مرکز
1 2 3

’’اردو عالمی زبان اور اسپَین کی حیثیت ادارہ جاتی‘‘

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی اردو ۔ ہندی ترجمان ہیلینا وہائٹ کی اردو اسپَین سے خصوصی بات چیت

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں عربی اور فارسی سمیت دوسری زبانوں کے ترجمان تو سالہا سال سے کام کر رہے ہیں مگرحال میں لندن انٹرنیشنل میڈیا ہب میں اردو۔ ہندی ترجمان کا عہدہ قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد اردو۔ ہندی جاننے والوں سے راست مکالمہ کرنا ہے۔ 

لندن انٹرنیشنل میڈیا ہب میں جنوب ایشیائی ذرائع ابلاغ کے لیے ڈپٹی ڈائریکٹر اور اردو ۔ہندی ترجمان ہیلینا وہائٹ اردو اور ہندی دونوں زبانیں اچھے تلفظ کے ساتھ نہ صرف بولنے پر قادر ہیں بلکہ دونوں کے تلفظ سے بھی واقف ہیں۔ ہیلینا وہائٹ نے اردو اسپَین کے مدیر سیّد سلیمان اختر سے نئی دہلی کے امریکی سفارت خانے میں ہوئی خصوصی ملاقات میں زبان و ادب اور ذرائع ابلاغ سے متعلق کئی امور کے علاوہ اپنی پسندکے کھانوں اور پسندیدہ اداکاروں سے متعلق بھی اظہار ِخیال کیا ۔ پیش ہیں ان سے بات چیت کے اہم اقتباسات۔ 

۱۔لندن انٹرنیشنل میڈیا ہب میں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ساؤتھ ایشین میڈیا کی ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر آپ کے فرائض کیا ہیں؟

یہ لندن میں ایک نایاب پوزیشن ہے۔ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ اس پوزیشن کے لیے کسی ہندی ۔ اردو ترجمان کا تقرر ہوا ہے۔  امریکی وزیرخارجہ نے یہ فیصلہ کیا کہ ہمیں اردو ترجمان چاہئے ۔ عربی، روسی، فرانسیسی اور اسپینی اور پرتگالی زبانوں میں کئی برسوں سے ترجمان کام کر رہے ہیں۔ کچھ سال پہلے جنوبی وسطی ایشیا کے لیے ہماری ڈپٹی اسسٹنٹ سکریٹری الیزابیتھ فشر مین دہلی میں ترجمان تھیں ۔ انہوں نے امور ِعامّہ کے بیورو سے بات کی جہاں یہ بات پہلے سے زیر غور تھی۔ اردو بولنے والی آبادی اتنی بڑی ہے کہ اس سے براہ راست بات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر خارجہ نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ انڈیا اور امریکہ کے تعلقات اورجنوبی ایشیا کے تعلقات اتنے اہم ہیں اور ان میں اتنی وسعت پیدا ہوتی جارہی ہے کہ ہمیں لوگوں سے براہ راست بات کرنی چاہئے ۔ اور جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہندوستان میں مقا می زبانوں کی اہمیت بہت زیادہ ہے ۔ زیادہ تر افراد مقامی زبان کے ذرائع ابلاغ سے اپنی خبریں لیتے ہیں تو اس طرح ہم امریکی وزیر خارجہ سے سیدھے بات کر سکتے ہیں۔

ہم ذرائع ابلاغ کے لیے اردو اور ہندی زبانوں میں ترجمے فراہم کرتے ہیں۔ بعض اوقات یہ بنگلہ ،عربی، فارسی اور فرانسیسی زبانوں میں بھی ہوتا ہے۔ صحافیوں کو پالیسی سے متعلق بیانات فراہم کرنے کام ہم برسوں سے کرتے آ رہے ہیں ۔ فیس بک کے علاوہ ٹوئیٹر کے لیے بھی۔یہ ایک وائر سروس کی طرح ہے۔ ایسا مواد جسے چھاپا جا سکے یا جسے براڈکاسٹ کیا جا سکے۔ایسا مواد جسے صحافی لے کر اسے فوراََ استعمال کر سکیں۔ اس کی وجہ سے متعدد اردو صحافیوں کے لیے یہ ممکن ہو سکا ہے کہ وہ ہمارے مواد کو لیں اور اسے استعمال کریں۔ ہم ہر ہفتے ویڈیو ہائی لائٹ بھی جاری کرتے ہیں۔ صحافی انہیں حاصل کرتے ہیں اور انہیں نشر کرتے ہیں۔ ہم مختلف زبانوں میں پیغامات ریکارڈ کرتے ہیں اور انہیں نشریاتی اداروں اور صحافیوں کے لیے جاری کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ہم سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد میں زبردست اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کُل وقتی ہندی ۔اردو ترجمان کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔ مجھے خوشی ہوگی کہ اس عہدے کی اہمیت میں اور اضافہ دیکھنے کو ملے کیوں کہ ہمیں ۶۰۰ ملین اردو۔ہندی بولنے والوں تک پہنچنا ہے۔ اسی لیے میں امید کرتی ہوں کہ اس عہدے کے وقار میں اضافہ ہوگا۔

۲۔آپ لندن انٹرنیشنل میڈیا ہب میں اردو زبان کی ترجمان بھی ہیں۔ اردو ترجمان کے طور پر آپ کی ذمہ داریاں کیا ہیں ؟

اردو زبان کے ترجمان کی حیثیت سفارت خانہ کے ترجمان کی حیثیت سے تھوڑی مختلف ہے۔ میں عام طور پر ملکوں کے دو طرفہ تعلقات کے بارے میں بات نہیں کرتی ۔ میں یہاں اس غرض سے ہوں کہ مختلف بین الاقوامی معاملات کے بارے میں امریکہ کی پالیسی سے متعلق پیغامات پہنچا سکوں۔ ابھی میں یہاں نئی دہلی کے سفارت خانہ میں آپ سے بات کر رہی ہوں مگر میرا دفتر لندن میں واقع ہے جہاں اس خطے سے تعلق رکھنے والے بیشتر ذرائع ابلاغ کے دفاتر بھی ہیں۔ اس کے علاوہ جنوبی ایشیائی میڈیا اداروںاور ہند و پاک میڈیا کے اردو دفاتر بھی لندن ہی میں واقع ہیں ۔ مجھے پسند ہے کہ میں ہندی اور اردو دونوں زبانوں کی ترجمان کی حیثیت سے بات کروں۔ 

۳۔اس نئے کردار میں آپ کے سامنے کیا چیلنج آئے اور آپ نے کس طرح ان کا سامنا کیا؟  

اگر مجموعی طور پر عوامی امور کے بیورو کی ، یا دنیا بھر میں پھیلے ہوئے میڈیا ہب کی بات کی جائے تو ہم نے محکمۂ خارجہ میں داخلی طور پر اپنے کردار کو بدلتے ہوئے دیکھا ہے۔اب زیادہ افسران کو اس بات کی تربیت دی جاتی ہے کہ وہ ذرائع ابلاغ سے بات کریں ۔ افسران کو صرف اس وجہ سے بات کرنے سے روکا نہیں جاتا کہ شایدان سے کوئی سخت قسم کا سوال پوچھ نہ لیا جائے جس کا جواب دینے کے مجاز یا تو سفیر یا انتہائی سینئر افسران ہوتے ہیں۔ ہاں مگر یہ ضروری ہے کہ اپنے پیغامات کی درست طریقے سے ترسیل ایک ایسی چیز ہے جسے سیکھنے کی ضرورت ہے اور ہم اس بات کا اعتراف بھی کرتے ہیں ۔اور مجھے لگتا ہے کہ ہم میں سے بہت سارے لوگوں نے خارجی سروس کا شعبہ اس لیے اختیار کیا ہے کیوں کہ ہم زبانوں سے پیار کرتے ہیں ، ان تمام زبانوں سے جنہیں ہم کہیں تقرری سے پہلے سیکھتے ہیں۔ اس لیے میرے لیے تو بیرون ملک کی کسی زبان کی ترجمان کی حیثیت سے کام کرنا بلاشبہہ انتہائی اہمیت کی حامل چیز ہے۔ 

لندن میڈیا ہب سے اردو ، ہندی ، بنگالی اور دیگر ہندوستانی زبانوں میں ذرائع ابلاغ کے لیے ترجمہ شدہ مواد دستیاب کروانے کے ساتھ ساتھ پالیسی امور پر بھی مواد مہیا کروایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ صحافیوں کی تربیت کا نظم بھی کیا جاتا ہے۔ اردو اور ہندی زبانوں سے وابستہ صحافی ٹوئٹر اکاؤنٹ USAUrdu@ اور USAHindiMein@کے ذریعے رابطہ کرکے انٹرویو کے لیے درخواست کر سکتے ہیں۔

۴۔ آپ نے اردو زبان کیسے سیکھی؟

اردو زبان کو میں نے اپنی کوشش سے سیکھا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہندی اور اردو زبانوں میں کئی چیزیں ملتی جلتی ہیں۔ اردو کے حوالے سے کہنا چاہوں گی کہ اسے میں نے پہلے فاصلاتی ذریعے سے سیکھنا شروع کیا پھر امیریکن انسٹی ٹیوٹ آف انڈین اسٹڈی میں سیکھا۔ اور اس عہدے پر تقرر سے تین ماہ پہلے میں نے فورین سروس انسٹی ٹیوٹ سے ۳ مہینے کا اردو کورس کیا ۔اردو سیکھنے کے لیے میں نے واشنگٹن ڈی سی میں مقیم لکھنوی استانی محترمہ فرزانہ اور پاکستانی استانی مونا سے بھی استفادہ کیا۔ گرچہ میں ہندی اور اردو دونوں زبانوں سے پیار کرتی ہوں مگر اردو اتنی شعری ہے اتنی خوبصورت زبان ہے کہ کیا بتاؤں۔ 

۵۔آپ اردو اور ہندی لکھنا پڑھنا جانتی ہیں؟

جی ہاں ، بالکل۔ میں دونوں زبانیں پڑھ اور لکھ سکتی ہوں۔اور مجھے شاعری پڑھنے میں بہت مزہ آتا ہے۔ غزلیں پسند ہیں ۔ 

۶۔کوئی پسندیدہ نظم یا شعرجس کا ذکر آپ پسند کریں؟

مجھے یاد تو نہیں۔ اگرمیرے سامنے ہو تو میں ضرور پڑھ سکتی ہوں۔ میں 

تجھ سے ناراض نہیں زندگی حیران ہوں میں  

اور 

عشق کی تنہائی میں 

کو بار بار گنگناتی ہوں۔ میرے پاس ایسا کوئی ذخیرہ تو نہیں ہے کہ میں اس سے کوئی شعر سنا سکوں مگر فیض میرے پسندیدہ شاعروں میں سے ہیں۔ 

۷۔کوئی ادیب جو خاص طور پر پسند ہو؟

مجھے گلزار پسند ہیں۔ میں جانتی ہوں کہ وہ بالی ووڈ رائٹر بھی ہیں مگر مجھے ان کی تحریریں پسند ہیں۔اور فیض احمد فیض بھی مجھے پسند ہیں۔ان کے علاوہ منٹوکی تحریریں پسند کرتی ہوں ۔ 

 ۸۔اردو کے اہل زبان جب ایک امریکی خاتون کو روانی کے ساتھ اردو بولتے دیکھتے ہیں تو ان کا رد عمل کیسا ہوتا ہے؟

عام طور پر لوگ خوش ہوتے ہیں ۔اس سے رابطے بنتے ہیں۔ یہ پہل لوگوں کے دلوں کو چھو جاتی ہے کہ آپ ان کی زبان سیکھ اور بول رہے ہیں خواہ آپ اس زبان کو بالکل درست طور پر نہ بولیں۔اگر ہم کسی کی زبان سیکھتے ہیں تو اہل زبان ہمیں دوسرے نظریے سے دیکھتے ہیں ۔ دماغ سے متعلق سائنس اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ اگر ہم ایک سے زیادہ زبانیں بولیں تو ہمارا کینوس بڑا ہو جاتا ہے۔

کبھی جب رکشہ والا یا ٹیکسی والا مجھے دیکھ کر یہ سمجھتا ہے کہ ارے یہ تو انگریز ہے ہم اسے بیوقوف بنا سکتے ہیں ۔ دام بڑھا کر بتا سکتے ہیں ۔تو میں ان سے کہتی ہوں کہ زیادہ بیوقوف مت بنائیے میں ٹورسٹ نہیں ہوں ۔صبح ناشتے کے وقت جو ویٹر میرے ساتھ تھی میں نے اس سے کہا کہ تھوڑا سا دودھ اور دے دیجئے تو وہ حیران رہ گئی کہ ہماری زبان کو کیسے آپ اتنے اچھے سے بولتی ہیں۔ گرچہ یہ عام سی بات ہے مگر یہ چیز دل کو چھو جاتی ہے۔ ظاہر ہے جب دوسری زبانوں کے جانکار انگریزی سیکھ سکتے ہیں تو ہم انگریزی بولنے والے ان کی زبانوں کو کیوں سیکھ نہیں سکتے؟

۹۔یو ایس سینس بیورو ڈیٹا ۲۰۱۷ ء کے مطابق اردو امریکہ میں جنوبی ایشیائی کمیونٹی میں بولی جانے والی دوسری سب سے بڑی زبان ہے ۔ آپ اس پر کوئی تبصرہ کرنا چاہیں گی؟

ہاں مجھے یقین ہے کہ ایسا ہی ہے۔ اردو عوام کے درمیان رابطے کی زبان ہے۔ ممکن ہے کہ یہ ان کی پہلی پسند شاید نہ ہو مگر وہ اس زبان کو سمجھ سکتے ہیں اور اس میں اظہار رائے کر سکتے ہیں۔ انگریزی کی ہی طرح اردو بھی طبقات کے درمیان رابطے کی زبان ہے۔ میں جب گریجویٹ اسکول میں تھی تواس وقت مجھے اپنی آبائی جگہ ٹیکساس میں افغانستان کی ایک فیملی کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ۔ وہاں کئی مہاجر خانوادے آباد ہیں۔ میں ان سے اردو میں بات کیا کرتی تھی۔ وہ لوگ کسی زمانے میں پاکستان کے مہاجر کیمپوں میں رہ چکے تھے جہاں وہ بالی ووڈ فلمیں دیکھا کرتے تھے ۔ اس لیے وہ لوگ اردو سمجھ سکتے تھے اور ہم اردو میں باتیں کیا کرتے تھے۔میں ان سے اب بھی فیس بک کے معرفت اردو کے ذریعہ رابطے میں ہوں ۔

۱۰۔آپ کے خیال میں لوگ اردو کی جانب متوجہ کیوں ہوتے ہیں ؟

یہ ایک تاریخی زبان ہے ۔ اس کا آہنگ بہت اچھا ہے۔یہ بہت میٹھی زبان ہے۔ اس میں جنوب ایشیائی ثقافت کی چھاپ ہے۔شاید یہی باتیں امریکی باشندوں کو اس زبان کی جانب کھینچتی ہیں ۔ یہ ایسی زبان ہے جو بالکل موسیقی کی مانند ہے۔ اور یہ یقینی طور پر ایک عالمی زبان ہے۔ لندن کی سڑکوں پر ہر روز میں لوگوں کو اردو میں بات کرتے ہوئے سنتی ہوں،میں خود اردو بولتی ہوں۔ یہی حال امریکہ میں بھی ہے اور کینیا میں بھی ۔ کینیا میں مَیں نے ۳ برس تک کام کیا ہے۔ میں وہاں اردو میں بات کیا کرتی تھی۔ اس لیے کہ یہ وہاں تاجروں کی زبان ہے۔ اور اس سے میرا کام آسان ہوتا ہے۔میرے اندر زبانوں کو سیکھنے کا جذبہ بھی ہے۔ جب میں فرینک فرٹ میں ہوتی ہوں تو ٹیکسی ڈرائیور سے اردو میں بات کرتی ہو ں ۔لندن میں چائے کی دکان میں ہندی میں بات کرتی ہوں۔ اردو ایک زندہ زبان ہے جو اپنے اندر دوسری زبانوں کے الفاظ اور ثقافت کو سموتی ہے۔جنوبی ایشیا وہ خطہ ہے جہاں زبانیں زندہ رہتی اور پھلتی پھولتی ہیںاور یہیں سے یہ دنیا کے دوسرے خطوں کا سفر کرتی ہیں۔

۱۱۔آپ کے پسندیدہ اداکارکون ہیں؟ 

گرچہ میں نے حال میں کوئی بالی ووڈ فلم تو نہیں دیکھی مگر ۷۰اور ۸۰ کے دہے کی متوازی فلمیںمجھے پسند ہیں ۔ شبانہ اعظمی اور نصیر الدین شاہ میرے پسندیدہ اداکار ہیں ۔ نئی نسل میں عامر خان کی اداکاری بھی بہت بھاتی ہے۔ان کے علاوہ ماہرہ خان کی اداکاری بھی مجھے اچھی لگتی ہے ۔ ویسے میں نے ان کا ٹی وی کا کام زیادہ دیکھا ہے مگر شاہ رخ خان کے ساتھ آئی ان کی فلم رئیس میں بھی ان کی اداکاری مجھے اچھی لگی۔ 

۱۲۔ہندوستانی ذائقوں میں کیا پسند کرتی ہیں؟ 

جب بھی میں ہندوستان آتی ہوں تو واپسی میں میرا وزن ۵ کلو بڑھ جاتا ہے۔ میں بھنڈی مسالہ پسند کرتی ہوں۔ ہر قسم کے قورمے اور کباب کے علاوہ مجھے سبزی بہت پسند ہے۔ میری خوش دامن برطانوی ہیں اور وہ گوشت کے ساتھ ابلی ہوئی سبزی پکاتی ہیں جو بہت مزیدار ہوتی ہے۔یہاں سبزیوں کو خاص طرح سے مسالوں کے ساتھ پکانا انہیں بہت ذائقے دار بنا دیتا ہے۔ الگ الگ سبزیوں کا ذائقہ بالکل جداگانہ ہوتا ہے۔ چپاتی اور دہی میں روز کھا سکتی ہوں۔ یہاں نان بھی ٹھیک ہوتی ہے مگر پھُلکا اور چپاتی کا تو جواب ہی نہیں۔ 

۱۳۔کیا اردو اسپَین کے قارئین کو کوئی پیغام دینا چاہیں گی؟

میں اسپَین کو پسند کرتی ہوں ۔ میں نے اسے سالہا سال تک پڑھا ہے۔ اس جریدے کے توسط سے امریکی ثقافت کو بہتر طور پر جانا جا سکتا ہے۔ جب میں اپنی ثقافت کی بات کرتی ہو ں تو اپنی متنوع ثقافت کی بات کرتی ہوں۔اور امریکی ثقافت کے بارے میں چھپا اسپَین کا یہ شمارہ بھی یہی کہتا ہے کہ ہماری ثقافت کئی ثقافتوں کا مجموعہ ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہم لوگ عالمی زبانوں کے ترجمان کی مانند ہیں۔ ہم اپنے مختلف سفارت خانوں میں متعین سفارت کاروں کو مختلف زبانوں کی تربیت دیتے ہیں۔ ہم دوسری ثقافتوں کو جاننے کے بارے میں فطری دلچسپی کا مظاہرہ کرنے والے لوگ ہیں۔ اسپین ان تمام باتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ میں نے اس جریدے کو امریکہ میں بھی حکومت کے مختلف اداروں میں دیکھا ہے۔ اس کی حیثیت ایک ادارہ کی ہے۔ اور میں اسے زبان کی اپنی مشق کے لیے استعمال کرتی ہوں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط