مرکز

کاروباری پیشہ ور بننے کا نسخہ

فنِ طباخی سے متعلق بین الاقوامی کاروباری پیشہ ورکھانے پکاتے ہیں، اس میں قابلیت پیدا کرتے ہیں اور تعاون اور دوستی کے پُل کی تعمیر کرتے ہیں۔ 

فنِ طباخی سے متعلق جنوب ایشیائی اور امریکی کاروباری پیشہ وروں نے معاہدوں یا کاروباری سمجھوتوں کی بدولت نہیں بلکہ ذائقے دار کھانوں کی آفاقی زبان کے ذریعے ایک نیٹ ورک کی تشکیل کی خاطر مئی ۲۰۱۹ ء میں کولکاتہ کا دورہ کیا۔ 

کولکاتہ کے امریکی قونصل خانہ کے قونصل جنرل نے فن طباخی سے متعلق ان ۲۲ کاروباری پیشہ وروں یعنی طباخوں ، ریستوراں مالکوں اور کھانے پینے کی صنعت سے وابستہ دیگر تخلیقی صلاحیت کے لوگوں کا  فوڈ ڈپلومیسی: اے رسیپی فور انٹرپرینر شپ میں خیر مقدم کیا ۔ ایک جامع اور کئی روز تک جاری رہنے والے اس پروگرام کے شرکاء کا تعلق انڈیا ، بنگلہ دیش ، نیپال اور سری لنکا سے تھا۔اس ورکشاپ کا اہتمام دو معروف امریکی شیف  ٹفینی ڈیری  اور  جے ڈوکوٹ کی قیادت میں کیا گیا تھا۔  

اس پروگرام میں مختلف طرح کی چیزیں تھیں جن میں نمائشیں ، پینل ڈسکشن اور اطالیقی اجلاس شامل ہیں۔ فن طباخی سے متعلق ان تمام کاروباری پیشہ وروں کو ان کی تجارتوں کو ترقی دینے میں مددفراہم کرنے اور کھانوں سے متعلق ان کے خوابوں کو حقیقت کی شکل دینے کے ارادے کے ساتھ ان تمام اجلاس کا اہتمام کیا گیا تھا۔اس انعقاد کا مقصد کھانوں سے متعلق کاروباری پیشہ وروں کے علاقائی نیٹ ورک کو تقویت بخشنا اور کھانوں کی اقتصادی قوت کو مزید استحکام عطا کرناتھا۔ اس پروگرام کا اختتام کولکاتہ کے جے ڈبلیو میریَٹ ہوٹل میں ایک یادگار تقریب میں ہوا ۔ تقریب میں شرکاء کی ملاقات اور بات چیت اس صنعت کی نامور ہستیوں ، مالی امور سے متعلق ماہرین ، سرمایہ کاروں اور یو ایس ٹریڈ ایسو سی ایشن کے ممبران سے ہوئی۔ 

روابط کے قیام سے لے کر سرمائے کے بند و بست ، اختراع سازی سے ٹیم کی تشکیل تک بہت سارے موضوعات پر اس پروگرام میں تبادلۂ خیال ہوا۔ اس تقریب میں توجہ کا ایک اہم مرکز پائیداری تھی۔اس کے علاوہ اس چیز کے بارے میں بھی بات ہوئی کہ فن طباخی سے متعلق دنیا بھر کے کاروباری پیشہ ور اس کی مدد کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔

اس پروگرام میں شرکت کرنے والے ایک شخص ورون گزدر کہتے ہیں ’’ تمام شرکاء نے اپنے اپنے اداروں میں اور مجموعی طور پر اس صنعت میں زیادہ پائیدار طریقوں کو اختیار کرنے اور اس پر عمل کرنے کا عہد کیا ۔ اس کی بعض مثالوں میں پلاسٹک سے کاغذ کے پیالوں کی طرف منتقلی ہے جس میں پلاسٹک کے اسٹرا کی جگہ کاغذ کے اسٹرا، پلاسٹک کی پلیٹ ، رکابیوں اور کیری بیگ کے استعمال کی بجائے جہاں تک ممکن ہو ان سامانوں کے دوبارہ استعمال کی ترغیب اور کھانے پینے کے سامانوں کی کم بربادی اور شمسی توانائی کا استعمال شامل ہے۔‘‘

گزدر ریاست جھارکھنڈ کے صنعتی شہر جمشید پور میں کیفے ریگل چلاتے ہیں ۔  انہوں نے اپنے ایک  فوڈ بلاگر دوست سے  فوڈ ڈپلومیسی پروگرام کے بارے میں سنا اور پھر اس کے لیے درخواست دی۔وہ کہتے ہیں ’’ پروگرام ہم خیال لوگوں کے لیے تھا اور ان کے ہی مطابق تیار کیا گیا تھا ۔ مجھے اپنے پیشے سے متعلق نئے لوگوں سے ملنے اور مشترکہ تجربات کے ذریعے اپنے افق کومزید وسعت دینے کااشتیاق تھا۔ ‘‘

سَوسی جو کے نام سے غذائی مصنوعات کی تجارت کرنے والے خانساماں اور ناگالینڈ میں سلو فوڈ سسٹینبیلیٹی موومینٹ کے قائد جوئل باسو ماتاری اس پروگرام کے دوسرے شریک کار تھے۔وہ اس پروگرام میں شرکت سے پہلے گرچہ خود بھی فن طباخی کے ایک معروف کاروباری پیشہ ور تھے مگر اس پروگرام کے لیے چنے جانے اور ناگالینڈ کی نمائندگی کرنے اور سیکھنے کا زبردست موقع ملنے سے انہیں فخر کا احساس ہوا۔ 

وہ کہتے ہیں ’’پہلی نسل کا کاروباری پیشہ ور ہونے کی وجہ سے میں اس پروگرام سے حاصل علم کو مشترک کر نا چاہتا تھا اور اس تربیت کو میں اپنی روزمرہ کی زندگی میں استعمال کرنا چاہتا تھا۔یہ سیکھنے کا بالکل نیا تجربہ تھا اور اس نے سخت محنت اور رابطہ سازی کی اہمیت کو سمجھنے میں حقیقی طور پر میری مدد کی۔ اس سے مجھے منصوبہ بندی ، تنظیم سازی اور رابطہ سازی میں مضبوط ہونے اور بازار کی تحقیق میں بہتر ہونے میں بھی میری مدد کی۔ ‘‘

گزدر اس پروگرام کے اجلاس کو انتہائی تفاعلی قرار دیتے ہیں کیوں کہ اس میں وسیع مذاکرات کے اور سیکھنے اور اشتراک کے اجتماعی مواقع ملے۔ حقیقی مسائل اور کام کی پیش رفت پر ہم لوگوں نے حواشیوں اور یاد داشتوں کے بھی تبادلے کیے اور مسائل کے حل تلاشنے کے علاوہ ان کا اشتراک کیا ۔ اس صنعت کی معروف ہستیوں سے سیکھنے اور اپنے ساتھیوں سے خیالات کے تبادلے نے کیفے کے روز مرہ کے اہتمام کو بالکل ایک نئی جہت دے دی۔ ‘‘

باسو ماتاری بھی شرکاء کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی انفرادیت کی تصدیق کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں ’’ بہت سارے کاروباری پیشہ وروں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کاروبار اور اخلاقیات میں ایک دوسرے کی مدد کے لیے کافی اہم ہے۔‘‘

گزدر فن طباخی کے ذریعہ کی جانے والی سفارت کاری کے تصور (یعنی پروگرام کی نظریاتی بنیاد ) کوثقافتی سفارت کاری قرار دیتے ہیں جو کھانوں کی مشترکہ محبت کے معاملے پر لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر لاکھڑا کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’ اس کی بنیادی بات یہ ہے کہ دلوں اور دماغوں کو جیتنے کا آسان ترین راستہ شکم سے ہو کر جاتا ہے۔ یہ اہم ہے کیوں کہ بات چیت اور تعاون کی بہتری کی امید میں مختلف ثقافتوں کی سمجھ کے لیے یہ کھانوں کو اور طباخی کو ایک آلے کی طرح استعمال کرتا ہے۔‘‘ 

شرکا ء نے فن طباخی سے متعلق کاروباری پیشہ وری کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں جانا ۔ گزدر کہتے ہیں ’’جے نے ہمیں انگیٹھی پر کھانا بنانے کے مختلف طریقوں اور ماحولیاتی اثرات اور اختراع سازی سے روشناس کرایا اور ٹفنی نے ہمیں کسی خیال کی مختصر وضاحت اور کاروبار کو وسعت دینے کے طریقوں کی جانکاری دی۔‘‘

سیکھنے کا عمل دونوں جانب سے انجام پایا۔کولکاتہ کے امیریکن سینٹر کے اس وقت کے ڈپٹی ڈائریکٹر  جے ٹریلور کے ساتھ بات چیت میں ڈیوکوٹ کہتے ہیں ’’ ہم لوگوں نے بارہا دیکھا کہ جن چیزوں کو ہم محسوس کرتے ہیں وہ اس وقت امریکہ اور انڈیا دونوں میں زیر بحث موضوعات ہیں۔ یہ وہ یکساں چیزیں ہیں جن کے بارے میں لوگ یہاں بھی معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں خواہ وہ پائیدار ماہی پروری ہو یا مقامی کسان کی حمایت کی حقیقی کوشش۔ یہ واقعی ثابت کرتا ہے کہ کھانا ایک آفاقی زبان ہے۔‘‘

اگر اس پروگرام سے ملنے والے اشارے کی بات کریں توفن طباخی کے ذریعے کاروباری پیشہ وری کی تشہیرکسی امید افزا نظریے سے بڑھ کر ہے ، تو یہ حقیقی دنیا کے نتائج پیش کر تا ہے۔ مثال کے طور پر گزدر اور باسو ماتاری، دونوں ہی باسوما تاری کے ذریعے ڈیزائن کردہ اورمقامی طوپر ناگالینڈ کے دیہاتی لوگوں کے ہاتھوں تیار مصنوعات کی تشہیر کے لیے مل کر کام کرتے ہیں۔ گزدر کہتے ہیں کہ باسوماتاری شمال مشرقی ہند کی طرز طباخی کو فروغ دینے کے لیے جلد ہی ان کے شہر کا دورہ کرنے والے ہیں۔ اور یہ تو ابھی ایک شروعات ہے۔

فن طباخی سے متعلق خواہش مند کاروباری پیشہ وروں کے لیے باسو ماتاری مشورہ دیتے ہیں: مستقل مزاجی، سخت محنت اور عزم مصمم کے ساتھ ہر چیز ممکن ہے۔ میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ آپ جو بھی کام کرتے ہیں اس میں جذبہ ہونا چاہئے اور اسے اخلاص کے ساتھ کیا جانا چاہئے ۔ اگر آپ صرف پیسوں کے پیچھے دوڑتے ہیں تو آپ زندگی بھر اس کے پیچھے ہی بھاگتے رہیں گے۔ اور اگر آپ کو واقعی کامیاب ہونا ہے تو آپ کو حسد اور انا سے گریز کرنا ہوگا۔‘‘

گزدر مزید کہتے ہیں کہ فن طباخی سے متعلق کسی کاروبار کو فروغ دینا یا کامیاب شیف ہونا انتہائی فائدہ مند ہو سکتا ہے لیکن یہ کوئی دلفریب یا سحر آگیں کام نہیں ہے ۔ وہ کہتے ہیں ’’ اس میں کافی دیر تک کام کرنے کی اور سخت محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں آپ کی ٹیم آپ کا کنبہ بن جاتی ہے۔ کسی بھی دوسری صنعت کی طرح اس میں بھی اتار چڑھائو آتے ہیں۔ آپ کو بردبار، حلیم اور محرک ہونا پڑے گا اور آپ کو درپیش ہر نئے چیلنج سے سیکھنا پڑے گا۔‘‘

 

 مائیکل گیلنٹ، گیلنٹ میوزک کے بانی اور سی ای او ہیں ۔ وہ نیویارک سٹی میں رہتے ہیں ۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط