مرکز

عالمی تحریک

 فل برائٹ۔ نہرو فیلو شپ پروگرام زندگی میں ایک بار حاصل ہونے والے عالمی تعلیمی موقع کے دروازے کھولتا ہے۔

کالج کے ایک طالب علم کی حیثیت سے امریکہ میں یونیورسٹی آف وِ سکونسِن سے بنارس تک آدھی دنیا کا سفر کرتے ہوئے اَیڈم گروتسکی زندگی تبدیل کردینے والی حیران کن صلاحیتوں کے براہ راست گواہ بنے ۔ اور اب وہ تعلیم کے لیے وقف سیکڑوں ہندوستانی اور امریکی طلبہ کو ہر سال ایسے ہی بیش قیمتی اور پُر جوش عالمی تجربات حاصل کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

 گروتسکی انتہائی مطلوب  فل برائٹ ۔ نہرو فیلو شپ پروگرام کی نگرانی کرنے والے کمیشن امریکہ۔ ہند تعلیمی فاؤنڈیشن(یو ایس آئی ای ایف) کے ایکزیکٹو ڈائریکٹر کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ فیلوشپ کی شروعات ۱۹۵۰ ء میں ہوئی ۔ ۲۰۰۸ ء میں اس کے دائرہ ٔکار میںاس وقت توسیع کی گئی جب اس کی مکمل کفالت کی ذمہ داری حکومت ِہند کے حصے میں آئی۔ اس طور پر انڈیا کی حیثیت اس میں مکمل طور پر مالی شراکت دار کی ہوگئی۔ اس فیلو شپ کے تحت ہندوستانی شہریوں کو امریکہ میں اور امریکی شہریوں کو انڈیا میں پڑھائی ، تحقیق اور تدریسی عمل انجام دینے کے مواقع ملتے ہیں۔ تو آخر اس کا مقصد کیا ہے؟ اس کے جواب میں گروتسکی کہتے ہیں ’’ اس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینا ہے۔‘‘ 

انڈیا میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ ملک کے شہری امریکہ میں پڑھنے اور ترقی کرنے کے مواقع حاصل کرنے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں ۔ایک فل برائٹ۔ نہروگرانٹ کے تحت ہندوستانی طلبہ امریکی اداروں میں صحت عامہ سے لے کر ماحولیاتی سائنس اور شہری منصوبہ بندی سے خواتین سے متعلق مطالعات جیسے مضامین تک میں ماسٹر ڈگری حاصل کر سکتے ہیں۔ایک دوسرے گرانٹ،فل برائٹ ۔ نہرو ڈوکٹورل ریسرچ فیلو شپ کے تحت، پی ایچ ڈی کے طلبہ تاریخ، بین الاقوامی قوانین،اعصابی سائنس، فنون لطیفہ اور دیگر شعبوں میں مزید مطالعے کے لیے امریکہ کا دورہ کرتے ہیں۔

انڈیا کے ان پروفیسروں اور پیشہ وروں کے مدد کے لیے جو امریکہ میں تعلیم یا درس و تدریس کے خواہش مند ہیں ، بہت سارے دیگر گرانٹ بھی دستیاب ہیں۔ ان میں ممتاز محققین کو امریکہ میں ملنے والی  پوسٹ ڈوکٹورل فیلو شپ  اور ایسے معلمین ، جو امریکہ کے اعلیٰ تعلیمی نظام کو انڈیا میں اپنے تعلیمی اداروں میں متعارف کرانا چاہتے ہیں، کے لیے وظائف ۔اور یہ فہرست لمبی ہے۔

ہند کے جن افراد کو ابھی حال ہی میں فیلو شپ ملی ہے وہ لوگ مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے ہیں ۔ مثال کے طور پر حیدر آباد کی سمپریتی ملاڈی ایک ایوارڈ یافتہ رقاصہ اور ماہر تعمیرات ہیں۔ انہوں نے امریکی شہر برکلے میں واقع  یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں  ڈانس، اسپیس اینڈ دی ویووَر کنیکٹ اِن انڈین کلاسیکل ٹریڈیشنس کے عنوان سے اپنے اصل پروجیکٹ کے احیاکے لیے گرانٹ حاصل کیا ہے۔آسام کے ابھے پوری سے تعلق رکھنے والے ماہر ماحولیات کربی پاٹھک کو  اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی میں توانائی، کاربن آ ؤٹ پُٹ اور شفاف زرعی پیداوار میں تحقیق کے لیے مدد ملی ہے۔ اسی طرح نئی دہلی کے کوشل کشور چنڈیل کو نیو یارک سٹی کے  دی نیو اسکول میں چینی سائبر جنگ کی پالیسیوں اور حکمت عملیوں میں عمیق مطالعے کے لیے اسپانسرشپ ملی ہے۔

نئی دہلی میں مقیم فلمساز آنندنا کپور جنہیں ۲۰۱۷ ء میں فل برائٹ ۔ نہرو ڈوکٹورل ریسرچ فیلو شپ ملی اور جنہوں نے مسا چیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں تعلیم حاصل کی کہتی ہیں ’’فل برائٹ۔ نہرو گرانٹ نے مجھے عالمی معیار کی تجربہ گاہ میں کام کرنے، جدید ٹیکنالوجی سے متعارف ہونے اور متعامل ذرائع ابلاغ کے قائدین کے ساتھ اشتراک کرنے کا موقع فراہم کیا ۔ اس نے مجھے سنیما کی تبدیل ہوتی ہوئی شکل سے مطابقت پیدا کرنے کے دوران تنقیدی طور پر ضابطے کی پابندی کرنے میں مدد کی۔ اس نے مجھے بین الاقوامی ناظرین کے لیے اپنی فلموں کو دکھانے کا موقع بھی فراہم کیا۔ ‘‘

فل برائٹ ۔ نہرو پروگرام گذشتہ ۱۰ برسوں کے دوران تین گنا بڑا ہو گیا ہے اور اس کا بجٹ بڑھ کر ۶ اعشاریہ ۷ ملین ڈالر ہو گیا ہے۔ گروتسکی بتاتے ہیں کہ اضافہ شدہ اس رقم کو بہت عمدہ طریقے سے استعمال کیا گیا ہے۔ وہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں ’’ فل برائٹ پروگرام کے ذریعے دنیا بھر سے ہزاروں طلبہ ، دانشور، اساتذہ اور پیشہ ور افراد با معنی مذاکرات میں شامل ہوتے ہیں اور دیگر ملکوں میں موجود اپنے ساتھیوں اور اپنے ہم منصبوں کے ساتھ دیر پا دوستی اور شراکت داری کو فروغ دیتے ہیں ۔ڈیجیٹل کمیونیکیشن کے شعبے میں رونما ہونے والی اختراعات بین الاقوامی اشتراک کو یقینی طور پر ممکن بناتی ہے اور اس میں ویزا اور پاسپورٹ کی ضرورت بھی نہیں ہوتی ۔ مگر تکنیک کبھی بھی باہمی تعامل کی طاقت اور صلاحیت کو تبدیل نہیں کرسکتی ۔ ‘‘

ہند اور امریکی حکومتوں کی جانب سے فل برائٹ ۔ نہرو فیلوشپ کو حاصل مستحکم حمایت کی وجہ سے اس طرح کی پُر جوش عالمی دوستی آنے والے دنوں میں مزید فروغ پائے گی۔

گروتسکی خیال آرائی کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’ جب دونوں ملکو ں کے طلبہ ایک ساتھ علم حاصل کرتے ہیں ، مشترکہ تحقیق میں شامل ہوتے ہیں اور تعلیمی تبادلے کی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں تو وہ اصل میں ہند اور امریکہ کے درمیان بہتر تعلقات کی بنیاد رکھ رہے ہوتے ہیں۔اس جیسے پروگراموں سے شرکاء پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ لوگوں میں ان کی علمی مہارت کے علاوہ بھی چیزیں ہوتی ہیں جنہیں جاننا چاہئے۔ اسی طرح کسی بھی ملک میں اس کی سیاست اور پالیسیوں کے علاوہ بھی چیزیں ہوتی ہیں جن کی معلومات ہونی چاہئے۔مدلل طور پر باوقار فل برائٹ ۔ نہرو پروگرام جیسی پہل کے ذریعہ طلبہ اور اسکالرس کے تبادلہ پروگرام کے ذریعے ہند۔ امریکی تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ نہ صرف پائیدار ہوئے ہیں بلکہ انہیں فروغ بھی ملا ہے۔‘‘

بیرون ملک اپنے تعلیمی تجربات کوناقابل فراموش بنانے میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے سخت محنت ، ٹیم ورک اور تجسس کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ گروتسکی کہتے ہیں ’’ فل برائٹ ۔نہرو فیلو شپ کا اہتمام ان غیر معمولی طلبہ ، ماہرین تعلیم اور پیشہ ور افراد کے لیے کیا جاتا ہے جو اپنے تعلیمی شعبے میں قائدانہ خوبیوں ،مہارت کی نمائش کرنے کے ساتھ دنیا بھر میں اپنے ساتھیوں اور اپنے ہم منصبوں کے ساتھ دیر پا پیشہ ورانہ اشتراک کو فروغ دینے اور ذاتی رابطہ قائم کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ فل برائٹ پروگرام میں شامل تمام شرکا ء ہمیشہ اپنی مہارت اور معلومات کے اشتراک کے لیے تیار رہتے ہیں، نئے خیالات کا خیر مقدم کرتے ہیں اور بین الاقوامی مصروفیات کے لیے پابندعہد رہتے ہیں۔‘‘

 

مائیکل گیلنٹ ، گیلنٹ میوزک کے بانی اور سی ای او ہیں۔ وہ نیویارک سٹی میں رہتے ہیں ۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط