مرکز

عالم گیر مستقبل

اے آئی آر ایس ڈبلیو ای ای ای پروجیکٹ کے تحت مخصوص خواتین کاروباری پیشہ ور امریکہ کا سفر کریں گی تاکہ انہیں اپنے کاروبار سے متعلق تجربہ حاصل ہو نے کے ساتھ ساتھ صحیح سمت میں راہنمائی بھی مل سکے۔

تجارت کی دنیا میں قدم رکھنے والے کاروباری پیشہ ور اکثرایسی غیر یقینی صورت حال اور دشواریوں کا سامنا کرتے ہیں جن کا عبور کرنا اکیلے ان کے لیے دشوار ہوتا ہے۔کسی کاروبار کے شروعاتی دَور میں اتالیق کی جانب سے ملنے والی درست مدد اور راہنمائی کاروبار کی کامیابی اور اس کی صحت پر بڑے طور پر اثر انداز ہوتی ہے۔ مگر چھوٹے شہروں اور قصبوں سے تعلق رکھنے والی خاتون کاروباری پیشہ وروں کو اس قسم کی عمدہ مدد حاصل کرنے کے مواقع بہت کم دستیاب ہوتے ہیں۔اے آئی آر ایس ڈبلیو ای ای ای پروجیکٹ کی بنیاد ایسے ہی کاروباری پیشہ وروں کو ذہن میں رکھ کر ڈالی گئی تاکہ ان کی راہنمائی صحیح طور پر ہو سکے اور یہ افراد عالمی تجارتی نظام سے واقف ہو سکیں۔

خواتین کو کاروباری پیشہ وری کے ذریعہ بااختیار بنانے سے متعلق آل انڈیا روڈ شو پروجیکٹ (اے آئی آر ایس ڈبلیو ای ای ای)اصل میں ہند کے امریکی سفارت خانے کے عوامی معاملات کے شعبہ کا مالی عطیہ پروگرام ہے جس کا نفاذ کیلیفورنیا میں واقع دی اِنڈَس انٹرپرینر س (ٹی آئی ای)اور ہند میں موجود اس کی مختلف اکائیوں کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔پروگرام کا مقصد ہند کے درجہ دوم اور سوم شہروں میں موجود خواتین کو کاروباری پیشہ وری ورک شاپ کے ذریعہ بااختیار بنا نا ہے۔ اس کے اثرات محض ان خواتین تک محدود نہیں ہیں جو اس پروگرام سے بالواسطہ طور پر راہنمائی حاصل کرتی ہیںبلکہ پروگرام کے اقدار کی وجہ سے اس کی بدولت خواتین بلاواسطہ طور پر بھی اس سے متاثر ہوتی ہیں ۔ اور اس طور پر اثرات کا دائرہ بڑا وسیع ہو جاتا ہے۔

اب یہ پروگرام اپنے تیسرے مرحلے میں ہے اور اس کی توجہ کا مرکز عالمی طور پر وہ لوگ ہیں جو اس سے فیضیاب ہوئے۔امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے مکمل طور پر کفالت پذیر ان وظائف کے یافتگان کا اعلان نئی دہلی میں حال ہی میں منعقد سہ روزہ وِمین انٹر پرینرس کونکلیو تھری پوائنٹ زیرو میں کیا گیا۔ عالمی طور پر جن کو یہ وظیفہ ملا ان کے نام ہیں : گنیا اَیگرو پروڈکٹس کی بانی اور سی ای اوتارکیشوری پلانی سامی،انسٹَینٹ رسوئی کی شریک بانی اور ڈائریکٹر شردھا سنہا کھرے اور آئی تھِنک لو جِسٹِکس کی شریک بانی زیبا سارنگ۔ ان کا انتخاب ۳۰ منتخب امیدواروں میں سے کیا گیا۔ معلوم ہو کہ ان ۳۰ کا انتخاب ۲۰ صوبوں کے ۹۰ شہروں سے تعلق رکھنے والی ۵۷۵ خاتون کاروباری پیشہ وروں میں سے کیا گیا تھا۔یہ جانکاری پروجیکٹ کی چیئر پرسن سیما چترویدی نے دی۔

عالمی وظیفہ یافتہ افراد امریکہ کے مختلف شہروں کا دورہ کریں گے اور اپنے کام کی نوعیت کے اعتبار سے موزوں کمپنیوں میں تجربہ حاصل کریں گے۔ پلانی سامی جن کی چنئی میں واقع کمپنی خوردنی تیل کو کولڈ پریسڈ(اس طریقے میں لکڑی کے ذریعہ بیجوں کو دبا کر تیل نکالا جاتا ہے۔تیل نکالنے کے لیے درجۂ حرارت ۳۵ ڈگری سیلسیس سے نیچے رکھا جاتا ہے ۔ اس طریقے میں کیمیاوی مادّوں کی آمیزش بھی نہیں کی جاتی)تکنیک کے ذریعہ صارفین کو مہیا کرواتی ہے تاکہ انہیں صحت مند اور باشعور طرزِ زندگی کی ترغیب ملے۔ پلانی سامی کہتی ہیں ـ’’میں امید کرتی ہوں کہ میری مصنوعات کو عالمی شناخت ملے گی اور میں عالمی کاروباری پیشہ وروں سے بھی بہت کچھ سیکھوں گی۔‘‘

انہیں احساسات کی گونج دیگر شرکاء کے بیان میں بھی سننے کو ملتی ہے۔ کھرے کہتی ہیں ’’ میں امریکہ میں موجود دیسی دکانوں سے یقیناََ شراکت کرنا چاہوں گی تاکہ اِنسٹَینٹ رسوئی کی مصنوعات وہاں بھی لوگوں کو میسر آ سکیں۔ ‘‘

گوالیر میں واقع ان کی کمپنی خشک خوردنی اشیاء تیار کرتی ہے جو ہندوستانی کھانوں کے غیر ملکی سیاحوں کے درمیان کافی مقبول ہیں۔ممبئی میں واقع سارنگ کی کمپنی آئی تھِنک لاجِسٹِکس مصنوعی ذہانت پر مبنی ای ۔کامرس شِپنگ سولو شنس فراہم کرتی ہے۔وہ کہتی ہیں ’’ یقینی طور پر مجھے امریکہ میں اپنی کمپنی کی تکنیک کو مزید بہتر بنانے کا بہترین موقع ملے گا۔‘‘

اے آئی آر ایس ڈبلیو ای ای ای کی اتالیق اور کو لو رَیڈو میں واقع سِکس ای ٹیکنالوجیزکی مینجنگ پارٹنرکومل گوئل کے مطابق ’’ دس دن کے پروگرام کے دوران کچھ تو تعلیم دی جائے گی ، کچھ شَیڈواِنگ (کسی کا باریک بینی کے ساتھ مشاہدہ) ہوگی اور پھر فرداََ فرداََ راہنمائی کی کلاسیز ہوں گی۔‘‘

اس کا سب سے اہم حصہ یہ ہے کہ کاروباری پیشہ وروں کو امریکہ کے دورے کا موقع ملے گا جہاںوہ اپنے مطلب کی عالمی کمپنیوں کے سی ای او کے کام کا بغور معائنہ کرسکیں گی۔کومل بتاتی ہیں ’’ ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنا جنہوں نے زندگی میں ایک مقام حاصل کر لیا ہے اوران کے روز مرہ کے معمولات کا جائزہ لینا ایک ایسا تجربہ ہے جو عام طور پر ممکن نہیں ہوتا۔یہ خواتین کاروباری صنعت کی ان ہستیوں کے کام کا بہ نظر غائر جائزہ لیں گی جن کا انہوں نے خواب دیکھا تھا اور جن کا انتخاب بھی انہوں نے خود ہی کیا ۔‘‘

اے آئی آر ایس ڈبلیو ای ای ای پروجیکٹ کی انڈیا ڈائریکٹر اور خود ایک اتالیق ریتا اگروال محسوس کرتی ہیں کہ یہ سفر کاروباری پیشہ وروں اور اتالیقوں دونوں ہی کے لیے نہایت عمدہ رہا ہے۔اس سے نہ صرف کاروباری پیشہ وروں کی تعداد میں بلکہ ان کے اعتماد ، علم اور لائحۂ عمل میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔پروجیکٹ کی ایک اور اتالیق اور آدتیہ برلا فائنینس لمیٹیڈ کے صارفین سے متعلق تجربے ، اشتراک اور خود کاری کے شعبے کی سربراہ ہرشت دیسائی اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’ مجھے ان کے اعتماد کو یقین میں بدلتے دیکھ کر اور ان کی دوسروں کو قائل کرنے کی صلاحیت دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس میں بہت زیادہ بہتری ہوئی ہے۔ان کی قوتِ برداشت اور ناسازگار حالات کا سامنا کرنے کی ان کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔‘‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ان خواتین میں سے کئی کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہو گئی ہے کہ وہ حالات کے اعتبار سے اپنے تجارتی ماڈل میں تبدیلی لا سکیں۔ کونکلیو میں فاتحین کے نام کا اعلان کرنے کے بعد انہوں نے کہا ’’ ان کاروباری پیشہ وروں میں دانشمندی ہے۔ اور یہ اتنی پُر اعتماد ہیں کہ ان کے اندر عالمی فیلوز بننے کی بھرپور صلاحیت ہے۔اور یہ بذاتِ خود ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ ‘‘

کچھ اسی طرح کے خیالات کا اظہار ہند میں امریکی سفارت خانہ کے ثقافتی معاملات کے افسرکَو نریڈ ڈبلیو ٹرنر نے بھی کیا۔ انہوں نے کہا ’’آپ میں سے اس پروجیکٹ کا حصہ بننے والا ہر فرد فاتح ہے۔‘‘

چتر ویدی کہتی ہیں ’’ اے آئی آرایس ڈبلیو ای ای ای ایک طرح سے اختراع کا مرکز بن گئی ہے جہاں خواتین کاروباری پیشہ ور کو صحیح صلاح مشورہ دیا جاتا ہے۔ ہم نے کافی وسیع سفر طے کیا ہے کیوں کہ ایسی خواتین جنہوں نے خود کی تجارت سنبھالنا تو دور کی بات ہے ، کبھی کام کرنے کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا، ان میں اتنی تبدیلی واقع ہو گئی کہ وہ اپنی نووارد کمپنیوں کی مالکہ بن بیٹھیں ۔ اب انہوں نے اس کی توسیع بھی شروع کر دی ہے ۔ اور اب ہم انہیں اپنے نئے شروع کیے گئے گلوبل فیلو شپ پروگرام کے تحت دنیا کی سیر کرا رہے ہیں ۔‘‘

وظائف سے آگے بڑھ کر پروجیکٹ ٹیم کو امید ہے کہ موجودہ شراکتوں میں مزید قوت آنے کے ساتھ ساتھ نئے رشتہ بھی قائم ہوں گے۔پروجیکٹ کی اتالیق سِمرن ساہنی ،جو کیروز اینڈ ہیلتھ زون کی شریک بانی ہیں کہتی ہیں ’’ میری خواہش ہے کہ امریکی سفارت خانہ اور ٹی آئی ای کی درمیان شراکت قائم رہے کیوں کہ اس پروگرام سے کاروباری پیشہ ور خواتین کو کافی فائدہ پہنچا ہے۔‘‘

دیسائی ان کی بات سے اتفاق کرتی ہوئی کہتی ہیں ’’ آپ کے پاس وہاں اتنے مواقع ہیں۔ اس کے علاوہ وہاں اتنی ساری خواتین کاروباری پیشہ ور ہیں جو پالا بدلنے کو تیار بیٹھی ہیں ۔ بس ہمیں ان کے سامنے حفاظتی نظام پیش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے اندر کا خوف ختم ہو جائے۔ وظیفے کے نقطہ نظر سے ہمیں ۳۰۰ خواتین کا ہدف رکھنا چاہئے۔‘‘

اے آئی آر ایس ڈبلیو ای ای ای کے لیے پیش رفت کی راہ بقول چتُر ویدی یہ ہے کہ خواتین کاروباری پیشہ وروں کے لیے یہ خود کو اختراعی عمل کا راہنما ثابت کرے۔ٹی آئی ای نظام میں اس پروجیکٹ کی حیثیت مثالی ہے۔ٹی آئی ای گلوبل کے کارگزار ڈائریکٹر وجے مینن کہتے ہیں ’’ہماری مختلف شاخیں تھیں جو کاروباری پیشہ وروں کی مدد کرتی تھیں مگر شعوری طور پر ہم نے خواتین کاروباری پیشہ وروں کی جانب کبھی توجہ نہیں کی۔ ہم نے اب ایک ٹیم تشکیل دی ہے جس میں پروجیکٹ کے کئی اتالیق شامل ہیں ۔ ا س کا مقصد ٹی ڈبلیو ای بنانا ہے جسے آپ ٹی آئی ای وِمین انٹر پرینرس کہہ سکتے ہیں۔ یہ پروگرام ٹی آئی ای کی تمام ۶۱ شاخوں میں چلے گا اور اس میں ورک شاپ اور اتالیقی کے نقطہ نظر سے اے آئی آر ایس ڈبلیو ای ای ای کے عناصر شامل ہوں گے۔‘‘

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط