو ن یا پارٹی کے عزم کے حساب سے ووٹ نہیں کرتے انہیں جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے یا انہیں نااہل قرا ر دیا جاسکتا ہے یا پھر ان کی جگہ دوسرے اراکین کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔امریکہ کے وجود میں آنے کے وقت سے اب تک ۹۹ فی صد اراکین نے پارٹی کے عزم کے حساب سے ہی ووٹ ڈالا ہے۔ نتیجے کے طور پر امریکہ میں اکثر اس بات پر یقین کیا جاتا ہے کہ جس امیدوارکے جیتنے کی توقع ہوتی ہے اور جس کے نام کا اعلان غیر رسمی طور پر انتخابات کی رات میں کیا جاتا ہے ، وہی صدر بنتا ہے۔

 

الیکٹور ل ووٹوں کی گنتی

دسمبر میں انتخابی اراکین کے ووٹ ڈالنے کے بعد ۶ جنوری کو امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان اور ایوان بالا دونوں ہی ایوانوں کا مشترکہ اجلاس ہاؤس چیمبر میں منعقد ہوتا ہے ۔کارگذار نائب صدر (جو سینیٹ کے سربراہ کی خدمات انجام دیتاہے)میٹنگ کی صدارت کرتا ہے۔ یہیں امریکی کانگریس کے اراکین رسمی طور پر ووٹوں کی گنتی کرتے ہیں۔ دو مقررشمار کنند گان حروف تہجی کی ترتیب میں ریاست کے ووٹوں کا اعلان کرتے ہیں۔ کامیابی کے لیے امیدواروں کو ۲۷۰  الیکٹورل ووٹوں کی اکثریت حاصل کرنا لازمی ہے ۔ووٹوں کے شمار کے بعد اگر دو امیدوا ر نتائج میں غالب رہتے ہیں توایوان بالا کے چیئر مین نو منتخب صدر اور نو منتخب نائب صدر    کے ناموں کا اعلان کرتے ہیں جو ۲۰جنوری کو اپنے عہدے کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔

 

کیری لووینتھل میسی نیو یارک سٹی میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط