مرکز

نینو ٹیکنالوجی جہان کی جستجو

سنہ ۲۰۱۷ کے فل برائٹ ۔ نہرو انٹر نیشنل ایجوکیشن ایڈ منسٹریٹرس سیمینار میں شرکت کرنے والے سابو تھومس مختلف شعبوں میں مفید مصنوعات تیار کرنے کے لیے نینو ٹیکنالوجی کے استعمال کا کام کرتے ہیں۔

سابو تھومس کیرالہ کے کو ٹیَم میں واقع مہاتما گاندھی یونیورسٹی ( ایم جی یو) کے وائس چانسلر ہیں۔ایم جی یو کے اسکول آف کیمیکل سائنسیز میں پولیمر سائنس (کثیر سالمی سائنس)اور انجینئرنگ کے پروفیسر تھومس یونیورسٹی کے انٹر نیشنل اینڈ انٹر یونیورسٹی سینٹر فار نینو سائنس اینڈ نینو ٹیکنالوجیکے بانی ڈائریکٹر بھی ہیں۔

تھومس نے ۲۰۱۷ ء میں  فل برائٹ۔ نہرو انٹر نیشنل ایجو کیشن ایڈ منسٹریٹر س سیمینار میں حصہ لیا تھا۔ تھومس نے انڈیا میں اپولو ٹائرس  اور ریاستہائے متحدہ امریکہ میں  جنرل کیبل جیسی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کے عمل کو بھی فروغ دیا ہے جو اپنی مصنوعات میں اپنی تحقیق ، پیٹنٹ اور ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں ۔ پیش ہیں تھومس کے ساتھ انٹرویو کے اقتباسات۔ 

 

مہاتما گاندھی یونیورسٹی میں پولیمر سائنس اور انجینئرنگ کے ایک پروفیسر کی حیثیت سے آپ کس قسم کی تحقیق کرتے ہیں؟

میں۳۲  برسوں سے مہاتما گاندھی یونیورسٹی میں اسکول آف کیمیکل سائنسیز میں پڑھا رہا ہوں۔ میں یونیورسٹی میں ماسٹرس کے طلبہ اور ریسرچ اسکالرز کو پولیمر نینو سائنس اور نینو ٹیکنالوجی بھی پڑھاتا ہوں۔ میرا تحقیقی گروپ بنیادی طور پر درج ذیل شعبوں پر کام کرتا ہے۔

٭   قدرتی وسائل کو مفید مصنوعات میں تبدیل کرنا جیسے زخموں کی شفایابی سے متعلق سہاروں، پانی صاف کرنے کی جھلیوں، آلودگی سے پاک ای ایم آئی ( برقی مقناطیسی مداخلت) کی حفاظت کرنے والے مواد، یہ سبھی نینو سیلولوز سے حاصل کیے جاتے ہیںجو آلودگی سے پاک ایک  پولی سیچرائڈ ہے جسے پودوں کے ریشوں سے لیا جاتاہے۔

٭  ایرواسپیس ایپلی کیشنز کے لیے سخت کارکردگی والے ایپوکسی مٹیریل  کی تشکیل۔

٭   اگلی نسلوں کے ٹائروں کے لیے اونچے بیریر والے ٹائر کے اِنر لائنر کی تشکیل۔

٭   بیٹری ایپلی کیشنز کے لیے اعلیٰ کارکردگی والے مواد کی تیاری۔

 

کیا آپ ہمیں نینو ٹیکنالوجی اور نینو سائنس کے میدان میں اپنے کام کے بارے میں بتا سکتے ہیں؟

ہم بنیادی طور پر ایسی مصنوعات تیار کرنے کے لیے نینو ٹیکنالوجی کے استعمال کے ان اہم پہلوؤں پر توجہ دیتے ہیںجن کا استعمال مختلف شعبوں جیسے حفظانِ صحت، آٹوموبائل، ایرو اسپیس اور دفاع میں کیا جا سکتا ہے۔

انڈیا میں ہماری شراکت داری ٹائر کی ایک بڑی کمپنی اپولو ٹائرس کے ساتھ وسیع امداد باہمی کی بنیاد پر ہے اورہم نے اعلیٰ کار کردگی والے ٹائر کے اِنر لائنر تیار کرنے کے لیے ایک ٹیکنالوجی کو پیٹنٹ کیا ہے۔ ہم نے امریکہ میں واقع جنرل کیبل کے ساتھ  ہائی وولٹیج کیبل کے لیے ایک ضابطہ بھی وضع کیا ہے۔

 

ریاستہائے متحدہ امریکہ میں فل برائٹ۔ نہروانٹرنیشنل ایجوکیشن ایڈمنسٹریٹرس سیمینار میں شرکت کرنے کا آپ کا تجربہ کیسا رہا اور اس پروگرام نے انڈیا میں آپ کے کام کو بڑھانے میں کس طرح مدد کی؟

ایک  سینئر فل برائٹ اسکالرکی حیثیت سے مجھے امریکہ کی پندرہ یونیورسٹیوں، اداروں اور کالجوں کے ساتھ تعلیمی اور انتظامی سطح کی ملاقاتیں کرنے کا موقع ملا۔ میں نے امریکہ کے کئی اداروں کا دورہ کیا تاکہ ان کے صدور، نائب صدور، ڈین، پروووسٹ اور سینئر ماہرین تعلیم اور منتظمین کار کے ساتھ اعلیٰ سطحی تعلیمی ملاقاتیں کر سکوں۔ میں امریکہ کے متعدد اداروں کے تعلیمی نظاموںکے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں بھی بڑی حد تک کامیاب رہا۔

میرا یہ سفر ایم جی یو کو اعلیٰ تعلیمی سطح تک لے جانے سے متعلق میری کوششوں میں بہت کارآمد رہا۔ پروگرام سے واپسی کے فوراً بعد ہی میں نے ایک  اوریئنٹیشن لیکچرکا اہتمام کیا اور نوجوان اسکالروں کو اس سنہرے موقع کو استعمال کرنے کی ترغیب دی اور ان کی حوصلہ افزائی کی ۔

 

وہ کچھ بڑے طریقے کیا ہیں جن سے آپ نے مہاتما گاندھی یونیورسٹی کو زیادہ عالمی بنا دیا، خواہ وہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی حیثیت سے ہو یا آپ کے علمی کاموں کے توسط سے؟

میرا خواب مہاتما گاندھی یونیورسٹی کو ایک عالمی سطح کی یونیورسٹی بنانا ہے۔اس ہدف کو پانے کے لیے تمام سرگرمیوں میں مساوات، معاشرتی انصاف، جامعیت اور تنوع کے اصولوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔

میری یونیورسٹی کے تمام اراکین کے تعاون سے تعلیم، تدریس اور تربیت کے عمل میں ایک عالمی سطح کا امتیازی مرکز بنانے اور قومی تعمیر کے لیے اعلیٰ معیار، معاشرتی طور پر پُرعزم اور انتہائی ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے کی خواہش ہے۔ میں مہاتما گاندھی یونیورسٹی کوایک واقعی بین الاقوامی تحقیق پر مبنی ادارے میں تبدیل کرنا چاہتا ہوں جس میں بہترین اساتذہ اور بنیادی ڈھانچہ ہو۔

 

آپ فی الحال کس چیز پر کام کر رہے ہیں؟

میرا ریسرچ گروپ بین مضامینی شعبوں میں بڑے پیمانے پر کام کرتا ہے۔ ہم ہندوستان اور بیرون ملک کی صنعتوں کے ساتھ اپنی تحقیقات کے نتائج کو مفید مصنوعات میں تبدیل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں جو ہر ایک کے لیے کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں۔ مجھے پختہ یقین ہے کہ نینو ٹیکنالوجی مستقبل میں ہمارے ملک کو تکنیکی ترقی میں پیش پیش رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس کی مدد سے بہت ساری جدید مصنوعات تیار کی جا سکتی ہیں۔

 

نتاشا ملاس نیو یارک سٹی میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط