مرکز
1 2 3

جنسی مساوات کے علم بردار ادارے

نئی دہلی میں واقع امریکی سفارت خانہ کے جنسی مساوات پروگرام کا مقصد ہند میں تعلیمی شعبے کو مزید منصفانہ بنانا ہے۔ 

ایک زمانہ تھا جب ہندوستان میں اکثر خواتین کا اسکول جانا محض ایک خواب تھا۔مگر آج اعلیٰ تعلیم میں مردوں اور خواتین کی تعداد بالکل برابر ہے۔ اس خوش آئند حقیقت کا انکشاف یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی )اور کُل ہند اعلیٰ تعلیمی جائزہ(اے آئی ایس ایچ ای)رپورٹوں میں ہوا ہے۔ بعض تعلیمی شعبوں میں پی جی اور ایم ۔فل کرنے والی خواتین کی تعداد مردوں سے کہیں زیادہ ہے ۔گرچہ یہ ایک خوش گوار تبدیلی ہے مگر پھر بھی تعلیمی سیکٹر کو مزید منصفانہ بنانے کے لیے ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔اس سلسلے میں انڈیا میں امریکی سفارت خانے کے عوامی امور سے متعلق شعبے کا جینڈر اِکویٹی : ومینس اکوالیٹی ، اِمپاورمینٹ اینڈ لیڈرشپ تھرو سیف ہائیر ایجوکیشنل اینڈ ورک اسپیسیزپروگرام ایسا منفرد پروگرام ہے جس کا نفاذ  ومین اِن سکوریٹی ، کنفلِکٹ مینجمنٹ اینڈ پیس(وِسکَومپ )نے کیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہندوستانی اعلیٰ تعلیمی ادارے خواتین طلبہ اور عملہ کی ضروریات کو زیادہ سے زیادہ سمجھیں اور ان کے حقوق کے تئیں بیدار بھی ہوں۔ 

 

مساوات پر توجہ

اس پروگرام کے تحت کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جنسی حساسیت پیدا کرنے کے واسطے اساتذہ اور انتظامی عملہ کے لیے تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کل ہند پیمانے پر کیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے کیمپس میں جنس سے متعلق جانچ پڑتال کرسکیں۔

لیڈی شری رام کالج کی سابق پرنسپل اوروِسکَومپ کی بانی ڈائریکٹر میناکشی گوپی ناتھ کو اس پروگرام کا خیال ۲۰۱۲ ء میں آیا۔ یہ خیال انہیں اس وقت آیا جب یو جی سی نے انہیں جنسی تشدد اور کیمپس میں خواتین کے تئیں رویہ پر ایک رپورٹ تیار کرنے کو کہا ۔ وہ بتاتی ہیں ’’ہم نے ملک کے طول و ارض میں مختلف کالجوں اور اداروں کے دورے کیے۔ رپورٹ میں خواتین پر منظم اور ساختیاتی تشدد کے بعض حیرت انگیز حقائق سامنے آئے۔ ‘‘

جنسی مساوات پروگرام کے تحت اولین دو ورکشاپ ابھی حال ہی میں گوہاٹی اور کوچی میں تمام ہوئے ۔ اور مزید ۳ ورکشاپ جالندھر ، پونے اور بھو بنیشور میں منعقد ہوں گے۔‘‘

گوپی ناتھ بتاتی ہیں ’’ یہ مقامات ہندوستان کے ۴ الگ الگ علاقوں میں واقع ہیں۔منتخب کالج اور یونیورسٹیاں اپنے قریب ترین شہر میں منعقد ہونے والے ورکشاپ کے ساتھ اشتراک کرتی ہیں تاکہ اس سلسلے میں جو بہترین طریقہ کار ہیں ان سے ایک دوسرے کو رو برو کرا سکیں۔ ‘‘

ہند۔ امریکی ماہرین کی قیادت میں ہونے والے ان ورک شاپ کا مقصد تعلیمی شعبے کے منتظمین اور فیصلہ کرنے کی اہلیت رکھنے والے اساتذہ تیار کرنا ہے تاکہ وہ اپنے اپنے اداروں میں خواتین کے تحفظ اور کیمپس میں ان کو با اختیار بنانے کی جانب پروگراموں ، پالیسیوں اور طریقہ کار کو فروغ دے سکیں۔

  

عدم مساوات کا تدارک

گوپی ناتھ کہتی ہیں ’’ بہت سے کالجوں میں مرد وں اور خواتین کا پڑھنے لکھنے کا نظم الگ الگ کیا جاتا ہے۔کتب خانوں اور ہاسٹل میں جانے کے اوقات مختلف ہوتے ہیں ، ان کے لیے ڈریس کوڈ نافذ ہوتا ہے۔اور بعض جگہوں پر تو مردوں اور خواتین کے داخلہ دروازے بھی الگ ہوتے ہیں۔ جنسی عدم مساوات کے ان معاملات کا ختم کیا جانا ضروری ہے۔ ‘‘ 

جنسی مساوات پروگرام کے مقاصد مندرجہ ذیل ہیں :

 ٭ کیمپس میں خواتین کی حفاظت سے متعلق رکاوٹوں کی نشاندہی اور ان کا مقابلہ کرنا۔ 

٭ خواتین کے لیے ایسا سازگار ماحول پیدا کرناجس میں اعلیٰ تعلیمی سیکٹرمیں خواتین کے اندر قیادت کرنے کی نہ صرف خواہش پیدا ہوبلکہ وہ قیادت کرنے کے لائق بن بھی سکیں۔اس کے علاوہ خواتین اور مرد اساتذہ کے درمیان تفاوت کا بھی پتا لگانا۔

٭  بہترین طریقہ کار کو دستاویزی شکل دینا اور اسے مشتہر کرنا تاکہ کیمپس اور کام کرنے کی جگہ کو جنسی انصاف پر مبنی بنایا جا سکے۔  

٭ سول سو سائٹی ، صنعت اور درس و تدریس میں خواتین قائدین کے درمیان تعلق پیدا کرنا تاکہ مشترکہ طور پرکام کرنے کی جگہوں کو جنسی مساوات کے اصولوں کے تحت ڈھالا جائے اور ایک دوسرے کی قوت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس سے استفادہ کیا جائے۔ 

 

اشتراکی کاوش

اساتذہ کے علاوہ پروگرام ایسے طلبہ کی بھی نشاندہی کرتا ہے جو اساتذہ کے ساتھ مل کر ورک شاپ کے بعد تحفظ سے متعلق جانچ پڑتال کرسکیں۔ وِسکَومپ کی نائب ڈائریکٹر سیما کاکران کا ماننا ہے کہ اس طرح کے فورم کافی اہمیت کے حامل ہیں کیوں کہ ان کی وجہ سے ایسی جگہیں پیدا ہوتی ہیں جہاں آزادانہ تبادلہ خیال ہوتا ہے اور مختلف نقطہ ہائے نظر سے خود ماہرین آسانی سے تفریق اور پیچیدگیوں کی مختلف پرتوں پر تنقیدی نظر ڈال سکتے ہیں۔وہ کہتی ہیں ’’اگر ہمیں جنسی عدم مساوات کے مسئلہ کو حقیقت میں حل کرنا ہے تو ہمارے لیے جنسی تفریق کے نازک پہلوؤں کو سمجھنا نہایت اہم ہے۔ اعلیٰ تعلیمی ادارے روایتی کام کرنے کی جگہوں سے قدرے مختلف ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ جنسی عدم مساوات کو ختم کرنے کے لیے اختراعی طریقہ کار کو فروغ دیا جائے اور اس کی دست گیری کی جائے۔‘‘

ان ورک شاپس کے ذریعہ جنسی آڈٹ کے ٹیمپلیٹس تیار کرنا ان پروگراموں کا اختراعی پہلو ہے۔یہاں جو چیز سیکھی جاتی ہے اسے نمائش ، تھیٹر اور دیگر تخلیقی ذریعوں سے مشترک کیا جاتا ہے۔ ہر شریک یونیورسٹی میں  فیو چر انفلو اِنشیلس یعنی وسطی سطح کی قیادت کے اساتذہ اور انتظامی عملہ کو اختیار حاصل ہے کہ پراجکٹ کے مقاصد پر عمل در آمد کریں ۔ وِسکَومپ کالجوں اور اداروں سے پوچھ تاچھ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ 

پارومیتا پین، رینو میں واقع یونیورسٹی آف نیواڈا میں گلوبل میڈیا اسٹڈیز کی معاون پروفیسر ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط