مرکز
1 2 3

آسماں پہ نقش ونگار

 فُل برائٹ نہرو ماسٹرس فیلو پرتھِما مُنی یَپّا خاکہ کشی کی انقلابی طاقت کا استعمال کرکے حاشیے پر رہنے والے دیسی طبقات کو بااختیار بنانے کا کام کررہی ہیں ۔ اس کے لیے وہ خلائی تکنیک اور ڈیزائن کا استعمال کرتی ہیں۔ 

فُل برائٹ ۔نہرو ماسٹرس فیلوپرتھمامُنی یَپّا کی عملی زندگی بطور ڈیزائنر خاصی خلاف توقع رہی ہے۔وہ خود بتاتی ہیں ’’ بطور ڈیزائنر باقاعدہ تربیت یافتہ ہونے کے باوجود عملی زندگی کے اپنے سفر میں مجھے عجائب گھر کی خاکہ کشی کرنی پڑی ، تاریخی عمارتوں کا تحفظ کرنا پڑا،  ماہر علومِ بشریات کے طور پر قبائل کے درمیان کا م کرنا پڑا ، بحیثیت فن کار بھی کام کرنا پڑا اور اب میں خلائی جستجو اور سماجی انصاف کے کاموں میں مصروف ہوںجہاں خلا کی مدد سے خاکہ کشی کرتی ہوں۔‘‘

انہوں نے احمد آباد سے  نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزائن سے نمائش کی خاکہ کشی میں ڈگری حاصل کی۔ ایک برس بعد جب وہ  یَنگ انڈین فیلو تھیں تو انہیں لگا کہ گفتگو اورگہری ہونی چاہئے ’’محض تکنیکی پہلو سے ہی نہیں کہ ہمیں بس یہ سیکھنا ہے کہ پتھر ، اینٹ اور گارے کو کیسے محفوظ کیا جائے ، بلکہ ان چیزوں سے بنے ورثے کی مادّیت کے لطیف نکتوں کو بھی سمجھنے کا ہنر آنا چاہئے۔‘‘

لہٰذا انہوں نے فُل برائٹ۔ نہرو اسکالر شپ کے تحت  ہارورڈ یونیورسٹی گریجویٹ اسکول آف ڈیزائن کے  کریٹیکل کنزرویشن ماسٹر پروگرام میں داخلہ لیا۔ وہ بتاتی ہیں ’’تحفظات سے متعلق زیادہ تر پروگراموں میں علم ِ تحفظات کے تکنیکی پہلوؤں پر زیادہ زور دیا جاتاہے مگر میرا کورس ماضی ، حال ،قدیم ، جدید ، پائیداری ، معدودیت ،جدیدیت اور روایت وغیرہ کی عام توجہ والی چیزوں سے کافی آگے تھا۔ اس میں تاریخی عمارتوں کو مرکزی حیثیت حاصل تھی جس میں طاقت ، شناخت اور سماجی انصاف جیسے مسائل پر بحث کی جاتی تھی۔   

اپنے ماسٹرس پروگرام (جس میں شمولیت اور پائیداری پر زور دیا گیا تھا) کے ذریعہ مُنی یَپّا نے اصولی اور تکنیکی علم حاصل کیا جسے انہوں نے اپنی عملی زندگی میں بھی نافذ کیا۔ان کو لگتا ہے کہ تاریخی عمارتوں کے تحفظ جیسے پروگرام بین مضامینی ہونے چاہئے۔ ان کے خیال میں ایسے کسی شعبۂ تعلیم کو وسیع معاشی تانے بانے کے درمیان ایک تعلق قائم کرنے والا ہونا چاہئے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے والا ہونا چاہئے اور کمیونٹی کی قیادت کی تیاری میں مدد گار بھی ہونا چاہئے۔اور ان تمام چیزوں کو پائیدار اور منصفانہ طریقے پر ہونا چاہئے تاکہ ثقافتی یادداشت میں مزید اضافہ ہو سکے۔ ‘‘  

ہارورڈ یونیورسٹی میں اپنا کورس مکمل کرنے کے بعد مُنی یَپّا نے اپنا دوسرا ماسٹر پروگرام  میڈیا آرٹس اینڈ سائنس میں  مسا چیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میڈیا لیب میں شروع کیا۔وہ بتاتی ہیں ’’ میں محققین کے اسپیس انیبلڈ گروپ سے وابستہ ایک تحقیق کار ہوں۔ اس گروپ کا مقصد زمین کے پیچیدہ نظاموں میں خلا سے افزودہ ٹیکنالوجیوں اور ڈیزائنوں کے ذریعہ سماجی مسائل کو حل کرنا ہے۔ ‘‘

جو تجربہ اور جوہر انہیں یہاں حاصل ہوا اس کا استعمال وہ قبائل سے رشتہ اُستوار کرنے کے لیے کریں گی اور کوشش کریں گی کہ ’’ ان چیزوں کی آواز بھی سنی جائے جو اب تک عدم توازن کی بنا پر حاشیہ پر ہیں جیسے تشخصی سیاست مثلاََ ندیا ں یا ماحولیاتی نظام یا پھر اجداد کا مردہ زبانوں کے توسط سے بات کرنا جسے وہیل مچھلی کے علاوہ اور کوئی سن نہ سکتا ہو۔ ‘‘  

وہ بتاتی ہیں کہ خانہ بدوش بچپن، جو کہ بادِ صبا کی طرح بالکل آزاد تھا ،نے قبائلی روایات کی جانب توجہ مبذول کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ اسی نے تشخص اور مقام کے درمیان اس رشتہ پر تحقیق کا بیج بو دیا جس سے ثقافتیں جنم لیتی ہیں۔ ‘‘

انہوں نے دنیا کے دور دراز علاقوں (بادلوں کے جنگل سے لے کر خشک ریگستانوںتک )کا سفر کیا تاکہ قبائل کے ساتھ رہ کر ان کے بارے میں معلومات حاصل کرسکیں۔ اسی طرح کے ماحول اور رسوم نے انہیں بحیثیت ڈیزائنر اور تحفظ پسند کام کرنے کی ترغیب دی۔ ان کا اصرار ہے کہ روایتی قبائلی علوم ، رسوم اور لوک طریقے کے متعلق تحقیق کرتے ہوئے ان کی ڈیزائن تحقیق ، قدرت اور ثقافت جیسے زمروں میں آسانی کے ساتھ ضم ہو جاتی ہے۔ پھر خواہ بنگلہ دیش میں ململ بننا ہو یا پھر جنگلوں کی حفاظت کے لیے مقدس پیڑوں کے جھُنڈ رکھنا ہو۔ پیڑوں کے مقدس جھُنڈ ثقافتی یا روحانی طور پر اہم مقامات کے تحفظ کا طبقات کا ایک روایتی طریقۂ کار ہے۔ 

فُل برائٹ ۔ نہرو اسکالر ہونے کے اپنے تجربے سے متعلق وہ کہتی ہیں ’’یہ نہایت لا جواب تجربہ ہے۔ اس مدد کے بغیر مجھے نہیں لگتا کہ میں یہ تخصص والا کورس کر پاتی۔ اس کی وجہ سے مجھے موقع ملا کہ میں ان اسکالرس سے ملاقات کر سکوں جن سے مجھے ترغیب ملی، ان سے سیکھ سکی اور دنیا بھر میں اپنی تحقیق کے سلسلے میں گھوم سکی۔ میرے لیے یہ واقعی زندگی بدل ڈالنے والا ایک تجربہ تھا۔ ‘‘

 

رنجیتا بسواس کولکاتا میں مقیم ایک صحافی ہیں ۔ وہ افسانوی ادب اور مختصر کہانیوں کا ترجمہ بھی کرتی ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط