مرکز

اعلیٰ تعلیم والی دنیا کی کھوج

 فل برائٹ نہرو ماسٹرس فیلو کرن بھولا  نے اس مضمون میں بتایا ہے کہ ہند و امریکہ میں اعلیٰ تعلیم کے ادارے کیسے بنائے ، چلائے اور بچائے جاتے ہیں۔

 کرن بھولا ۹ا۔۲۰۱۸  کے فل برائٹ نہرو ماسٹرس فیلو ہیں اور نئی دہلی کی ایک ایسی مشاورتی فرم میں کام کرتے ہیں جو اعلیٰ تعلیم کے ادارے بنانے اوران کی تجدید میں مہارت رکھتی ہے۔ اپنے کام سے بھولا نے نئی دہلی میں یونیورسٹی آف پین سلوانیا کی  آن لائن لرننگ اِنی شی ایٹو کے لیے پیشہ ورانہ ترقی کے  بلینڈیڈ لرننگ پروگرام میں مدد کی ہے۔ ابھی حال ہی میں وہ حکومت ہند کی وزارتِ ریلوے کے لیے ملک کی ایسی پہلی یونیورسٹی قائم کرنے کے لیے کام کر رہے تھے جس کی توجہ کا مرکز نقل و حمل سے متعلق تعلیم ، تربیت اور کثیر مضامینی تحقیق ہے۔ پیش ہیں ان سے لیے گئے انٹرویوکے اقتباسات:

9.9 ایجوکیشن میں اپنے کام کے بارے میں کچھ بتا سکتے ہیں؟

 گریجویٹ تعلیم شروع کرنے سے پہلے سے ہی میں نائن پوائنٹ نائن ایجوکیشن کے کئی منصوبوںپر کام کر رہا تھا۔ان میں کئی چیزیں شامل تھیں۔ انڈیا میں اعلیٰ تعلیم کے زمرے میں موجود اداروں یا پروگراموں کے بعض کاموں کی صورت گری میں مدد، بلینڈیڈ لرننگ(ایسا طرزِ تعلیم جس میں طلبہ الیکڑانک آلات اور آن لائن میڈیا کے ساتھ روایتی طریقے سے بھی سیکھتے ہیں)میں امریکی اداروں کے ساتھ منصوبوں پر کام اور ابھی حال میں ایک نئی سرکاری یونیورسیٹی کے قیام میں مدد دینے کے لیے مرکزی حکومت کے متعدد اداروں کے ساتھ کام کرنا۔

 میری خوش قسمتی تھی کہ میں نے جن منصوبوں پر کام کیا ان سب میں مجھے کافی لچک ، خود مختاری اور تائید ملی۔ اس کی تکمیل کئی سینئر لیڈران نے اتالیقی اور مسائل کے حل کے ذریعہ کی ۔

 

آپ نے تعلیم کے زمرے میں وزارتِ ریلوے کے ساتھ کام کیا۔ آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ دونوں کیسے ایک جگہ موافق ہوتے ہیں؟

 میں نے گریجویٹ تعلیم کے لیے امریکہ جانے سے پہلے تقریباََ ایک برس سے کچھ زائد عرصے تک اس منصوبے پر کام کیا ۔میں اس ٹیم میں شامل تھا جو نقل و حمل کے زمرے کے لیے تحقیق و تربیت پر توجہ مرکوز کرنے والی ایک یونیورسٹی قائم کرنے میں ریلو ے کی مدد کررہی تھی۔ یہ ایک شدید ، تیز رفتار اور محنت طلب منصوبہ تھا کیوں کہ اس میں تصور کشی (کہ یونیورسٹی مستقبل میں کیسی لگے گی )کے علاوہ یونیورسٹی کو باضابطہ ادارے کی شکل میں پیش کرنے تک سب کچھ شامل تھا۔ مگر یہ تجربہ عاجزانہ بھی تھا کیوں کہ اس کے ذریعہ پہلی بار حکومت میں کلیدی ذمہ داریاں نبھانے والے عملہ کے ساتھ سیدھا ربط ضبط ہور ہا تھا جن کے رویے سے اس ادارے کو بنانے کی عہد بستگی ظاہر تھی۔ یہاں مجھے ایک سے زائد ایسے افراد اور ادروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جن سے میں نے بہت کچھ سیکھا ۔ یہاں میں نے حقیقی طور پر یہ بھی جانا کہ مختلف اداروں کے درمیان تعاون کرکے کیسے کام کو بامعنی ڈھنگ سے آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

 

آپ نے انڈیا میں یونیورسیٹی آف پین سلوانیا کے پروگرام کے توسط سے بلینڈیڈ آن لائن لرننگ میں دلچسپ کام کیا ہے۔اس کام میں کیا بڑی کامیابیاں ملیں اور آپ کے خیال میں ایسی تعلیم کا مستقبل کیا ہے؟

 اس میں دو رائے نہیں کہ پڑھائی لکھائی کے عمل میں مدد کے لیے تکنیک کا استعمال ہمارے مستقبل کے لیے مرکزی خصوصیت کی حامل چیز ہوگا۔ اور اس کے امکانات کی کوئی حد نہیں ہے۔میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ موافقت ،افزائشِ نو اور جوابدہی کا معاملہ ہے۔کیا ہم درس و تدریس کو ایسا بنا سکتے ہیں کہ طلبہ آن لائن دستیاب مواد کی مدد سے بہتر طور پر تعلیم حاصل کر سکیں؟ دوسرے طور پر اگر دیکھیں تو ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کوئی طالب علم آن لائن سیکھنے کے دوران احساسِ وابستگی سے دو چار ہوتا ہے یا نہیں ۔ اور میرے خیال میں یہ ایک کلیدی سوال ہے۔

 انڈیا جیسے ملک میں اس طریقہ تعلیم کی بدولت یہ سہولت پیدا ہو گئی ہے کہ یہاں کے باشندوں کو اعلیٰ اور معیاری تعلیم بڑے پیمانے پر فراہم کی جائے۔انڈیا دنیا میں دوسری سب سے بڑی آبادی کا گھر ہے۔ اسے آبادی میں اضافے سے فائدہ اٹھانے کا سنہرا موقع ہاتھ لگا ہے۔ 

اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارا تعلیمی نظام اپنے کثیر مقاصد اور اہداف کی تکمیل کرے تو اس کی منصوبہ بندی کے وقت شاید ضروری ہے کہ سب سے زیادہ اہمیت اسی امر کو دی جائے۔جن برادریوں میں بچوں کو کالج بھیجنے کا چلن ہے ان کی تعداد میں واضح اضافہ بھی اس ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے ادارے مانگ کو قابو میں رکھنے کے لیے آن لائن وسائل کو بروئے کار لائیں ۔

 اپنے کام  گوئنگ فوروارڈ (یہ آن لائن سیکھنے سے متعلق ہے)میں مَیں آن لائن کلاس روم کے فائدے اور نقصان کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر وں گا اور اساتذہ اور طلبہ کے درمیان سماجی اور ثقافتی اعتبار سے قیمتی بندھن کو برقرار رکھنے کی صورتیں بھی نکالوں گا۔  

 

نظام تعلیم کے سلسلہ میں آ گے بڑھتے ہوئے آپ کے سامنے کیا بنیادی مقاصد  ہیں؟

 گو کہ میرا طویل مدتی ہدف یہی رہے گا کہ میں اعلیٰ تعلیم کے مختلف پہلوؤں میں کچھ نہ کچھ کرتا رہوں مگر مجھے اس کا بھی احساس ہے کہ کوئی مسئلہ کسی فرد یا ادارے سے حل نہیں ہوتا۔ میرا ارادہ ہے کہ فوری طور پر یا مستقبل میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں کی انتظامیہ کے اندر اہلیت میں اضافے کے لیے کام کروں۔میرا مختصر مدتی یا وسط مدتی ہدف یہ ہے کہ انڈیا میں تعلیم ، مشق اور تحقیق کے میدان کے طور پر اعلیٰ تعلیم کے ادارے قائم کرنے میں ہاتھ بٹاؤں اور بہت سی صورتوں میں اس سے تحریک لوں کہ امریکہ میں یہ نظام کیسے کام کرتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ بھی اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں چیلنج کا سامنا کررہا ہے ، لیکن میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ادارے کیسے ادارہ جاتی یا نظام وار تحقیق اور اعداد وشمار پر، انتظام کاروں اور یونیورسٹی لیڈران کو تربیت دینے پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں اور کیسے لوگ اس شعبے میں کریئر بناتے ہیں۔

 

ہند امریکہ ربط ضبط ، خاص کر فل برائٹ نہرو ماسٹرس فیلو شپ کا آپ کا تجربہ آپ کے کام کی گہرائی اور ترقی میں کیسے معاون ہوا ؟

 میرے دماغ میں یہ بات ہے کہ عام طور سے اعلیٰ تعلیم کے معاملہ میں میرے طرز ِفکراور خاص کر اس میں میرے کردارکے مرکز میں ہند۔امریکہ ربط ضبط ہے۔امریکہ میں اعلیٰ تعلیم ، بہت سے اسباب کی بنا پر،پوری دنیا میں تحریک کا ذریعہ رہا ہے۔ امریکہ کی ہارورڈ یونیورسیٹی میں میرا فل برائٹ تجربہ اور انڈیا کے ساتھ اس ملک کے رشتہ کا تجربہ احسان اور اطمینان کا تجربہ رہا ہے۔اس پروگرام سے پڑھائی کا ایک تحریک بخش ماحول ملا کیوں کہ ہر اسکالر اس میں ایک دانشورانہ لمس اور ثقافتی عنصر پیش کرتا ہے۔ آپ وہاںلوگوں کی ایک ایسی عالمی برادری کا حصہ بن جاتے ہیں جو دوسروں کے لیے حالات بہتر بنانے کے قول و قرار کے پابند ہوتے ہیں۔ فل برائٹر ہونا ایک اہم ذمہ داری ہے اور اس کے لیے میں احسان مند ہوں۔ اس تجربے نے میری آگے چل کر اس احسان کا بدلہ چکانے کی خواہش کو مستحکم کیا ہے۔

 

ٹریور لارینس جوکِمس نیویارک یونیورسٹی میں تحریر ، ادب اور معاصر ثقافت کی تدریس کرتے ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط