مرکز
1 2 3

مذہب کی تدریس

ورُن سونی یونی ورسٹی آف سا ؤدرن کیلی فورنیا میں ڈین آف ریلیجیَس لائف ہیں۔ اس مضمون میں وہ مذہبی تعلیم و تدریس کے اپنے تجربات بیان کر رہے ہیں۔ 

امریکی یونی ورسٹیوں میں اسکولس آف ریلیجنس کی موجودگی کا مقصد طلبہ میں مذہبیات ، بین مذہبی مذاکرات ، تنوع اور رواداری کو فروغ دینا ہے۔ یونیورسٹی آف سدَرن کیلی فورنیا بھی اسی طرح کا ایک ادارہ ہے۔ ورُن سونی اسی تعلیمی ادارہ کے ڈین آف ریلیجیَس لائف ہیں۔ وہ ایک عوامی خطیب،مذہبیات کے عالم اور قومی بین مذہبی راہنما ہیں۔

سونی کی ڈاکٹورل تحقیق کا موضوع مذہب ، ٹیکنالوجی اور عوامی ثقافت تھا۔انہوں نے معروف روحانی پیشواوٰں کے ساتھ متعدد پروگراموں کا انعقاداور میزبانی کی ہے۔ان کے کئی مقالات اور تبصرے مطبوعہ اور آن لائن اشاعتوں کی زینت بن چکے ہیں ۔ پیش ہیں ان سے انٹرویو کے اقتباسات۔

کیا آپ اپنے کام اور  یونیورسٹی آف سدَرن کیلی فورنیا میں ڈین آف ریلیجیَس لائف کے متعلق تفصیل سے  بتائیں گے؟ 

اس کے لازمی معنی یہ ہوئے کہ میں یونیورسٹی کا مذہبی اور روحانی اعلیٰ افسر ہوں ۔ میرا کام اپنی کمیونٹی کی روحانی زندگی میں معاونت کرنا ہے۔ ہمارے یہاں اس وقت ۹۰ سے زیادہ طلبہ مذہبی گروپ ہیں جو ہر عقیدہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ 

یو ایس سی اسکول آف ریلیجن ایک تدریسی شعبہ ہے جس میں اساتذہ مذہب کا تقابلی مطالعہ کرتے ہیں ۔ میں شعبے میں بحیثیت اسکالر پڑھاتا ہوں مگر اصل میں میں  آفس آف دی ریلیجیَس لائف کا سربراہ ہوں ۔ اسکول آف ریلیجن میں طلبہ مذہب کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس میں میجر کرتے ہیں۔ مگر  آفس آف دی ریلیجیَس لائف  میں آپ مذہب پر عمل کرتے ہیں۔

آپ کو مذہبیات کے استاد بننے کی ترغیب کہاں سے ملی؟ 

یہ میرے لیے ایک عجیب و غریب راہ تھی۔ میرے گھر میں ۱۱ ڈاکٹر ہیں۔ میرے خیال میں جس امر نے مجھے اس طرف کھینچا وہ یہ تھا کہ شاید میں اس بات سے قطعاً بے خبر تھا کہ امریکہ میں بحیثیت ایک ہندو یا ہندوستانی کے پلنے بڑھنے کے کیا معنی ہیں ۔ جب میں امریکہ میں ہوتا توخود کو ایک ہندوستانی تصور کرتا اور جب انڈیا میں ہوتا تو اپنے آپ کو ایک امریکی تصور کرتا تھا۔یہ سب کچھ میرے لیے منصوبہ بند نہیں تھا۔ میرے والدین کی خواہش تھی کہ میں ڈاکٹر بنوں یا پھر سائنسداں ۔ انہوں نے میرے لیے یہ خواب نہیں دیکھا تھا ۔مگر میں نے مختلف راہ چنی۔ 

ایسے طلبہ کے لیے روزگار کے کیا امکانات ہیں جو مذہبی مطالعہ جات کا انتخاب کرتے ہیں ؟

جو لوگ مذہبیا ت میں پی ایچ ڈی کرتے ہیں اُن میں سے بیشتر مذہبیات کے استاد بنتے ہیں ۔ لیکن اگر آپ نے مذہبیات میں انڈرگریجیوٹ میجر کیا ہے تو آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔میرے طالب علم جنہوں نے مذہبیات میں میجر کیا ہے وہ قانونی اداروں اور طبی اداروں میں گئے ہیں ۔وہ انجینئر ، کارکن ، موسیقار ، آرٹسٹ اور پروفیسر بنے ۔ میرے خیال میں مذہب کو سمجھنا گویا دنیا کو سمجھنا ہے۔  

کیا آپ ثقافتی اور مذہبی طور پر متنوع معاشرے میں بین مذہبی مذاکرات کے رول پر تفصیلی روشنی ڈالیں گے؟

جب ہم تنوع کی بات کرتے ہیں تو ہم اکثر اس کے فائدے کی بات کرتے ہیں ۔مگر میرے خیال میں تنوع کے معنی بنیادی معاملات میں گہرے اختلاف کے بھی ہیں ۔ اور مذہب کا تو معاملہ ہے ہی بنیادی امور کا ۔ لہٰذا اگر ایک ثقافتی اور مذہبی طور پر متنوع معاشرہ جس میں ایک طرح کا معاشرتی سرمایہ ہوتا ہے ، اس میں آپ بین مذہبی مذاکرات کر رہے ہیں تو اس سے یقیناََ اعتماد سازی ہوتی ہے۔ نوجوان طبقہ میں بین مذہبی مذاکرات کی اہمیت یہ ہے کہ اس سے ان کو غور و خوض کی ایک نئی راہ ملتی ہے۔ اس وقت امریکہ میں نوجوان طبقہ مذہب بیزار ہوتا جا رہا ہے۔ان حالات میں بین مذہبی مذاکرات تنازعہ کے حل میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط