مرکز

قطرہ سے دریا بننا

۱۱۔۲۰۱۰تعلیمی سال کے فل برائٹ ماحولیاتی قائدانہ پروگرام کا حصہ رہ چکے پرمود دیش مُکھ ہند کے دیہی علاقوں میں پانی کے تحفظ کے پروگرام تیار کرتے ہیں۔

پانی کی حیثیت ایک قیمتی سرمایہ کی ہے۔مگر عالمی بینک کے مطابق انڈیا دنیا کے سب سے زیادہ پانی کی تنگی والے ملکوں میں شامل ہے۔ ۱۹۵۰ ء میں ملک میں پانی کی دستیابی فی کس ۳ہزار سے ۴ ہزار مکعب میٹر تھی۔ آج صورت حال یہ ہے کہ آبادی میں اضافہ ہونے کی وجہ سے یہ دستیابی فی کس ۱۱۰۰ مکعب میٹر تک سمٹ گئی ہے۔

آب و ہوا کی تبدیلی سے پانی کے پیچیدہ اور محدود وسائل پر مسابقت نے ملک کے غذائی تحفظ، کاشتکاروں کے ذریعہ معاش کے ساتھ ساتھ ملک کی معاشی ترقی کے بارے میں بھی تشویش پیدا کردی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہند میں زراعت کا انحصار بنیادی طور پر بارش پر ہے۔ بدلتی آب و ہوا نہ صرف بارش کو متاثر کر رہی ہے بلکہ کاشت کے لیے ضروری مٹی کی نمی پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔

تاہم بہت سارے افراد اور تنظیمیں صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ایسے ہی ایک فرد ماہر ماحولیات پرمود دیش مُکھ ہیں۔ وہ سنسکرت سموردھن منڈل (ایس ایس ایم )کے چیئر مین ہیں جو ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے ۔ اس تنظیم کا ۳۰ ہزار کنبوں کی زند گیوں اور ذریعۂ معاش کو بہتر بنانے کا ۶۰ برس کا  ٹریک ریکارڈ ہے۔ دیش مُکھ کہتے ہیں ’’ ہم نے ۱۹۹۲ میں اپنا  واٹر شیڈ ڈیولپمنٹ پروگرام شروع کیا تھا جس کا مقصد پائیدار دیہی ترقی کو یقینی بنانا ہے۔ اس وقت سے اب تک چاربڑے واٹر شیڈ پروجیکٹ مکمل ہو چکے ہیں جن سے ۱۹ گاؤں میں ۶ ہزار خاندان فیضیاب ہو رہے ہیں۔اس کے علاوہ ۱۰ اضافی گاؤں کو  انٹیگریٹیڈ واٹر شیڈ مینجمنٹ پروجیکٹ کے ذریعہ خدمات پیش کی جائیں گی جومشترکہ طور پر ایس ایس ایم اور مہاراشٹر حکومت کے زیر انتظام ہے۔قومی بینک برائے زراعت اور دیہی ترقی(نبارڈ )کے ذریعہ منظور شدہ موسمیاتی تبدیلی مطابقت پروگرام کسانوں کواس بات کا اختیار دیتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کر سکیں۔‘‘

دیش مُکھ کے مطابق ایک مربوط پروگرام کا وضع کیا جانا کامیابی اور استحکام کی کلید ہے جس کی ترقی میں کنبہ کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔اس پروگرام کے لیے تربیت اور ہنر مندی کو فروغ دیے جانے کی ضرورت ہے جس میں پوری برادری کی شراکت داری ہو تاکہ اس پروگرام کے تمام شرکا ء کی ملکیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ وہ کہتے ہیں ’’ شرمدان اصل میں پسینہ بہانے کا عمل ہے جو پروگرام کی ایک انوکھی خصوصیت ہے کیوں کہ لوگ اس میں رضاکارانہ محنت سے منصوبے کے کُل خرچ کا تقریباََ ۲۰ فی صد حصہ تعاون کرتے ہیں جس میں تمام  فیلڈ ورک انسانی مزدوری کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ تکنیکی اور معاشرتی اجزا کو یہاں مساوی اہمیت دی جاتی ہے جیسے طبقاتی تنظیم جہاں گاؤں کی خواتین قائدانہ کردار ادا کرتی ہیں۔ ‘‘

ایس ایس ایم پیشہ ورانہ تربیت ، زمین کو جنگل بنانے کے عمل ، معاشرتی رہائش، صفائی ستھرائی اور آبی خواندگی مہمات کے ذریعہ دیہی طبقات خصوصاََ خواتین اور لڑکیوں کو بااختیار بنانے کے لیے بھی کام کرتا ہے۔ ایس ایس ایم پیشہ ورانہ تربیت، زمین کو جنگل بنانے کے عمل، معاشرتی رہائش، صفائی ستھرائی اور آبی خواندگی مہمات کے ذریعہ دیہی برادریوں خصوصاً خواتین اور لڑکیوں کو بااختیار بنانے کے لیے بھی کام کرتا ہے۔

دیش مُکھ نے بتایا کہ ایس ایس ایم کے بہت سارے منصوبوں میں قدرتی وسائل کی بحالی ، بارش کے پانی کا تحفظ ، زمینی پانی کی بحالی اور مٹی میں پانی جذب ہونے کی شرح میں اضافہ شامل ہے۔وہ کہتے ہیں ’’ لوگ ماحولیاتی خرابی کی بنیادی وجہ ہیں اور انہیںخود اس حل کا حصہ بننا چاہئے۔ جیسا کہ کیدار وڈ گاؤں کے ایک چھوٹے سے گاؤں کا معاملہ ہے جہاں ۱۹۷۲ ء میں بنائی گئی ایک جھیل برسوں سے گاد سے بھر گئی تھی۔ گاؤں والوں نے یہاں موجود کیچڑ کو کھیتوں میں منتقل کر دیا تاکہ اسے کھاد کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔ اس کے بعد جھیل میں پانی رکھنے کی گنجائش کو ۲۰۱۴ ء والی سطح پر بحال کر دیا گیا تاکہ پانی کو پینے کے لیے اور زرعی ضرورت کے لیے کام میں لایا جا سکے۔

۱۱۔۲۰۱۰ ء کے فل برائٹ ۔ نہرو ماحولیاتی قائدانہ پروگرام کے وظیفہ یافتہ دیش مُکھ نے امریکہ میں  پرڈیو یونیورسٹی میں مٹی اور پانی کے اختراعی تحفظ کے ساتھ ساتھ ری سائیکلنگ ٹیکنالوجیز  کا مطالعہ کیا۔ دیش مُکھ نے مہاراشٹر کے سگرولی گاؤں میںاس منصوبہ سے استفادہ کرنے والے ۳ ہزارافراد کو پانی کے تحفظ اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبہ  ٹرِکل ٹو اسٹریم کے نفاذ کے لیے فیلو شپ کے دوران تیار کردہ روابط کا استعمال کیا ۔انہوں نے  کمبرلی کلارک سے آبی ذخیرہ کرنے کی اپنی اسکیموں کے لیے بھی حمایت حاصل کی۔ کمبرلی کلارک ایک امریکی کارپوریشن ہے جس سے دیش مُکھ نے یونیورسٹی میں اپنی مدت کار میں آگاہی حاصل کی تھی۔مٹی اور پانی کے تحفظ کی تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے اس منصوبے سے علاقے میں ہونے والی بارش کی زمین کے اندر تک رسائی کی شرح ۲۰ فی صد سے بڑھ کر ۸۰ فی صد ہوگئی ۔ اسی کی بدولت فی ایکڑ پانی کے تحفظ میں اضافہ ۱۰۶۰ ملین لیٹرتک ہو گیا ہے جو پہلے ۲۶۵ ملین لیٹر تھا ۔ اس سے سگرولی کے ۱۰ ہزار گاؤں کے لیے پانی کی فراہمی کی صورت حال بہتر ہوئی ہے۔

اپنے والد کیشو دیش مُکھ والے عزم کے ساتھ (جنہوں نے ۱۹۵۹ ء میں ایس ایس ایم کی بنیاد اس خطے کی ترقیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ڈالی تھی)، پرمود دیش مُکھ موجودہ دور کے چیلینج کو مواقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’ کاشتکار طبقہ آب و ہوا کی تبدیلی اور زراعت کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور منافع کے کم ہونے سے بہت مایوس ہے۔لیکن ہم اپنی توجہ روایتی زراعت سے ہٹا سکتے ہیں اور کسان پیداواری کمپنیاں تشکیل دے کر گروہی کاشتکاری کی بازیافت کرسکتے ہیں۔دیش مُکھ نے بتایا کہ گاؤں والے  واٹرشیڈ ڈیولپمنٹ کے مثبت نتائج کو اخذ کرسکتے ہیں اور دودھ کی صنعت یا مچھلی صنعت کے فروغ جیسے نئے زرعی کاروبار شروع کرسکتے ہیں جس کا مقصد بڑھتے ہوئے قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھاناہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا ’’ ہمیں میکانک سازی میں ہنرمندی کے فروغ سے متعلق پروگرام پیش کرنے اوراپنے غیر متاثر نوجوانوں کو زرعی شعبہ میں خود کار تکنیک کے استعمال میں تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ ‘‘

 

ہلیری ہوپیک کیلی فورنیا کے اورِنڈا میں مقیم ایک آزاد پیشہ مصنف ، اخبار کی سابق ناشر اور نامہ نگار ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط