مرکز
1 2 3

جامع تعلیم کا فروغ

 فل برائٹ ڈِسٹِنگوِشڈایوارڈ اِن ٹیچنگ پروگرام فار انٹرنیشنل ٹیچرس میں شرکت کر چکی سبھا چندر شیکھر خصوصی ضرورتوں  والے بچوں کے لیے تعلیم کوجامع بنانے کے کام میں مصروف ہیں۔

 سبھا چندر شیکھرنئی دہلی کے روہینی علاقے کے دہلی پبلک اسکول(ڈی پی ایس )میں دماغی صحت کے شعبہ کی سربراہ ہیں۔ ان کے پاس انڈیا میںجامع تعلیم کے شعبے میں ۲۲ برس سے زیادہ کام کرنے کا تجربہ ہے۔ وہ خصوصی ضرورت والے بچوں اور معاشرے کے کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے بچوں کو مین اسٹریم اسکولس میں جامع تعلیم دلوانے کے لیے کوشش کرنے والوں میں سے ایک ہیں۔ 

 چند ر شیکھر ۲۰۱۹ ء میں  فل برائٹ ڈِسٹِنگوِشڈایوارڈ اِن ٹیچنگ پروگرام فار انٹرنیشنل ٹیچرس میں شرکت کرچکی ہیں۔ ان کی تحقیق میں توجہ کا مرکز نئی اور لچکدار نصابی درسیات ہیں جنہیں انڈیا میں مین اسٹریم اسکولوں میں اپنایا جا سکتا ہے اور مختلف الاوصاف جماعت والے کلاس روم میں مؤثر ڈھنگ سے نافذ کیا جا سکتا ہے۔ وہ ایک درسیاتی مشق کی پُر زور طرفدار ہیں جس سے جامعیت کو زیادہ فروغ مل سکے اور ہند و امریکہ دونوں ملکوں میں کلاس روم کے اندر معاون ٹیکنالوجی کا استعمال ہو سکے۔ پیش ہیں ان سے کیے گئے انٹرویو کے اقتباسات۔

جامع تعلیم کیا ہے اور اس کے کچھ اہم اہداف کیا ہیں؟

 ۲۱ ویں صدی میں پوری دنیا میں کلاس روم میں لازمی طور پر ایک سے زیادہ ثقافتوں کے طلبہ شریک ہوتے ہیں ۔ جامع تعلیم کا مقصد علاحدہ اہلیت والے اور ثقافتی ، اقتصادی اور سماجی پس منظر سے بالاتر ہر طالب علم کو مساوی اور ایسی تعلیم فراہم کرنا ہے جس تک سب کی رسائی ہو۔ میری نظر میں جامع تعلیم ایک ایسا جاری رہنے والا عمل ہے جس میں اساتذہ اور طلبہ دونوں شریک ہوتے اور اپنی بات کہتے ہیں۔اس کا ہدف اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کوئی بچہ پیچھے نہ رہ جائے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکمت عملی اور طریقۂ کار پر مسلسل نظرِ ثانی کرکے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ طلبہ کے سامنے ایک ہدف ہو اور ان کے اندر زندگی بھر سیکھنے کا جذبہ برقرار رہے۔

کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ خصوصی ضرورتوں والے طلبہ اور انڈیا کے مین اسٹریم کے اسکولوں میں کمزور طبقات کے بچوں کو یکجا کرنے کا آپ کا کام کیا ہے؟

 میں نے ۱۹۹۹ء میں خصوصی ضرورت والے بچوں کو شامل کرنا شروع کیا۔میں معروف و مقبول اسکولوں میں اساتذہ کو اس نیت سے راہنمائی فراہم کرنے کے لیے جایا کرتی تھی کہ ان اسکولوں میں موجود مختلف اہلیتوں کے بچوں کو پڑھانے میں ان کی مدد کرسکوں ۔۲۰۰۱ء میں دہلی پبلک اسکول کی روہینی میں موجود شاخ میں کُل وقتی خصوصی مدرس اور مشیر کی حیثیت سے شمولیت اختیار کر لی۔میں نے ایسے زیر ملازمت اساتذہ کے لیے اکائیاں تیار کیں جو مختلف سطحو ں پر کام کر رہے تھے تاکہ انہیں ایسے طلبہ کے بارے میں حساس بنا سکوں جو کلاس روم میں جدو جہد کرتے ہیں مگر پھر بھی حسب توقع کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ان اکائیوں میں معذوری کے مختلف زمرات اور ان کی خصوصیات کے بارے میں اطلاع شامل تھی۔ اور یہ اکائیاںمختلف شعبوں کے اساتذہ کے لیے تیار کی گئی تھیں جیسے زبان پڑھانے والے اساتذہ کی اکائی ، سائنس اور ریاضیات کی اکائی وغیرہ۔ پرائمری ، مڈل اسکول اور ہائی اسکول کے اساتذہ کے لیے اکائیاں الگ الگ تھیں۔

 میں نے معذور طلبہ کے لیے خصوصی تعلیمی پروگرام بھی شروع کیا۔اس میں ان کے لیے مہارت کو مہمیز کرنے والے پروگرام کے تحت دو بدو تعلیم فراہم کرنا بھی شامل تھا۔ 

 اگلا قدم کلاس روم میں بہتر کارکردگی کے لیے طلبہ کو اہل بنانے کی غرض سے زیادہ لچکدار نصاب تیار کرنے میں اساتذہ کی مدد کرنا تھا۔اس میں مہارت کو مہمیز کرنے والے ایسے طریقوں کی تربیت شامل تھی جن کا استعمال کلاس روم میں کیا جا سکے۔اس کے علاوہ ان میں برتاؤ سے متعلق ایسی حکمت عملیاں بھی شامل تھیں جو اچھی کارکردگی نہ کرنے والوں کو تحریک دیں۔ان میں ایسی رہائشیں بھی تھیں جہاں رہ کر طلبہ کے بارے میں تخمینہ لگایا جاسکے مگر اس سے اس عمل کے معیار پر کوئی حرف نہ آئے۔

 میں نے اس کے علاوہ تربیتی پروگرام بھی منعقد کیے ہیں جن میں ایک سے زیادہ سطح پر ذہانت کا امتحان لیا جاتا، انعام کے اثرات اور مثبت نفاذ کا جائزہ لیا جاتا اور جنسی مساوات کی بات کی جاتی تاکہ اساتذہ اپنے طلبہ کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ اسی کے ساتھ میں نے اچھی کارکردگی نہ کرنے والے طلبہ کے والدین کے ساتھ بھی مل کر کام کیا تاکہ انہیں بچوں کی ضرورتوں کو سمجھنے میں مدد مل سکے اور وہ اپنے بچوں کو درست طریقےسے سہارا دے سکیں۔ 

 اکتوبر ۲۰۰۱ ء آتے آتے میں دہلی پبلک اسکول سوسائٹی (ڈی پی ایس ایس )کی نگرانی میں چلنے والے چھوٹے اسکولوں کے اساتذہ کے لیے بیداری پروگرام منعقد کرنے لگی۔ا س طور پر میں جس اسکول میں پڑھا رہی تھی اس کے علاوہ دوسرے اسکولوں میں بھی جامع تعلیم کی روایت کی بنیاد ڈالی۔

 میں نے پچھلے ۱۸ برسوں میں زیر ملازمت اساتذہ ، پرنسپل اور خصوصی مدرسین کے لیے ان گنت تربیتی پروگرام منعقد کیے تاکہ تعلیم کے شعبے سے وابستہ یہ لوگ متعلقہ اسکولوں میں جامع پروگرام نہ صرف شروع کر سکیں بلکہ اسے برقرار بھی رکھ سکیں۔

 ۲۰۱۶ ء سے میں  یونیورسل ڈیزائن آف لرننگ (یو ڈی ایل )کے نفاذ کے لیے اساتذہ کی تربیت کر رہی ہوں ۔یہ ایک نصابی طرز عمل ہے جسے ہارورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر ڈیوڈ روز اور دوسروں نے پیش کیا ہے ۔ اس کا مقصد نصاب کو اتنا لچکدار بنانا ہے کہ اس میں مختلف النوع سیکھنے والوں کی گنجائش نکل سکے۔    

اس شعبے میں آپ ۲۲ برسوں سے سرگرمِ عمل ہیں۔ اس دوران آپ نے اس میں کیا تبدیلی دیکھی ہے؟

 اس سے پہلے ، میری توجہ ایسے طلبہ کی جامعیت پر تھی جو کسی نہ کسی معذوری میں مبتلا ہوں۔پچھلے کچھ برسوں سے میں نے اپنی توجہ جدو جہد کرنے والے تمام طلبہ کو جامع اور مساوی تعلیم فراہم کرنے پر مرکوز کی ہے۔ ان میں وہ طلبہ بھی شامل ہیں جو انگریزی سیکھنے کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں ۔ اور وہ بھی جو اسکول تک پہنچنے والی پہلی نسل کے طلبہ ہیں ۔ ان کے علاوہ معاشرے کے اقتصادی اعتبار سے کمزور طبقات کے طلبہ بھی شامل ہیں اور میں اس بات کو بھی یقینی بنا رہی ہو ں کہ نصاب میں تبدیلیوں سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کا کوئی نقصان نہ ہو۔ میں نے طلبہ کو زندگی کی ہنر مندیوں کے بارے میں بھی حسّاس بنانے کی مسلسل کو شش کی ہے جس میں ان کے اپنے جذبات پر قابو پانے ، کسی طرح کے دباؤ کو جھیلنے ، موثر ڈھنگ سے مکالمہ کرنے اور ناکامیوں سے ابھرنے کی اہلیت بھی شامل ہے۔

فل برائٹ پروگرام نے آپ کی عملی زندگی پر کیسے اثر ڈالا ؟

 فل برائٹ پروگرام نے مجھ پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں ۔ اس سے نہ صرف مجھے پیشہ ورانہ اور ثقافتی اعتبار سے اپنے آفاق کو وسعت دینے کا موقع ملا بلکہ اس نے مجھے ایک سے زائد طریقوں سے مالا مال کیا ۔اس نے مجھے اس بات کا احساس دلایا کہ مجھ پر اپنے ملک کی خدمت کرنے اور خصوصی تعلیم کے شعبے میں ہاتھ بٹانے کی بھاری ذمہ داری ہے ۔

آپ نے امریکہ میں جامع تعلیم نہ صرف حاصل کی ہے بلکہ اس کا مشاہدہ بھی کیا ہے۔ کیا اس میں کوئی ایسا خصوصی عمل ہے جو آپ کے خیال میں انڈیا میں بھی کارگر ثابت ہو سکتا ہے؟

انڈیا میں کارگر ثابت ہو سکنے والے کچھ عوامل مندرجہ ذیل ہیں:

٭  خصوصی اور عمومی مدرسین کے درمیان ربط ضبط۔

٭  لچکدار اورایسا نظام جس تک سب کی رسائی ہو۔

٭  امریکہ میں جو چیز کریئر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن (سی ٹی ای )کہلاتی ہے اسے انڈیا میں ووکیشنل / پروفیشنل ایجوکیشن کہا جاتا ہے۔ سی بی ایس ای نے ایسے بہت سارے کورس شروع کیے ہیں مگر تمام اسکول اپنے طلبہ کو یہ متبادلات فراہم نہیں کرتے۔ پیشہ ورانہ کورسیز کے مقابلے تعلیمی کورسوں کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے ۔

 انڈیا میں سی بی ایس ای نویں جماعت سے  سی ڈبلیو ایس این (خصوصی ضرورتوں والے بچے )کے لیے متبادل مضامین کی پیش کش کرتا ہے۔ یہ مضامین ریاضی اور سائنس کے بدلے میں پڑھے جا سکتے ہیں کیوں کہ یہ دونوں معذوری میں مبتلا طلبہ کے لیے چیلنج بھرے ہوسکتے ہیں ۔ ان متبادل مضامین سے طلبہ کو انڈر گریجویٹ سطح پر ڈگری یا ڈپلومہ کی تعلیم حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔یہ لچک امریکہ میں نہیں ہے۔ یہ ہند کے نظامِ تعلیم کا ایک قابلِ تعریف پہلو ہے۔

جامع تعلیم کو آسان بنانے میں تکنیک نے کیا کردار ادا کیا ہے؟

 جامعیت کی راہ ہموار کرنے میں تکنیک ایک بڑی نعمت ہے۔ہم نے کم درجہ کی معاون تکنیک جیسے پنسل پکڑنے کی مشین سے شروعات کی ہے اور کلاس روم میں اسمارٹ تفاعلی بورڈ تک لگا لیے ہیں جن سے ہر قسم کے طلبہ کو سمعی اور بصری مواد فراہم ہو سکتا ہے۔ مستقبل قریب میں  فلپڈ کلاس روم  دستیاب ہوں گے اور انٹرنیٹ کا استعمال کیا جائے گا تاکہ تدریس تیز رفتار ہو ۔ اس سے طلبہ کی جانچ پرکھ آسان ہوگی اور جامعیت کی راہ ہموار ہوگی۔

نتاشا مِلاس نیویارک سٹی میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط