مرکز

مواقع کی تلاش

ایم آئی ٹی۔ انڈیا پروگرام مساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے  طلبہ کو انڈیا کی مقدم کمپنیوں اور تنظیموں میں انٹرن شپ اور تحقیق کے امکانات کو موافق بناتا ہے۔

۳دہائیوں سے مساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی)ہر برس اپنے طلبہ کو انڈیا میں انٹرن شپ اور تحقیق کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ حالیہ برسوں میں ایم آئی ٹی انڈیا پروگرام کو بہت تیزی سے ترقی ملی ہے اور اب یہ امریکی اعلیٰ تعلیمی منظر نامے میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔ اس پروگرام کی وجہ سے ۲۰۱۸ ء میں ۹۰۰ سے زیادہ طلبہ انڈیا آئے۔ 

بیشتر طلبہ مختلف قسم کی تنظیموں(جن میں بڑی کمپنیاں، چھوٹی ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپ کمپنیاں،غیرحکومتی تنظیمیں، سرکاری ایجنسیاں اور
بین الاقوامی تنظیمیں شامل ہیں) میں انٹرن شپ کرتے ہیں۔دیگر یا تو تحقیقی تجربہ گاہوں میں کام کرتے ہیں یا ملک کی مسلسل بڑھتی ہوئی ضروریات کی تکمیل کے لیے سرگرم تجارتی اداروں میں یا نئے پروڈکٹ پر تجربہ کرنے کے لیے میکر لیبس یا انٹر پرینر بوٹ کیمپس میں ہندوستانی طلبہ کے ساتھ کام کرنے لگتے ہیں۔ 

ایم آئی ٹی کے جو طلبہ اس پروگرام میں حصہ لیتے ہیں انہیں عالمی درجہ کی درسگاہوں والے اور ایک بڑی ، متحرک معیشت والے ملک میں گراں قدر بیرونی تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کون سی چیز ہندوستانی کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کو اس عمل میں شریک ہونے کی تحریک دیتی ہے ؟

انٹرویو کے وقت اس پروگرام کی مینیجنگ ڈائریکٹر مالنی مالا گھوش(انہوں نے حال ہی میں اسٹڈی ایبروڈ اینڈ گلوبل ایجوکیشن کی سینئر ڈائرکٹر کی حیثیت سے ٹَفٹس یونیورسٹی میں شمولیت اختیار کی ہے) نے بتایا ’’ انڈیا میں ایسے بہت سے کاروباری پیشہ ور ہیں جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر تعلیم حاصل کی ہے۔ ایم آئی ٹی میں ہمارے طلبہ زیر عمل تکنیک سیکھتے اور تیز رفتار نمونہ سازی کرتے ہیں جب کہ انڈیا میں روایتی طور پر زیادہ علمی یا نظری طرز عمل اپنایا جاتا ہے ۔ اس لیے دونوں ایک دوسرے کا تکملہ کرتے ہیں۔‘‘

اس پروگرام میں ایم آئی ٹی کے انڈر گریجویٹ اور گریجویٹ دونوں طرح کے طلبہ شامل ہو سکتے ہیں۔ بیشتر طلبہ انڈیا میں موسم گرما کے ۳ ماہ گزارتے ہیں ، گوکہ ان کا قیام ۲ ہفتے سے لے کر ۱۲ مہینوں تک کا ہو سکتا ہے۔ ۲۰۱۷ ء میں ایل وی پرساد آئی انسٹی ٹیوٹ میں ایم آئی ٹی کی انٹرن  سیرینا لی کے سر ایک کم لاگت والے  تھری ڈی پرنٹیڈ میڈیکل آلہ کی ایجاد کا سہرا جاتا ہے ۔ 

دیگر زیر تربیت طلبہ نے سڑک سلامتی یا پینے کے پانی کا معیار بہتر کرنے جیسے اہم امور پر کام کیا ہے۔بعض طلبہ درس و تدریس سے بھی وابستگی اختیار کرتے ہیں۔ مثال کے طو ر پر ، ایسے ہی ایک پروگرام کے دوران ، ایم آئی ٹی سے فارغ ۱۰ طلبہ نے آئی آئی ٹی کھڑگ پور میں ایک مہینے کے روبوٹِکس کلاس کی قیادت کی۔ 

ایم آئی ٹی کے اساتذہ طلبہ کو انڈیا لاتے ہیں ، انہیں مختصر کورس اور ورک شاپ کرواتے ہیں اور انہیں ساتھ لے کر سمپوزیم اور کانفرنسوں میں شرکت کرتے ہیں۔ان میں سے بعض نے یہاں اہم اداروں میں اپنے رفیقوں کے ساتھ تحقیقی شراکت داری کر رکھی ہے۔

ایک ہندوستانی باپ اور امریکی ماں کی بیٹی مالتی گھوش نے بتایا ’’ ہمارے اساتذہ انڈیا میں ضروریات کی نشاندہی کے لیے یہاں کے اساتذہ کے ساتھ مل کر ڈھیر سارا کام کرتے ہیں۔ چوں کہ ہمارے طلبہ اور اساتذہ کے مفادات وہی ہیں جو انڈیا کے اہم مفادات ہیں ۔ اس لیے وہ آسانی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل جاتے ہیں۔ ‘‘

مذکورہ مفادات میں توانائی ، ماحولیات، آب و ہوا اور صحت کی دیکھ بھال، میڈیکل انجینئر نگ اور بایو فارما سیوٹیکلس ،خوراک ، زراعت، آبی انتظام اور شہری منصوبہ بندی شامل ہیں ۔ یہ پروگرام طلبہ اور اساتذہ کے لیے عالمی تجربات اور تعاون کو فروغ دینے کی ایک زیادہ بڑی اسکیم کا حصہ ہیں۔ایم آئی ٹی کی انٹرنیشنل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انی شی ایٹوس (ایم آئی ایس ٹی آئی)دنیا کے ۲۴سے زائد ملکوں اور خطوں میں کام کرتی ہے ۔

ایم آئی ٹی انڈیا پروگرام ۱۹۹۸ ء میں شروع کیا گیا تھامگر اس سے پہلے بھی آپسی تعاون کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ ۱۹۶۰ ء کی دہائی میں ایم آئی ٹی نے آئی آئی ٹی کانپور، آئی آئی ایم کولکاتہ اور پلانی کے برلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے قیام میں سرگرم کردار ادا کیا تھا۔اسی لیے آج ایم آئی ٹی اس بات پر ناز کر سکتی ہے کہ اس کے پاس ہند نژاد سابق طلبہ، اساتذہ اور طلبہ کی ایک بڑی تعداد ہے۔ 

اس پروگرام میں شرکا کاانتخاب پیشگی طور پر تعلیمی کارکردگی کی سطح، تحریک اور اساتذہ کی سفارشات کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اس میں شرکت کے لیے ایم آئی ٹی کے طلبہ کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان کو ۴ اعشاریہ صفر یا اس سے بہتر گریڈ ملے ہوں۔ انڈر گریجویٹ طلبہ کے لیے لازمی ہے کہ انہوں نے جنوبی ایشیا کی سیاست، ثقافت ، تاریخ اور تجارت پر ایک کلاس میں شرکت کی ہو۔ تمام طلبہ کے لیے اپنی ذاتی تفصیلات ، پروگرام میں شرکت کے لیے ملنے والی تحریک کے بارے میں ایک مراسلہ ، غیر رسمی رو نوشت اور سفارش نامے جیسے دستاویزات جمع کرنا ضروری ہے۔اس پروگرام کے تحت ہوائی جہاز کا کرایہ ملتا ہے اور ویزا اور قیام و طعام کا خرچ پورا کرنے کے لیے وظیفہ دیا جاتا ہے ۔گھوش نے باخبر کیا ’’ہم جتنے طلبہ اور اساتذہ کی مالی اعانت کر سکتے ہیں ان سے زیادہ طلبہ اور اساتذہ اس پروگرام میں شرکت کے لیے آنا چاہتے ہیں۔ ‘‘ 

حالیہ برسوں میں اس پروگرام کے انٹرن شپ اور تحقیق کے مواقع میں بین مذاہب طرز عمل شامل ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر آئی آئی ٹی کھڑگ پور میں آپسی تعاون کے ایک پروگرام میں علومِ آب، شہری منصوبہ بندی ، جائیداد کے حقوق ، یہاں تک کہ شہری تحفظ بھی شامل کیا گیا ہے۔ 

ایک اور رجحان کم لاگت والی اور سستی ٹیکنالوجی کے فروغ میں بڑھتی ہوئی دلچسپی بھی ہے۔ گھوش نے اس پر یوں تبصرہ کیا’’ہمارے اساتذہ صرف پڑھانے کے لیے انڈیا نہیں جاتے بلکہ یہ سیکھنے کے لیے بھی جاتے ہیں کہ کیسے ہندوستانی محققین ، کمپنیاں اور سرکاری ایجنسیاں کم لاگت کے حل تلاش کرتی اور بڑے پیمانے پر ان کی تشہیر کرتی ہیں۔‘‘

 

برٹن بولاگ واشنگٹن ڈی سی میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط