مرکز
1 2 3

فل برائٹ پروگرام کی یادیں

امریکی یونیورسٹیوں میں حصولِ علم کے لیے منتخب کیے گئے فل برائٹ اسکالرس کے پہلے بیچ سے تعلق رکھنے والے ایم ایس راجن امریکی مہمان نوازی اور نئے ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنے میںدر پیش پریشانیوں کو یاد کرتے ہیں۔

کچھ روز پہلے میں نے لوائے ہینڈرسن  کی سوانح کے بارے میں محکمۂ امور خارجہ( نیو یارک) میں ایک مختصر نوٹس پڑھا۔فوری طور پر میرا ذہن ۱۹۵۰ء کی دہائی کے اوائل میں جا پہنچا جب وہ انڈیا میں امریکہ کے سفیر تھے۔ ان ہی کی بدولت میں فل برائٹ فیلو شپ پر امریکہ کا دورہ کر پایا تھا۔

ان دنوں میں نئی دہلی کے انڈین کونسل آف ورلڈ افیئرس (آئی سی ڈبلیو اے ) میں کام کیا کرتا تھا۔ ایک دن آئی سی ڈبلیو اے کے جنرل سکریٹری اے اپّادورئی نے مجھے امریکہ میں پڑھائی کی خاطر اسکالر شپ کے لیے ایک فارم بھرنے کو کہا۔میں نے فارم بھر تو دیا لیکن میں نے اس مسابقت میں کامیابی کی کوئی امید نہیں کی تھی کیوں کہ مجھے معلوم تھا کہ یہ ایک کُل ہند سطح کا مقابلہ تھا۔ دو تین مہینوں کے بعد یو ایس انفارمیشن سروس سے مجھے اطلاع ملی کہ فل برائٹ اسکالر شپ اور نیو یارک میں کولمبیا یونیورسٹی میں داخلے کے لیے میرا انتخاب ہو چکا ہے ۔یہ خبر پاکر میںفطری طور پر خوش تھا کہ مجھے فیلوشپ پر امریکہ کا دورہ کرنے کا موقع مل رہا تھا۔

نیو یارک روانہ ہونے سے عین پہلے میں نے امریکی سفارت خانہ میں امریکی سفیر  ہینڈرسن  سے ملاقات کی۔امریکی سفارت خانہ ان دنوں سکندرا روڈ پر واقع بھاول پور ہاؤس میں ہوا کرتا تھا۔ اسکالر شپ ملنے کی میری خوشی اس وقت دوگنی ہو گئی جب امریکی سفیرنے مجھے بتایا کہ میری اصل درخواست امریکی محکمہ ٔخارجہ میں کہیں گم ہوگئی تھی (جس کے ذمہ ان دنوںایسی درخواستوں کا انتظام و انصرام تھا)۔ سفیر موصوف نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے محکمہ ٔخارجہ کو ناراضگی کا ایک خط روانہ کرکے اصرار کیا تھا کہ خواہ کچھ بھی ہو مجھے وظیفہ ملنا چاہئے کیوں کہ میں آئی سی ڈبلیو اے میں خدمات انجام دے رہا تھا۔ ہینڈرسن نے حکام سے کہا کہ میں نیو یارک پہنچنے کے بعداز سر نو ایک نئی درخواست دے دوں گا۔ 

اس وقت گرچہ میں آج کے زیادہ تر فل برائٹ اسکالرس کے مقابلے کافی بڑا(۳۰ برس) تھا لیکن امریکہ کے بارے میں مجھے اتنی زیادہ معلومات نہیں تھیں جتنا کہ آج کے زمانے میں طلبہ کو ہوتی ہیں۔ نیو یارک پہنچنے پرہمت پست کرنے والی جس چیز کا سامنا مجھے سب سے پہلے ہوا وہ یہ تھی کہ نہ وہ لوگ میرے انگریزی تلفظ کو سمجھ رہے تھے اور نہ ہی میں ان کے تلفظ کو سمجھ پا رہاتھا۔مجھے بار بارآہستہ سے اپنی بات دہرانی پڑتی تھی تاکہ میری بات ان لوگوں کی سمجھ میں آجائے۔اس کے علاوہ بھی امریکہ کے بارے میں کئی ایسی باتیں تھیں جو مجھے سمجھنی تھیں۔

نیو یارک ایئر پورٹ پر ٹیکسی میں بیٹھنے سے پہلے میں نے اس قلی کو بخشش دی جو میرا وزن دار سوٹ کیس ڈھو کر لایا تھا۔ بخشش کی رقم دیکھ کر شکریہ کہنے کی بجائے وہ قلی ہنسا اور اپنا سراور اس ہاتھ کو ،جس میں اس نے بخشش کی رقم پکڑی ہوئی تھی، ٹیکسی کے اندر رکھ کر ڈرائیور سے کہا ’’ سنو ، مجھے امید ہے کہ تم اسے پسند کرو گے (یا اسی طرح کے الفاظ)۔‘‘  میں حیران تھا کہ آخر اس کا مطلب کیا تھا۔

کئی دنوں کے بعد جب مجھے امریکی کرنسی کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں تب اس قلی کی بات میری سمجھ میں آئی۔ جب میں نے ڈالر کا مقابلہ ہندوستانی روپیوں سے کیا تومیں نے پایا کہ( ۱۹۵۰ میں ایک ڈالر کے ۵ روپے آیا کرتے تھے ) میں نے تو انہیں صرف ۵۰ سینٹ یعنی ڈھائی روپے ہی بخشش کے طور پر دیے تھے۔ ڈھائی روپے یعنی ،جومیںکسی ہندوستانی قلی کو اس زمانے میں دیا کرتا تھا ،اس کا یہ ڈھائی گنا تھا جس کے بارے میں مجھے خیال تھا کہ میں سخاوت سے کام لے رہا ہوں لیکن اصل میں مضحکہ خیز طور پر نیو یارک میں دیے جانے کے لیے یہ کافی کم بخشش تھی۔غالباََ اسے یہ احساس ہو گیا تھا کہ میں ایک غیر ملکی ہوں اورامریکہ کا یہ میرا پہلا دورہ ہے،لہٰذا میری بخشش کو لینے سے انکار کرکے مجھے ناراض کرنے کی بجائے اس نے اسے ایک مزاح کی شکل دے دی۔

میرے قیام کا انتظام   وائی ایم سی اے سلون ہاؤس میں کیا گیا تھا۔ وہاں پہنچنے کے بعد ہی مجھے بہت زیادہ پیاس لگی۔ اپنے کمرے میں یا کہیں باہر کو ئی نل نہیں ملنے سے پریشان میں استقبالیہ پر گیا اور پوچھا کہ مجھے ایک گلاس پانی کہاں مل سکتا ہے۔ مجھ سے کہا گیا ’’ ہر منزل پر پانی کا ایک فوارہ موجود ہے۔‘‘ اس روکھے سے جواب سے حیران ہوکر میں اپنی منزل پر فوارے کی تلاش کرنے لگا جو مجھے نہیں ملا۔ میں کافی پریشان تھا اور حیران بھی کہ پیاس کیسے بجھاؤں۔ تبھی میں نے دیکھا کہ ایک نوجوان ایک دیوار میں لگی کسی چیز کے پاس گیا اور اس سے پانی پینے لگا جو اچانک ہی دیوار سے باہر آنے لگا تھا ۔ تب مجھے احساس ہوا کہ اچھا یہ امریکی فوارہ ہے۔پھر میں نے فوارے سے پیاس بجھائی۔ 

دوسرے دن یونیورسٹی جانے والی بس میں جب میں نے اپنی سیٹ ایک خاتون کو پیش کی، جو کھڑی تھیں، تو وہ مجھ پر کچھ کہتے ہوئے نارا ض ہونے لگیں جسے میں سمجھ نہیں پایا۔ حیران اور بے عزتی محسوس کرتے ہوئے( کیوں کہ بہت سارے مسافر میری طرف دیکھ رہے تھے گویا میں نے اس خاتون کو ناراض کر دیا ہو) میں نے اپنے ایک پڑوسی سے( کانا پھوسی کے انداز میں )پوچھا کہ اس خاتون نے کیا کہا۔ وہ شخص مسکراتے ہوئے اس خاتون کے الفاظ کو دہرانے لگا اور کہا ’’ میں اتنی عمر دراز نہیں ہوں۔‘‘ خاتون کو نشست پیش کرنے کاذیلی اشارہ ان کی عمر کا حوالہ دینا ہوگیا کیوں کہ امریکہ میں لوگ صرف عمررسیدہ خواتین کو ہی نشستیں پیش کرتے ہیں۔

عمرکے فرق سے متعلق ایک دیگر معاملے کا سامنا مجھے ایک امریکی خاتون کے گھر کرنا پڑا جہاں میں ایک برس کے بعد اختتامِ ہفتہ مہمان تھا۔ فلا ڈیلفیا کے نزدیک اپنی رہائش گاہ پر جہاں میں مدعو تھا ،اس عمر دراز امریکی جوڑی نے اپنی شادی شدہ بیٹی کو بھی کھانے پر بلایا تھا جو قریب ہی رہتی تھیں۔ وہ نوجوان خاتون اپنے بچپن کے دنوں میں ایک ہاکی کھلاڑی کی حیثیت سے اپنے کارناموں کے بارے میں مجھے (اور میرے ایک ہندوستانی دوست کو جو میرے ساتھ تھا) بڑے جوش و خروش کے ساتھ سنا رہی تھیں۔پھر جب اس نے کہاــ ’’ اب جب کہ میں ۳۸ برس کی ہوں۔‘‘  اچانک خاتون نے بات کرنا بند کردیا اور چیخ اٹھی’’ اوہ ممی۔‘‘ شرمندگی بھرے خاموشی کے کچھ پل کا ہمیں اس کے بعد اس وقت تک سامنا رہا جب خاتون کی مادرِ مہربان نے ہوشیاری سے موضوع تبدیل نہیں کردیا۔ میرا ہندوستانی دوست ، جو ایک روز پہلے ہی امریکہ پہنچا تھا،نے گھبرا کر مجھ سے پوچھا کہ کیا اس نے یا میں نے کچھ غلط تو نہیں کر دیا۔چوں کہ امریکی رسم و رواج سے اس وقت میں نے واقفیت حاصل کر لی تھی۔ میں نے اسے بتایا کہ خاتون نادانستہ طور پر اپنی عمر بتادینے پر صدمہ زدہ تھی۔ 

حقیقت میں میں فخر محسوس کر رہا تھا کہ میں اس نوجوان ہندوستانی کو امریکی طرز رہائش کے طریقے سمجھانے کی پوزیشن میں تھا کیوں کہ میں ایک برس پہلے ٹھیک اسی حالت میں تھا جس میں آج وہ تھا۔ رات کے کھانے کے بعد میرا دوست ،جس نے اپنی زندگی میں پہلی بار ٹی وی دیکھا تھا، ایک پروگرام سے محظوظ ہونے کے لیے نشست گاہ میں چلا گیااور میں میزبان کے ساتھ برتنوں کو دھونے کے لیے کچن میں چلے گئے۔ تقریبا ایک گھنٹے کے بعد جب ہم لوگ سونے کے لیے تیار ہوئے تومیرے دوست نے حیرت زدہ لہجے میں پوچھا ’’آپ کچن میں کیا کر رہے تھے؟‘‘ میں نے حقیقت پسندانہ انداز میں کہا’’ اوہ میں برتنوں کو دھونے میںمیزبان کی مدد کر رہا تھا۔‘‘ میری بات پر یقین نہ کرتے ہوئے اس نے پوچھا ’’ لیکن آپ نے ایسا کیوں کیا؟ میں تو اپنے گھر میں بھی اس طرح کا گندا کام کبھی نہیں کرتا ‘‘۔ تب مجھے وضاحت کر نی پڑی کہ گھر کے مہمان کوکھانا کھانے کے بعد برتنوں کو دھونے میں مدد کرنا امریکی طرز زندگی کا حصہ ہے۔ لیکن یہ کچھ ایسی چیز تھی جسے وہ سمجھ نہیں پایا ،شاید وہ اس کا عادی نہیں تھا۔تب اس نے مجھے بتایا کہ اس نے در حقیقت کچن میں جھانکا تھا اور مجھے ایپرون پہنے دیکھا تھا مگر وہ یقین نہیں کر سکا کہ میں ایسا گندا کام کروں گا۔

امریکہ آنے کے بعد ایک دن میں اتوارکی صبح نیو یارک ٹائمس کی کاپی کی تلاش میں نکل پڑا۔ میں نے ایک لڑکے کو بہت سارے اخبارات لے جاتے ہوئے دیکھا تو میں نے اس سے ایک کاپی کے بارے میں کہا۔ وہ کافی حیران ہوا اور تلخ مزاجی سے ایک نیوز اسٹینڈ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا ’’آپ کو اخبار وہاں ملے گا۔‘‘  میں اس لڑکے کے رد عمل پر حیران تھا اورخیال کرنے لگا کہ کیا میں نے کچھ غلط کر دیا۔ بہر حال میں اس نیوز اسٹینڈ پر گیا اور اخبار کی ایک کاپی مانگی۔ اس شخص نے اخبار کے ایک ڈھیر کی طرف اشارہ کیا اور کہا ’’وہاں سے ایک اخبار نکال لیں۔‘‘  میں اخبارات کے اس ڈھیر کے نزدیک گیا لیکن سمجھ نہیں پایا کہ میں کس طرح ایک کاپی نکالوں۔ تمام اخبارات ایک بڑے ڈھیر میں تہہ کرکے رکھے ہوئے معلوم ہو رہے تھے۔ میں وہاں یہ دکھاتے ہوئے تب تک کھڑا رہا گویا میں کوئی اور چیز دیکھ رہا ہوںجب تک کہ وہاںایک لڑکا نہیں آگیا۔اس نے کائونٹر پر پیسے رکھے اور اس ڈھیر میں سے اخبار کا ایک بڑا سا بنڈل نکالا اور فوری طور پر لے کر چلاگیا۔ مجھے یہ تب معلوم ہوا کہ نیویارک ٹائمس کا اتوار کا شمارہ کافی بڑا یعنی ہر دن کے مقابلے تقریباََچار گنا بڑا ہوتا ہے (جو خود ہی ان دنوں کسی ہندوستانی اخبار کے مقابلے تقریباََچار گنا بڑاہوتا تھا)۔پھر مجھے اپنی اس غلطی کا بھی احساس ہواکہ میں نے اس لڑکے کو اخبار فروخت کرنے والا خیال کر لیا تھا ۔

امریکہ کے میرے دورے کے بہترین لمحات امریکی باشندوں کے گھروں کے میرے دورے تھے۔ مجھے کھانے پر اور اختتام ِ ہفتہ مہمان بننے کی دعوت ایسے لوگوں سے ملتی تھی جنہیں میں شاید ہی جانتا تھا۔میں نے ۱۹۵۲ ء کا کرسمس ایک امریکی کنبے کے ساتھ ایلی نوائے کے دور دراز علاقے شیمپین میں منایا۔جس شام میں وہاں پہنچا بجلی چلی گئی۔ میرے دوست کی ما ں نے بجلی مستری بلایا جو کچھ ہی دیر میں آگیا۔وہ تقریباََ ۶۰ برس کی عمر کا ایک لمبا لحیم شحیم شخص تھا۔ اس نے پینٹ کی پچھلی جیب سے ایک اسکریو ڈرائیور نکالا اور گھر بھرکی وائرنگ کی جانچ شاہانہ چال کے ساتھ کرتا ہوا ادھر ادھر دیکھتا رہا۔وہ وائرنگ کو یہاں وہاں تھپکی دیتا جاتا ۔ اسی طرح وائرنگ کی جانچ کرنے اور اس پر ایک جگہ تھپکی دیتے ہوئے بجلی آگئی۔ بجلی مستری مسکرایا اور اور پھر ایک بِل بک نکالا، اس میں بل لکھا اور پھر میرے دوست کی والدہ کے ہاتھوں میں تھما دیا۔وہ بل کی رقم  دیکھ کے حیران ہوکر چیخ اٹھیں ’’ کیا ؟ دس ڈالر؟ آپ نے کیا ہی کیا ہے؟ ‘‘ اب بولنے کی باری بجلی مستری کی تھی ۔ اس نے زور دے کر باوقار انداز میں کہا ’’ دیکھیں ، آپ مجھے اس چیز کی ادائیگی کر رہی ہیں جو میں جانتا ہوں نہ کہ اس چیز کے لیے جو میں نے کیا ہے۔‘‘  کسی وجہ سے، شاید بجلی مستری کے وقار یا میری میزبان کی اس کی وضاحت کو فوری طور پر قبول کرنے کے عمل سے؟ جو بھی ہو وہ واقعہ مجھے اب بھی اچھی طرح یاد ہے۔

بین الاقوامی تعلقات کے اپنے ماسٹرس کلاس میں یہ جان کر میںحیران تھا کہ اس میں تعلیم حاصل کر نے والوں میں بعض نوجوان اور بعض کچھ بڑی عمر کے مرد یا خواتین یا تو مصور، موسیقار، طبیعیات کے میدان کے سائنس داں، خوردہ فروش یااسی طرح کے دیگر کام کرچکے تھے یا کررہے تھے۔حیران و پریشان ہوکر میں نے ان میں سے بعض افراد سے پوچھا کہ وہ ایسا مضمون کیوں پڑھ رہے ہیں جس کا تعلق ان کے حال یا سابق پیشے سے نہیں ہے۔ا ن لوگوں نے ایک ہی جواب دیا کہ وہ اپنے پیشے سے مطمئن نہیں تھے، لہٰذا کسی بہتر کریئر کی تلاش میں تھے۔

خوشی حاصل کرنے کے لیے نئے سرے سے تعلیم حاصل کرنے کی خواہش اورعملی زندگی کے درمیانی سالوں میں تبدیلی کی کوشش نے مجھے بہتر متاثر کیا۔ میں اس بات سے بھی متاثر تھا کہ تعلیم حاصل کرنے میں آنے والے اخراجات کے لیے طلبہ کام کیا کرتے تھے۔ در اصل ہماری یونیورسٹی میں ہاسٹل اور ریستوراںکا اہتمام ان کی ہی مدد سے کیا جارہا تھا جو بظاہر ان جز وقتی روزگار کی صورتوں کے دوران پڑھائی کرنے میں کامیاب تھے۔(میں ان میں شامل نہیں ہو پایا کیوں کہ مجھے وظیفہ مل رہا تھا) وہ لوگ میری ٹائپنگ اور کپڑادھونے کا کام بھی کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ رات گئے آئس کریم، گری دار میوے اور پھلوں کی فراہمی کا بھی کام انجام دیتے تھے ۔ ان کاموں سے وہ جو بھی اجرت حاصل کرتے وہ ان کی فیس کی ادائیگی میں کام آتی اور ان کے کام سے یونیورسٹی کے عملے اور سامان کے اخراجات کو کم کرنے میں مدد ملتی۔

کولمبیا یونیورسٹی میں میرے لیے پیش آنے والا ایک سنگین مسئلہ سبزی خوری کا میرا اصول تھا۔ وہاں میرے پہلے کرسمس کے موقع پر میرے کمرے کی صفائی کرتی ہوئی میری ملازمہ نے پوچھا کہ میں نے کرسمس کے لیے کیا منصوبہ بنایا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ نیو یارک سٹی سے باہر رہنے والے ایک کنبے نے مجھے رات کے کھانے کی دعوت دی ہے۔ یہ سن کر میری ملازمہ نے کہا’’ اوہ ہو، تب تو آپ کو وہاں بہت سارے فیل مرغ(ٹرکی)اور کیک کھانے کو ملے گا۔ میں نے کہا کہ میں ٹرکی نہیں کھاؤں گا کیوں کہ میں صرف سبزی خور ہوں۔ اس نے حیران کن انداز میں پوچھا ’’آپ کیا ہیں؟‘‘ جب میں نے وضاحت کی تو اسے میری باتوں پر یقین نہیں آیا۔اس نے کہا ’’ آپ مذاق کر رہے ہیں ۔ آپ گوشت کے بغیر کیسے زندہ رہ سکتے ہیں ۔‘‘ وہ اتنی حیرت زدہ تھی کہ کچھ دوسری ملازمائوں کو بلا لائی اور پھر مجھے انہیں سبزی خوری کے اصول پر ایک لیکچر دینا پڑا۔میں نے ان سے کہا کہ سیکڑوں برسوں سے لاکھوں ہندوستانی سبزی کھاتے ہیں اور یہ کہ سبزی کھانا گوشت کھانے سے زیادہ صحت مند طریقہ ہے اور پھر اسی طرح کی دیگر باتیں میں نے انہیں بتائیں۔ تمام ملازمائیں کافی حیرت زدہ تھیں۔ ان میں سے ایک نے کہا ’’ آپ کافی صحت مند دکھائی پڑ رہے ہیں۔‘‘

 یہاں تک کہ یونیورسٹی کے ڈاکٹر کا خیال تھا کہ صحت مند زندگی کا تعلق گوشت کھانے کے ساتھ ہے۔ جب میں بیمار ہوا تو ڈاکٹر نے اصرار کیا کہ اس کی وجہ مقوی غذا کی کمی ہے اور پھر ان کا اصرار تھا کہ میں روزانہ کھانے میں کم ازکم ایک یا دو انڈے شامل کر لوں۔جب میں نے ان سے کہا کہ میں ایسا کر نہیں سکتا تو انہوں نے مایوسی کے عالم میں اپنے ہاتھ جھٹکے اور پھر میرے لیے کچھ ٹانک لکھ دیے۔

 

ایم ایس راجن جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں پروفیسر ایمریٹس تھے۔وہ انڈین اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے سابق ڈائریکٹر تھے ۔ انڈین اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کو اب جے این یو میں اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے طور پر جانا جاتا ہے۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط